*دجال باؤلا ہوگیا
*دجال باؤلا ہوگیا
نیتن یاہو نے آج جنوبی شام سے نئی حکومت کے فوجیوں کو مکمل طور پر نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے قبل اس نے کہا تھا کہ بشار الاسد کے نظام کا سقوط مشرق وسطیٰ کے نقشے کو بدلنے کا سبب بن گیا اور یہ ہمارے حق میں نہیں تھا۔
اس نے کہا کہ اسرائیل شام کی جنوبی دمشق کے علاقوں میں شامی فوج یا جیش الفتح (تحریر الشام) کے دستوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
اسرائیل جنوبی شام میں دروز کمیونٹی کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور ان کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔
اسرائیلی سربراہ نے مزید کہا کہ 8 دسمبر کو بشار الاسد کے نظام کا خاتمہ اسرائیل کے حق میں نہیں تھا۔
ہمیں بشاری نظام کے گرنے پر خوشیاں نہیں ملیں۔
اب ہم یہ نہیں چاہیں گے کہ شامی اراضی ہمارے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہو۔
ہم اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ شام اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہ بنے۔
1967 ء سے اسرائیل نے شام کی بیشتر گولان کی بلندیوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور بشاری حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شامی سرحد کے ساتھ عارضی علاقے کی وسیع پیمانے پر قبضہ کیا اور فضائی حملوں کے ذریعے شامی فوجی مراکز اور اسلحہ کو تباہ کیا۔
نیتن یاہو کا یہ بیان شامی میڈیا پر بھی چل رہا ہے۔ لیکن شامی حکومت کی جانب سے اب تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم چند روز قبل شامی صدر نے اسرائیل سے شامی علاقے چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی طیاروں نے آج لبنان کے کئی جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔
فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جبکہ حسن نصر اللہ کے جنازے کے موقع پر بھی اسرائیلی طیاروں نے جنازہ گاہ کے اوپر نچلی پروازیں کیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے صحرائے سینا میں مصری فوجی جاری مشقوں اور نقل و حرکت کی بھی مذمت کرکے اسے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی صریح خلاف وزری قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد حال ہی میں سبکدوش ہونے والے اسرائیلی آرمی چیف جنرل ہاليفی کا کہنا ہے کہ ہمیں جنگ میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے بے لگام گھوڑے کی طرح نہیں دوڑنا چاہیے۔
سیکورٹی کی ضرورت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تعداد میں فوراً نفری بھرتی کریں۔