77

حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ ان لوگوں سے الجھ سکے اسی طرح اور بہت سے علاقے ہیں مثلاُ سرجانی ٹاؤن جہاں لوگوں نے پہاڑوں پر قبضہ کر کے مکانات بنا لیئے ہیں نیچے سے بجلی کی تاریں کھینچ کر اوپر پہاڑوں تک لے گئے ہیں اور مفت بجلی وصول کر رہے ہیں نہ پولیس کچھ کرپاتی

حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ ان لوگوں سے الجھ سکے اسی طرح اور بہت سے علاقے ہیں مثلاُ سرجانی ٹاؤن جہاں لوگوں نے پہاڑوں پر قبضہ کر کے مکانات بنا لیئے ہیں نیچے سے بجلی کی تاریں کھینچ کر اوپر پہاڑوں تک لے گئے ہیں اور مفت بجلی وصول کر رہے ہیں نہ پولیس کچھ کرپاتی ہے نہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے جو بھی گیا پٹ کر آیا اسلحہ دیکھ کر جان بچانے کو ہی ترجیح دی لہٰذا اس کا خمیازہ آس پاس موجود علاقوں کے رہائشیوں کو بھگتنا پڑتا ہے جن کا کوئی قصور نہیں ان کے علاقے کی بلنگ بھی پوری ہوتی ہے لیکن ان چوریوں کی وجہ سے حکومت ان کی لوڈشیڈنگ کر کے اپنا نقصان پورا کرتی ہے جس پر آجکل پاکستانیوں نے ایک سراپہ احتجاج بلند کیا ہوا ہے جو بلکل جائز بھی ہے جب ان کے علاقے کی بلنگ پوری ہے تو ان کو اس ناکردہ چوری کی سزا کیوں بھگتنی پڑتی ہے لوگ احتجاج کرتے ہیں باقاعدہ ان لوگوں کو احتجاج کے لیئے وقت اور لوکیشن مہیاء کی جاتی ہے مقرر کردہ وقت پر پولیس ، ایمبولینس اور میڈیا بھی موجود رہتا ہے باقاعدہ راستہ بلاک کردیا جاتا ہے اور ان تین چار گھنٹوں کے لیئے جو اس احتجاج والے علاقے میں ہوتا ہے وہ وہیں پھنس جاتا ہے کیونکہ ہر طرف سے راستہ بند کردیا جاتا ہے ٹریفک مکمل جام لیکن یہ صرف چند گھنٹوں کے لیئے ہی ہوتا ہے احتجاج کے لیئے مہیاء کیئے گئے وقت کے ختم ہوتے ہی سب کچھ اس طرح نارمل ہوجاتا ہے جیسے وہاں کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ہو راستے کھل جاتے ہیں ٹریفک نارمل ہوجاتا ہے سڑکوں کی صفائی ہوجاتی ہے گویا احتجاج کے بعد وہاں سے گزرنے والی کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہاں کبھی احتجاج ہوا بھی تھا۔
دوستو مشکلات تو ہر جگہ ہیں پوری دنیا میں ہی ہوتی ہیں لیکن اس کے لیئے باقاعدہ طور پر درست طریقے سے کام کرنا ہوتا ہے کراچی میں اس وقت k-Electric نے ہیرؤنچی اور چوروں سے بجلی کی تاروں کی چوری اور حفاظت کے مدنظر کنسیلڈ وائرنگ کردی ہے اب کنڈا ڈالنا اتنا آسان بھی نہیں رہا جتنا کسی دور میں ہوتا تھا اب اس کنسیلڈ وائرنگ پر کنڈا ڈالنے کے لیئے آپ کو ایک کنیکٹر چاہیئے ہوتا ہے اور اس وائرنگ پر صرف k-Electric کا ہی کنیکٹر کام کرے گا اب اگر یہ کنیکٹر نہیں لگے گا تو کنڈا نہیں لگ پائے گا اور بجلی کی چوری انتہائی مشکل مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ عام مارکیٹ میں یہ k-Electric کے کنیکٹر صرف پندرہ سو روپوں میں دستیاب ہیں اور اسے خرید کر کسی الیکٹریشن کی بجائے آپ کے الیکٹرک کے لائن مین کو دو ہزار روپے پکڑائیں وہی یہ کنیکٹر باآسانی لگا کر ہمیشہ کے لیئے آپ کو بجلی کا کنڈا لگا دے گا لیکن یہ سب ان علاقوں میں ہوگا جہاں بدمعاشی آج بھی زوروں پر ہے پولیس یا بجلی فراہم کرنے والے ادارے ان علاقوں میں جانے سے کتراتے ہیں ۔

