ریاست مدینہ کے دعویدار اور ان کی اصلیت* تحریر: خوشحال خان
*ریاست مدینہ کے دعویدار اور ان کی اصلیت*
تحریر: خوشحال خان
2013 میں پی ٹی آئی نے تبدیلی اور ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر پہلی بار خیبرپختونخوا میں حکومت قائم کی، اور اب یہ تیسری دفعہ ہے کہ پی ٹی آئی لگاتار خیبرپختونخواہ میں حکومت بنا رہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے خیبرپختونخواہ میں تبدیلی سرکار کے 12 سال یہاں کی عوام کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے ہیں۔
خیبر پختنخواہ میں کرپشن کا بازار گرم ہے. کمیشن و رشوت دیے بغیر کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخواہ میں کاروبار تباہی کی طرف گامزن ہے اور کاروباری طبقہ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
اس کی تازہ مثال حال ہی میں مردان کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) میں ہونے والی بدعنوانیوں کی رپورٹ ہے جس نے پی ٹی آئی کے طرزِ حکمرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
631 اسٹریٹ لائٹس کی خریداری اور تنصیب کے لیے دیے گئے کنٹریکٹ میں صرف 170 نصب کی گئیں لیکن بدقسمتی سے وہ بھی غیر معیاری نکلے۔اس معاہدے میں ٹھیکےکی کل لاگت 50 ملین روپے تھی جس میں من پسند ٹھیکیدار کو 31 ملین روپےبطور ایڈوانس ادا کیے گئے، جو معاہدے کے برخلاف تھا جس کی وجہ قومی خزانے کو 19 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
مزید برآں مالی سال 2021-22 میں 171 واٹر کولرز خریدے گئے، مگر صرف 132 نصب کیے گئے۔ یاد رہے اس منصوبے کی مجموعی لاگت 10 ملین روپے تھی، جو ایشین ڈویلپمنٹ گرانٹ کے تحت دی گئی تھی۔ اس میں ٹھیکیدار کو 7.77 ملین روپے ادا کیے گئے تھے، اس طرح قومی خزانے کو 3 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔
اسی طرح اگر تعلیم کے میدان کی بات کی جائے تو ان 12 سالوں میں خیبرپختونخوا حکومت نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے تعلیم کے میدان میں شاندار کارگردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔ خیبرپختونخوا میں 34 میں سے 26 یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز ہی موجود نہیں۔ ان میں سے پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے 4 یونیورسٹیز کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح ، خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے سرکاری سکولوں میں انقلابی اقدامات کیے لیکن بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ سرکاری سکولوں کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں 2032 سکولز چار دیواری سے محروم ہیں جبکہ 2414 سرکاری سکولز ایسے ہیں جن میں بجلی کا نام و نشان تک ہی نہیں ہے۔
1449 سرکاری سکولز پانی تک کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں جبکہ 1317 سکولوں میں واش رومز تک نہیں ہیں اور ان میں 516 ایسے سرکاری سکولز ہیں جن میں بچے بغیر چھت کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اسی طرح خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولوں میں 77 میں سے 73 فیصد بچے اعلٰی تعلیمی معیار کی وجہ سے میٹرک سے قبل سکولز چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
مزید برآں ، گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں خیبرپختونخوا میں ہونے والی مالی بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کے بارے میں تفصیلات سامنے آئیں جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2800 ارب روپے کی سنگین مالی بے قاعدگیاں منظر عام پر آگئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق بھرتیوں میں 1885 ارب روپے کا نقصان بےقاعدگیوں کی وجہ سے ہوا، اسی طرح ٹیکس، ڈیوٹی، خریداری اور خدمات کے شعبے میں 283 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ہوئیں۔
