خان صاحب کی حکومت کو ناکام کرنے کے لئے کمپنی پہلے دن سے کس قدر جدوجہد کر رہی تھی ، ساڑھے تین سال حکومت چلانا ہی نہیں، معیشت کو پاوں پے کھڑا کرنا ، غربت مہنگائ کم کرنا بلاشبہ خان صاحب کے کارنامے ہیں،
#پنڈی_کے_بدمعاش
—–‘
باجوہ نے اپریل 2019 میں ہم سے رابطہ کر کے خان کی حکومت گرانے کا کہا۔ اب اس بات کو نیچے درج آپ بیتی کے ساتھ جوڑ کر سوچئیے
آج کوآلا لمپر میں Skillet KL ریسٹورینٹ میں دوپہر کے کھانے پر ایک دوست کے توسط سے پاکستان کے ایک سابق بیورو کریٹ سے ملاقات ہوئی
موصوف نے انتہائی دلچسپ آپ بیتی سنائی، مگر میں آپ کے ساتھ ساری گفتگو کا ایک چھوٹا سا حصہ شیئر کرتی ہوں
صاحب فرماتے ہیں کہ 2021 میں پنجاب کے کسی شہر میں میری ڈیوٹی تھی، (شہر اور ادارے کا نام میں نہیں بتا رہی)، خیر تو کہتے ہیں کہ ہماری ڈیوٹی سرکاری ادارے میں پبلک ڈیلنگ کی تھی، یعنی ہم ادارے میں آنے والے عوام کے مسائل براہ راست سنتے تھے اور اُنکو مسائل کے حل کے مشورے دیتے تھے
کہتے ہیں کہ مارچ 2021 میں ہمیں ہمارے ادارے کے بڑوں کی طرف سے سخت احکامات آئے کہ جب تمہارے سامنے عام آدمی اپنا مسئلہ لیکر آئے تو اُس پر غُصہ کرو، اُسکو حل بتانے کے بجائے جگہ جگہ ذلیل کرواؤ اور ساتھ یہ بھی کہو کہ وفاقی حکومت (عمران خان) کی وجہ سے سارے مسائل ہیں( کرپشن کا کیس کر دیتے) تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی جا سکے کہ غریب عوام پر عمران خان نے زمین تنگ کردی ہے
مزید فرماتے ہیں کہ ہم نے قریب نومبر 2021 تک ایسے ہی کام جاری رکھا، اور عوام کے ذہنوں میں ہم یہ سوچ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے کہ سادہ سے مسئلے کو انتہائی پیچیدہ کرنے میں صرف وفاقی حکومت کا ہاتھ ہے
مزید کہتے ہیں کہ دسمبر میں ہم ایک میٹنگ میں بیٹھے تھے، ہمارے ادارے کے بڑے بھی میٹنگ میں موجود تھے تو ہم میں سے کسی جونئیر افسر نے پوچھا کہ سر جو احکامات آپ نے دیئے ہیں یہ بہت غلط ہیں، عام آدمی تو بیچارہ خوار ہوکر رہ گیا ہے، تو کہتے ہیں کہ میٹنگ میں موجود ہمارے بڑے نے فرمایا کہ “یار بس چلنے دو، ہمارے سر پر “ڈنڈا” ہے، ساری بیورو کریسی باجوہ کنٹرول کر رہا ہے”
بشکریہ ڈاکٹر حمنہ احمد