دوستو جب حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں لوڈ شیڈنگ نہ ہو تو آپ ہماری مدد کیجیئے تاکہ ان علاقوں سے ناجائز کنیکشن کاٹے جاسکیں اور آپ کے احتجاج کا حل نکل سکے لوگ سڑکوں پر آئے عوام کی طاقت کے آگے ان علاقوں کے بدمعاش مقینوں نے ہتھیار ڈالے باقاعدہ ان علاقوں کے ناجائز کنیکشن میری آنکھوں کے سامنے کاٹے گئے تین دن تک یہ علاقے اندھیروں میں ڈوبے لیکن تین دن بعد جب عوام اور پولیس اپنے گھروں کو روانہ ہوئی ان تمام علاقوں کے مقینوں نے پھر سے ناجائز کنیکشن جوڑ لیئے اور پھر سے بجلی چوری مفت کی بجلی کے مزے اب اس کا مستقل حل کیسے نکالا جائے اور کون نکالے اگر ان بدمعاشوں کو سختی سے نمٹا جائے تو خون خرابہ ہوگا اور سوشل میڈیا اس کا مدعہ بھی پاک فوج پر ڈال دے گا کہ یہ سب کچھ جو ہورہا ہے اس کے پیچھے وردی ہے لیکن یقین جانیں اس کا حل صرف سختی سے قانون کی حکمرانی میں ہی ہے اور وہ آپ سب کے بغیر آپ کی سپورٹ اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

دوستو دوسرا مسئلہ گیس اور پانی کا ہے بلکل بجلی کی طرح گیس کی بھی لوڈ شیڈنگ شروع ہوچکی ہے جب کے سوئی گیس تو ہمارے اپنے ہی ملک میں بے بہا ہے لیکن عوام کو نہ تو گیس پوری طرح دی جارہی ہے اور نہ ہی پانی حکومت گیس فراہم کرنے سے قاصر ہے لوگوں نے زمانوں پہلے پانی کھینچنے والی مشینیں لگوا لی تھیں جو ہر گھر میں ہی موجود ہیں اب گیس کے لیئے بھی لگوا لی ہیں اس کے باوجود گیس نہیں آرہی اور مجبوراُ اب گھروں میں پھر سے پرانے دور کی طرح لوگوں نے گیس سیلینڈر لگوا لیئے ہیں پانی نہ ہونے کی صورت میں باہر سے پانی کا ٹینکر منگوا کر اپنی ضرورت پوری کی جاتی ہے پینے کے لیئے تقریباُ تمام گھروں میں منرل واٹر استعمال کیا جاتا ہے فلٹرز استعمال کیئے جاتے ہیں ان تمام مسائل پر لوگ آواز ضرور اٹھاتے ہیں لیکن اپنے علاقے کے کونسلرز، ایم این اے اور ایم پی اے کو دن رات نہیں پکڑتے تاکہ وہ پارلیمینٹ میں روزانہ کی بنیاد پر پریشر بلڈ کریں اور مسئلہ کا کوئی پراپر حل نکالا جاسکے لوگ بھی وقتی طور پر باہر آتے ہیں پھر گھری نیند سو جاتے ہیں وہ ان مشکلات کے عادی اور بے حس ہوچکے ہیں اگر کراچی میں کوئی جماعت باقاعدہ طور پر کام کررہی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے لیکن اسلامی جماعت ہونے کے باعث ہمارے ملک کا نظام اس جماعت کو کبھی آگے آنے دینا ہی نہیں چاہتا چاہے وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ مر جائیں جب کے ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔

دوستو یہ حصہ انتہائی غور سے ایک محب وطن پاکستانی بن کر تمام تر سیاسی وابستگیوں سے پاک ہو کر پڑھیئے گا ایک اورسیز کی حیثیت سے جو پانچ سال بعد اپنی پاک سرزمین پر اپنی دھرتی پر پہنچا تھا پاکستان آنے سے پہلے میرے خیالات تھے کہ پاکستان رجیم چینج کرنے کے بعد مکمل طور پر تباہ و برباد کردیا گیا ہے میرے ملک کو برباد کرنے والے کوئی اور نہیں میرے اپنے ادارے میری اپنی فوج ہے اور فوج کی مختلف کاروائیاں دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر آنے والی پوسٹیں دیکھنے کے بعد یقین جانیں میرا خون کھولتا تھا مجھے نفرت آتی تھی اپنی اسی افواج سے اپنے ان تمام دوستوں سے ان بھائیوں سے مجھے لگتا تھا کہ پاکستان بس ختم ہوگیا اور ہم برباد ہوگئے پاکستان جانے تک میری یہی سوچ رہی کیونکہ سوشل میڈیا مجھے یہی دکھا رہا تھا اور ہم میجورٹی اوورسیز پاکستانیوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہیں اور حالات واقعات کو جانیں جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں میڈیا اس وقت کنٹرول میڈیا ہے وہی چلے گا جو حکومت اور ادارے دکھائیں گے لہٰذا سوشل میڈیا ہی سب سے بہتر اور سب سے فاسٹ آپشن دکھائی دیا اور سوشل میڈیا جو دکھا رہا ہے درحقیقت ملک و قوم کے حالات اس کے برعکس ہیں کیونکہ سوشل میڈیا دیکھو تو لگتا ہے ملک تباہ ہوگیا سب کچھ برباد ہوگیا لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ، کپڑا نہیں ، مکان نہیں ، لوگ خود کشیوں پر مجبور ہیں ، ملک کے پاس ملک چلانے کے لیئے پیسے نہیں ہر چیز کی ذمہدار فوج ہے اور فوج ہی سب سے بڑی برائی ہے پچھلے چھتر سالوں سے فوج نے ملک تباہ کردیا ہر دھشت گردی ، ہر برائی ہر کام کے پیچھے فوج ہے بس اس فوج سے آزادی حاصل کر لو تو سب ٹھیک ہوجائے گا اس کو جتنا ذلیل و رسوا کرسکتے ہو کرتے چلے جاؤ ۔
میرے پیارے دوستو، میرے پیارے بہن بھائیوں ، میرے ساتھیوں میں آپ سب کی بہت سی باتوں سے متفق ہوں اور بہت سی باتوں اور چیزوں سے متفق نہیں ہوں جیسا کہ فوج کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیئے جمہوریت کا راج ہونا چاہیئے بلکل ٹھیک بات ہے ، عدلیہ آزاد ہونی چاہیئے ، بلکل درست ، کرپشن ختم ہونی چاہیئے ، ہر ادارہ آزاد ہو ، قانون کی حکمرانی ہو، عدل و انصاف ہو ، عوام کی فلاح و بہبود پر کام ہو، ظلم کا نظام ختم ہو سچ کا بول بالا ہو، علاج معالجہ اور تعلیم کی بہتر سے بہتر سہولیات مہیاء کی جائیں، ملک میں خوشحالی کے لیئے بہتر سے بہتر پالیسی بنائی اور اپنائی جائے ، غربت کا خاتمہ ہو ، الیکشن صاف شفاف اور آزادانہ ہوں ، دوستو یہ تمام باتیں بلکل ٹھیک ہیں ان سب پر مستقل بات اور بھرپور کام ہونا چاہیئے اس کے لیئے تجزیہ نگار اپنے تجزیئے دیں لکھنے والے لکھیں بولنے والے بولیں پارلیمینٹ میں سینیٹ میں بولیں اور قانون سازی کریں حق و سچ کے لیئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا اس نظام کی تبدیلی کے لیئے مل کر جد و جہد کرنی ہوگی اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ عمران خان صاحب کے ذریعے تقریباُ آدھے سے زیادہ ملک و قوم میں بچے بچے میں شعور پھیل چکا ہے اب اسی شعور کے تحت مل جل کر کام کریں اور جلد یا بدیر ایک دن انشاءللہ سب کچھ بدلے گا بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اعتقاد رکھیں اور سچے دل سے اپنے ملک و قوم کے لیئے جد و جہد کرتے رہیں لیکن دوستو جن باتوں پر مجھے اعتراض ہے اور پاکستان پہنچ کر جو حالات و واقعات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے وہ سوشل میڈیا پر دکھنے والے حالات سے بلکل مختلف ہیں پاکستان میں لوگ مشکل میں ضرور ہیں لیکن سب چل رہے ہیں نظام قائم و دائم ہے نظام چل رہا ہے نظام چلانے والے لوگ اس حکومت کے ذریعے نظام چلا رہے ہیں تکالیف بہت زیادہ ہیں لیکن کچھ بھی فیل نہیں ہوا سب کچھ اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے لوگ بھی مزے کر رہے ہیں اور ان مشکلات میں ہی سہی لیکن جی رہے ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے خزانے میں قرضے کی قسط دینے کے لیئے پیسے نہیں اور پاکستان بینک کرپٹ ہونے والا ہے ان کو بتاتا چلوں ایسا دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہا سوائے سوشل میڈیا کے پچھلے کئی سالوں سے ہم سن رہے ہیں نہ پاکستان کے پاس پیسے نہیں اور پاکستان بینک کرپٹ ہونے والا ہے دوستو کیا ایسا ہوا نہیں اور ہوگا بھی نہیں جن لوگوں نے رجیم چینج کروایا وہی پاکستان کو ہمیشہ بیل آؤٹ بھی کرتے رہیں گے کیونکہ پاکستان انکی بھی بہت بڑی ضرورت ہے لیکن سوشل میڈیا دیکھیں تو ایسا لگے گا بس پاکستان اب گیا کہ اب گیا جو سراسر ایک جھوٹ اور پروپیگنڈے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔

دوستو جب تک میں پاکستان نہیں پہنچا تھا میں بھی آپ ہی کی طرح سوچتا تھا اور لکھتا تھا کہ جیسے پاکستان میں صرف ظلم ہی ظلم ہورہا ہو جگہ جگہ ناکے لگے ہوں گے ہر آنے جانے والے کو فوج روکتی ہوگی جس کو چاہے اٹھا لے جاتی ہوگی عام انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہا یہ ملک، جی یہی سوچ تھی میری بلکل آپ سب کی طرح لیکن پاکستان پہنچ کر میری آنکھیں کھلیں پاکستان کی عوام مشکلات تلے دبی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ کھا پی رہے ہیں گھوم پھر رہے ہیں جس ریسٹورینٹ میں چلے جائیں کس دن مرضی چلے جائیں رات بارہ بجے جائیں یا رات دو بجے چائے ، جوس ، لسی ، دودھ کی ٹھنڈی بوتل ، کافی شاپ ، کے ایف سی، یا آئسکریم کھانے جس مرضی فوڈ اسٹریٹ جس مرضی علاقے میں چلے جائیں ہر وقت ہر فوڈ اسٹریٹ ، ہر ریسٹورینٹ ہر شاپ آپ کو بھری ملے گی اچھے ریسٹورینٹوں میں تو آپ کو ایک بیل لائٹ پکڑا دی جائے گی دو سے چار گھنٹے ویٹنگ ٹائم ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ لوگ ویٹ کرتے ہیں ماحول کو انجوائے کرتے ہیں اتنی مہنگائی کے باوجود بھی ہزاروں روپے کے بل کے باوجود بھی عوام کھانے پینے پر ٹوٹی پڑی ہے ایک چائے عام سے عام ریسٹورینٹ میں بھی پجھتر روپے کی آتی ہے چار دوست بیٹھ جائیں تو کم از کم چار چائے ایک بڑی منرل واٹر کی بوتل ساتھ میں کچھ لوازمات منگوا ہی لینے ہیں پانچ سے چھ سو روپے کا بل عام سی بات ہے انتہائی عام سے چائے ریسٹورینٹ پر اور وہاں بھی ساری رات شام نو بجے سے لے کر صبح کے پانچ بجے جب تک فجر نہ ہوجائے تقریباُ ستر سے اسی لوگ ہر وقت بیٹھے ہوتے ہیں یہ ایک سستے ترین چائے کے ہوٹل کی بات کررہا ہوں اچھی چائے پینے کے لیئے چھ سو سے آٹھ سو روپے کا کپ آتا ہے اور وہاں بھی ہر وقت رش لگا ہوتا ہے ۔ دوستو پاکستان جائیں اور شاپنگ نہ ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے اپنی اور فیملی کی شاپنگ کے لیئے میں کئی بار طارق روڈ پر موجود کیونکہ میری رہائش اور سارا بچپن وہیں گزرا لہٰذا ڈولمین مال ، ڈولمین سینٹر، شالیمار سینٹر، متین سینٹر، رابی سینٹر ، دوپٹہ گلی ،بہادر آباد، صدر ، ایمپریس مارکیٹ اور بہت ساری مارکیٹوں میں گیا اور شاپنگ کی مختلف دنوں میں مختلف اوقات میں گیا ہر فلور بھرا ہوا ہر سینٹر ہر بازار بھرا ہوا ہر دکان پر خرید و فروخت جاری ہر Mall بھرا ہوا یہاں تک کہ آپ ڈولمین سینٹر کے ٹاپ فلور پر جہاں کھانے پینے کے لیئے ہر چین اسٹور ریسٹورینٹ نے اپنا ریسٹورینٹ بنایا ہے اور باہر کی ان کی برانچ سے کئی گنا زیادہ مہنگا فوڈ بیچا جارہا ہے وہاں بھی شاپنگ پر آنے والے لوگوں کی بھرمار رش ہی رش ہر کوئی یہ مہنگا ترین فوڈ بھی بڑی آسانی سے خرید کر انجوائے کررہا ہے دوستو سندھی مسلم میرے گھر کے بلکل ساتھ ہے لہٰذا