مختلف محکموں جیسے خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی، محکمہ کھیل، سیاحت، محکمہ صحت اور دیگر میں مالی بے قاعدگیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
خیبرپختونخوا کی حالیہ آڈٹ رپورٹ میں بھی صوبے میں دھوکہ دہی، بدانتظامی اور بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی خزانے کو 152 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 13 کروڑ 29 لاکھ روپے کی فراڈ ادائیگیاں کی گئیں۔ اسی طرح 51 کروڑ 46 لاکھ روپے کی مشکوک اور دھوکہ دہی کی ادائیگیاں بھی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں جبکہ 84 ارب 83 کروڑ روپے کے معاملات میں ترقیاتی اخراجات کی غلط درجہ بندی کی گئی۔ 80 لاکھ روپے سے زائد کی گاڑیوں کی گمشدگی اور غلط استعمال کا نوٹس لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی میں 3 ارب 52 کروڑ روپے کی ادائیگیاں غیرقانونی طور پر رکھی گئیں اور 28 ارب روپے اضافی طور پر ادا کیے گئے، 10 ارب روپے پنشن فنڈ انویسٹمنٹ اکاؤنٹ سے غلط طریقے سے منتقل کیے گئے اور 14 ارب روپے کی بے قاعدہ ادائیگیاں کی گئیں۔
تبدیلی سرکار کے ان 12 سالوں میں جہاں باقی محکموں میں کرپشن کے سکینڈلز منطر عام پر آئیں ہیں اسطرح صحت کے شعبے میں بھی بے تحاشا کرپشن کے سکینڈلز منظر عام پر آچکے ہیں۔ جن میں پی ٹی آئی کی حالیہ حکومت میں محکمہ صحت میں کروڑوں روپے کے میڈیکل دستانے کی خریداری میں 638 ملین روپے کے کرپشن کا سکینڈل سامنے آیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، سرکاری انوینٹریوں میں درج دستانے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) کے اسٹورز سے غائب ہیں۔
اسی طرح نومبر 2023 میں حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات خریدی جائے گی۔ اس ضمن میں 4 ارب 44 کروڑ روپے سپلائی آرڈر جاری کیا گیا جن میں سے چار ارب روپے سے زائد کی ادویات کاغذات کی حد تک ہسپتالوں کو سپلائی کی گئی۔ لیکن فزیکل ویریفیکیشن کے دوران پتہ چلا کہ ایک ارب 90 کروڑ 45 لاکھ روپے کی ادویات سرکاری ہسپتالوں کو کاغذات کی حد تک تو دی گئی ہیں البتہ عملی طور پر کچھ نہیں دیا گیا۔
صرف چھ اضلاع کو تقریباً ایک ارب نو کروڑ کی سپلائی کی گئی ہے اور ان میں سے صرف تین اضلاع :شمالی وزیرستان باجوڑ اور پشاور کو 91 کروڑ کی ادویات کاغذات کی حد تک سپلائی ہوئی۔
اگر خیبر پختونخوا میں کرپشن کی بات کی جائے تو بلین ٹری سونامی پروجیکٹ میں کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یاد رہے عمران خان کی ہدایت پر 2014 میں خیبرپختونخوا حکومت نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کا آغاز کیا۔
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ کے پی حکومت نے چند مہینوں میں 1.18 ارب درخت لگائے اور اُگائے ہیں۔ لیکن کے پی کے سرکاری دستاویزات کے مطابق اس تعداد کا تقریباً 65 فیصد درختوں کی قدرتی افزائش کے زمرے میں شمار کیا گیا۔ 20 فیصد (تقریباً 24 کروڑ) درخت اصل میں لگائے گئے، جبکہ 13 فیصد عوام میں مفت تقسیم کیے گئے، جن کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں کہ انہیں لگایا گیا یا نہیں۔
تاہم، پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں اس منصوبے میں 3.493 ارب روپے کی بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملی ہیں اور تقریباً 1.25 ارب روپے کے اخراجات کو فضول، غیر قانونی اور غیر ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت نے ہیومن ریسورس / ایمپلائمنٹ کی مَد میں 1885 ارب روپے کا غبن کیا گیا ہے۔
یہاں پر خیبرپختونخوا حکومت کے ہر محکمے کی کارگردگی کا جائزہ لینا اور ان کرپشن کی داستان لکھنا انتہائی مشکل ہے لیکن یہ بات صاف ذاہر ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 12 سالوں میں حکومت نے عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔
*نوٹ: مضمون نگار گزشتہ 8 سال سے خیبرپختونخوا میں صحافت سے وابستہ ہے*
Kkhushal332@gmail.com