ٹھٹھہ جھرک شہر میں پینے کے پانی کی قلت کے خلاف شہری سراپا احتجاج
ٹھٹھہ
جھرک شہر میں پینے کے پانی کی قلت کے خلاف شہری سراپا احتجاج
تفصیلات کے مطابق جھرک شہر میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے، جماعت اسلامی اور جئے سندھ محاذ کی قیادت میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جہاں حکومت اور متعلقہ حکام کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
مظاہرے میں بڑی تعداد میں شہریوں، طلبہ، بچوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے، جن پر درج تھا: “پانی نہیں کیوں بھلا – کربلا کربلا”, “جھرک واٹر سپلائی اسکیم کے کرپٹ ٹھیکیدار کے خلاف انکوائری کرو”, اور “کرپشن بند کرو – پانی فراہم کرو”۔
غلام شفیع سموں کا کہنا تھا کہ:
“ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، لیکن یہاں پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی میسر نہیں۔ حکمران عوام کے وسائل پر عیاشیاں کر رہے ہیں، لیکن ہم اب خاموش نہیں بیٹھیں گے!”
امجد شورو، جئے سندھ محاذ کے رہنما نے کہا کہ:
“جھرک واٹر سپلائی اسکیم کے لیے چار کروڑ روپے مختص کیے گئے، لیکن وہ بھی کرپشن کی نذر ہوگئے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اسکیم میں ہونے والی کرپشن کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے!”
احتجاج کرنے والے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جھرک واٹر سپلائی اسکیم کو فوری طور پر مکمل کر کے شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جائے، اور اسکیم میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کر کے غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے، تو احتجاج کا دائرہ بڑھا کر قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جائے گا۔