ہر روز بچوں کے لیئے صبح ، دوپہر اور شام باہر سے کھانا آتا تھا جس وقت مرضی چلے جائیں لوگ ٹوٹے پڑے ہیں ، یہی حال کلفٹن، بوٹ بیسن ، دو دریا ، پی آئی بی ، طارق روڈ ، نورانی کباب ہاؤس اینڈ کٹا کٹ ، برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ ، لکی ون مال ، سپر ہائی وے پر الحبیب ، کباب جی، مندی ہاؤس جو انتہائی مہنگے ریسٹورینٹ ہیں لیکن ہر وقت بھرے ہوئے ہر دن رش تو کون کہتا ہے کہ یہ ایک غریب ملک ہے جو ڈوبنے والا ہے جس کے حالات انتہائی خراب ہیں ، پٹرول مہنگا ہے لیکن بیشمار گاڑیاں جن کا رش دن بدن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ، بیشمار بائیک اور سب سے زیادہ جو اس بار دیکھا وہ خواتین بہت زیادہ گاڑی ، اسکوٹر ، بائیک اور بائی کیا چلا رہی ہیں جیسے انڈیا میں ہم اسکوٹر چلاتے دیکھتے تھے دوپٹہ لڑکیوں کے گلے سے تقریباُ غائب ہوگیا ہے جینز اور پینٹ اب عام سے عام گھر کی لڑکی بھی پہنتی ہے اور یہ سب پاکستان میں بلکل نارمل ہوچکا ہے۔ بھکاریوں کی تعداد بڑھ چکی ہے لیکن یہ سب ایک پروفیشنل بھکاری ہیں جن کی کھیپ کی کھیپ پاکستان اتاری جاتی ہے یہ ایک انتہائی بڑا منظم مافیا ہے جس بھکاری کو دیکھیں گے کچھ دینے کی کوشش کریں گے وہ فوراُ آپ سے راشن مانگ لے گا اور اپنی مجبوریاں گنوائے گا کیونکہ راشن کے نام پر اسے ہزار دو ہزار مل جائیں گے ورنہ صرف چند سو روپے ایک نیا ڈرامہ بھی شروع ہوا ہے مختلف خواتین کے گروپ انھی بازاروں اور فوڈ اسٹریٹ پر نظر آئیں گے جو انتہائی مہذب اور اچھے گھر کی خاتون نظر آئیں گی وہ بڑی ہچکچاہٹ دکھاتے ہوئے آپ کی گاڑی کے پاس آکر کہیں گی بھائی دو منٹ میری بات اکیلے میں سن لیں میں مانگنے والی نہیں ہوں لیکن انتہائی مجبوری میں بچوں کی بھوک سے تنگ آکر آج آپ سب سے مدد مانگنے نکلی ہوں کوئی میری مدد کردے اپنے بچوں کا صدقہ خیرات کردے مجھے راشن دلادے اور یہ خاتون باقاعدہ ایک اچھی ڈریسنگ اور اپنے گرد ایک چادر بھی لپیٹ کر رکھے ہوئے ہوں گی جو کہیں سے بھی مانگنے والی نظر نہیں آرہی ہوں گی لیکن یہ جتنے بھی مانگنے والے ہیں وہ ہر روز بلکل اسی طرح روز یہی ڈرامے کر کے مانگ رہے ہوتے ہیں اور پورے دن میں ایک بھرپور اچھی دھاڑی لگا کر گھر جاتے ہیں چونکہ آپ نے انکی مدد کی ہوتی ہے تو آپ انھیں فوراُ پہچان لیتے ہیں لیکن یہ لوگ آپ کو نہیں پہچان پاتے کیونکہ آپ جیسے نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو یہ دن میں بیوقوف بناتے ہیں اور انھی لوگوں کی جعل سازیوں کی وجہ سے حقیقی ضرورت مند محروم رہ جاتے ہیں۔

دوستو پاکستان جانے سے پہلے ہم ہر وقت سوشل میڈیا پر دیکھتے تھے کہ پاکستان میں چند لوگ بائیک پر آتے ہیں لوٹ مار کرتے ہیں خاص کر آپ سے فون چھین کر چلے جاتے لہٰذا میں نے اپنی پوری فیملی سے ان کے نئے فون لیئے اور سب کو گھر میں موجود پرانے سیٹ پکڑائے خود اپنے لیئے اپنا پرانا آئی فون سیون لیا اور پاکستان پہنچا وہاں کا کر دیکھا تو میجورٹی لوگوں کے ہاتھوں میں نئے سے نیا فون موجود تھا اور زیادہ تر نے چائنا کا بنا آئی فون اٹھا رکھا تھا ہر انسان بغیر کسی خوف و ہراس کے فون استعمال کررہا تھا اور ان سب کے فون کے آگے مجھے اپنا فون سیٹ سب سے پرانا لگ رہا تھا جب کے میں آیا بھی امریکہ سے تھا خیر ایسا نہیں کہ وہاں یہ فون چھیننے کی کاروائیاں نہیں ہیں ہوتی ہیں لیکن چند خاص علاقوں میں ہر جگہ ہر وقت نہیں اور یہ بھی بتاتا جاؤں کہ یہی فون چھیننے کی کاروائیاں لندن جیسے شہر میں بھی اس وقت عام ہیں ۔ ہر کاروائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہے وہ حقیقت نہیں کچھ صرف ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کے لیئے بھی بنائی جارہی ہیں لیکن احتیاط ایک اچھی جیز ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اتنا خوف و ہراس نہیں جتنا دکھایا اور پھیلایا جارہے ہے ۔ کرائم ہر ملک میں ہے کیا امریکہ اور برطانیہ میں کم کرائم ہے اسی طرح پاکستان میں بھی ہے پچھلے دنوں امریکہ میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور بھائی کا قتل ہوا آپ لوگوں میں سے کتنے لوگوں نے اس کی وڈیو دیکھی وائرل کی یا اس پر آواز اٹھائی احتجاج کیا لیکن پاکستان میں ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی ہم ایسے دکھا رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی ایٹم بم پھٹ گیا ہو اور پاکستان صرف تباہی ہی تباہی ہے۔

دوستو پاکستان میں کچھ ایسے لوگوں سے بھی بات چیت ہوئی جیسے کہ اسٹور پر کام کرنے والے سیلزمین جن کی تنخواہ صرف تیس ہزار روپے تھی لیکن وہ اپنے گھر کا اکیلا کمانے والا نہیں تھا اس کے ساتھ اس کے بہن بھائی یا باپ بھی ساتھ کما رہے تھے اور گھر میں گزارے کے لائق ایک معقول رقم آرہی تھی ۔ رکشہ ڈرائیور بھی کام کر رہے ہیں اور سب ہی کا جیسے تیسے گزارہ ہورہا ہے ایسا نہیں ہے کہ لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہوچکے ہوں اور غربت کی وجہ سے بیشمار خود کشیاں ہر روز ہورہی ہوں ایسے حالات پورے ملک میں کہیں نہیں ہیں چند واقعات کبھی کبھار ہوجاتے ہیں لیکن صرف چند لیکن سوشل میڈیا تو ہر وقت ایسے دکھا رہا ہوتا ہے جیسے پورا ملک ہی خود کشی کررہا ہے یا کرنے والا ہے ۔ دوستو میری بات پاکستان کے کافی شہروں میں موجود اپنے دوستوں سے ہوئی جن میں لاہور، سرگودھا، کے پی کے، پشاور، اسلام آباد ، سیالکوٹ جیسے شہر ہیں لیکن ہر ایک کا یہی کہنا اور ماننا تھا کہ مشکلات ہیں لیکن اس طرح نہیں جیسے شوشل میڈیا پر لکھی بولی اور دکھائی جاتی ہیں اور یہ بھی بتاتا جاؤں کہ یہ ساری تکالیف ، درد ، چیخنا چلانا بھی صرف ہم اورسیز کا ہی ہے پاکستان میں لوگ ان مشکلات کے باوجود سکون میں ہیں یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سب کے سب اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ ان پر جتنا مزید بوجھ لاد دیں انھیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا اور جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ قوم کبھی باہر نکلے گی نظام بدلے گی تو یاد رکھیں پاکستان میں کسی کو اس کی رتی برابر بھی فکر نہیں اور یہ قوم کبھی باہر نہیں نکلے گی یہ وہ قوم ہی نہیں جو اپنے حق کے لیئے نظام بدل ڈالے کم از کم اس وقت تو یہ وہ قوم کہیں سے بھی نہیں اور نہ یہ اس کے لیئے تیار ہے۔

دوستو اب آتے ہیں ان حقائق کی طرف کہ ایک اچھا خاصہ نظام چلتے چلتے کیسے برا ہوگیا یہ ہر دل پسند ہر دل عزیز فوج کچھ لوگوں کے لیئے اچانک اتنی بری کیسے ہوگئی کہ لوگ نفرت پر آگئے دوستو کہانی جب شروع ہوئی جس وقت امریکن سی آئی اے ڈائیریکٹر نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب سے ملاقات کے لیئے پاکستان پہنچے اور عمران خان صاحب نے ان سے ملنے سے انکار کردیا اور کہا کہ آپ اپنے ہم منسب یعنی
آئی ایس آئی چیف سے جاکر ملیں میرے ہم منسب صدر بائیڈن ہیں اور میں انھی سے ملاقات کروں گا آپ سے نہیں سی آئی اے کے ڈائیریکٹر کو یہ پہلی بار کسی نے ملنے سے انکار کیا تھا دیکھا جائے تو عمران خان صاحب کی بات کوئی غلط نہیں تھی لیکن یہ بھی تو دیکھنا ضروری ہے کہ آپ کن لوگوں کو انکار کررہے ہیں ان لوگوں کو جو پوری دنیا کو پالیسی دیتے ہیں اور انھی پالیسیوں کے تحت دنیا چلائی جاتی ہے لہٰذا فوری طور پر ایک جرنلسٹ کو بھیج کر جو کام سی آئی اے ڈائیریکٹر نے کرنا تھا وہ کام اس جرنلسٹ کے ذریعے کروایا گیا کہ کیا آپ امریکہ کو اڈے یا اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دیں گے جواب میں عمران خان صاحب نے صاف انکار کردیا کہ Absolutely Not بس پھر کیا تھا امریکہ کو اپنا جواب مل گیا امریکہ ایک سپر پاور ہے اور امریکہ ایسے کسی بھی شخص کو حکومت میں نہیں رہنے دیتا جو اس کو کسی چیز سے انکار کرے جلد یا بدیر اسے اس بات کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا ہے پھر دوسری جانب یہ بھی تو دیکھیئے کہ کیا پاکستان ایک خود کفیل ملک ہے کیا وہ امریکہ کے بغیر ایک دن بھی چل سکتا ہے تو جواب ہے نہیں اس وقت نہیں کبھی نہ کبھی شاید ایک دن ایسا آئے لیکن اس وقت ان حالات میں تو بلکل بھی نہیں ۔ پاکستان کی قوم کا بچہ بچہ
آئی ایم ایف کے قرضے میں مقروض ہے ملک چلانے کے لیئے ہمیں آئی ایم ایف کی چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی تمام شرائط ماننی پڑتی ہیں کوئی چوائس ہی نہیں ہے دوستو کیا ہم سعودیہ ، چائنا اور یورپی یونین کے بغیر چل سکتے ہیں نہیں بلکل بھی نہیں۔ یاد رہے دوستو امریکہ ایک بپھرا ہوا ہاتھی اور بگڑا ہوا طاقتور سانڈ ہے اگر اپنے جلال میں آجائے تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی طاقت اسے قابو نہیں کرسکتی یا پھر انتہائی عقلمند دماغ اس کا غصہ کم کرسکتے ہیں لہٰذا جب سائفر کہانی شروع ہوئی تو جو دیکھنے سننے پڑھنے اور سمجھنے میں آیا اس میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ رجیم چینج آپریشن فوری کیا جائے اور ایسا کرنے کی صورت میں ماضی کی تمام غلطیاں معاف اور نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو پتھروں کے دور میں پہنچا دیا جائے گا یہ پیغام پاکستان کے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل باجوہ کے لیئے تھا اور پاکستانی افواج اس پیغام کو مقصد بہت اچھے سے جانتی تھی وہ جانتے تھے ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ پاکستان کا کیا حال کرے گا کیونکہ ایراق ، لبیاء، سوڈان، جیسے خوشحال ملکوں کا حشر وہ سب ہی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں ایسی صورت میں پاکستانی افواج کے پاس آپشن ہی کیا تھا ان کے پاس صرف دو چوائس تھیں یا تو ملک بچاؤ یا عمران خان ۔ دوستو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک بار اکیلے میں ہی صرف اپنے آپ کو پوری ایمانداری کے ساتھ بتائیے گا کہ اگر آپ کے پاس صرف یہ سو چوائس ہوں تو آپ کیا کریں گے یا کیا کرتے؟ ظاہر ہے ہر محب وطن انسان کو صرف اور صرف ملک بچانا ہوگا کیونکہ ملک پچیس کروڑ عوام کا ہے اور عمران خان ایک پسندیدہ جو کہ فوج کا بھی پسندیدہ وزیر اعظم لانے والے بھی وہ عمران خان کو ایک کرکٹر سے وزیر اعظم تک بنانے والے پہنچانے والے بھی وہ لیکن جب بات ملک بچانے کی ہو تو پھر بہت کچھ اپنا کولیٹرل ڈیمیج کہہ کر قربان بھی کردیا جاتا ہے اور کرنا پڑتا ہے ملک سے بڑھ کر کچھ نہیں کوئی بھی نہیں آپ بھی نہیں اور میں بھی نہیں جنرل باجوہ اور اس کی پالیسی سے مجھے سخت اختلاف ہے اس کی قادیانی پالسیز نے ملک و قوم کو بہت نقصان پہنچایا لیکن ملک کی پالسیز لکھنا ، بنانا اور چلانا صرف آرمی چیف کے فیصلے پر منحصر نہیں ہوتا اس کے لیئے انتہائی بہترین دماغ کام کرتے ہیں اور انھی پالسیز کو چیف آف آرمی اسٹاف اپنے دور میں لے کر چلتا ہے اور ایک کے بعد دوسرا اور پھر ہر نیا آنے والا۔ پالسیز ایک دن کی نہیں ہوتیں یہ کم سے کم پچاس سال کے لیئے تیار ہوتی ہیں سپر پاور ملک کے ساتھ مل کر پھر ہم پاکستانی تو پہلے ہی امریکہ کے خادم اور غلام ہیں شوق سے نہیں اپنی مجبوریوں سے قید ہیں انکی جکڑی ہوئی زنجیروں میں اور اسی سے آزاد ہونے کے لیئے تو عمران خان پراجیکٹ لانچ ہوا تھا جو اس وقت بیچ میں اٹک گیا ہے عمران خان صاحب کی تھوڑی سی ضد اور اپنی مرضی کرنے کی وجہ سے کسی کو اچھا لگے یا برا لیکن حقیقت یہی ہے بیشمار بار انھیں سمجھایا گیا بہت سے کام نہ کرنے کا کہا گیا لیکن طاقت ملنے کے بعد ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے ہی محسنوں سے الجھ جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا حالیہ سسٹم ابھی تک شراکت پر چل رہا ہے پچھلے پچھتر سالوں سے ملک کی باگ ڈور سارا نظام اسی افواج کے ہاتھ میں ہے چاہے طاقت کے بل پر ہے چاہے بندوق کے زور پر ہے آپ کو یا مجھے پسند ہے یا نہیں ہے لیکن حقیقت یہی ہےاصل بادشاہ اصل نظام اصل حکومت ہمیشہ سے انکی ہی ہے انھی کے ہاتھ میں ہے اور یہ ساری دنیا اور تمام انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے آپ کو کبھی بھی اقتدار نہیں سونپا جاتا آپ کو ہمیشہ اقتدار میں شراکت دی جاتی ہے اور شراکت کا مطلب کبھی بھی مالک نہیں ہوتا شراکت کا مطلب جب تک آپ میرے مطابق چل رہے ہیں آپ میرے شریک جب آپ نے حیل حجت کی آپ سے شراکت توڑ کر کسی دوسرے کو شریک بنا لیا جائے گا لیکن اصل مالک جو ہوتا ہے وہ اپنے نظام کو اچھے سے جانتا ہوتا ہے تو اسے نئے شراکتدار کے ساتھ سنبھالنے میں کوئی خاص مشکل بھی نہیں پیش آتی لہٰذا اس بار بھی ایسا ہی ہوا اور عمران خان صاحب کی حکومت بدلتے ہی انھی لوگوں کو دوبارہ شریک بنایا گیا جن کی کرپشن کے خلاف بے بہا ثبوت بھی اسی افواج نے عمران خان صاحب کو جمع کر کے دیئے تھے تاکہ ملک کا نظام کرپشن سے پاک کیا جاسکے لیکن عمران خان صاحب کے جذباتی فیصلے سے سب کچھ داؤ پر یہاں تک کہ ملک و قوم بھی داؤ پر لگ گئے اور ملک بچانے کے لیئے ہر دلعزیز عمران خان صاحب کی قربانی دینی پڑی کیونکہ امریکہ بہادر کو خاص کر جب وہ انتہائی بپھر گیا ہو باتوں سے نہیں جزبات سے نہیں بلکہ عقل اور دماغ سے ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے جانتا ہوں آپ میں سے بیشتر لوگ جذباتی ہیں اور ان کا کہنا ہوگا کہ ہم امریکہ کے بغیر چل سکتے ہیں ہمیں امریکہ کی ضرورت نہیں ہم آئی ایم ایف کے بغیر چل سکتے ہیں ہمارے لوگوں کے پاس بے بہاء پیسہ ہے ہم اورسیز پاکستان کا تمام قرضہ ایک جھٹکے میں اتار سکتے ہیں ۔ انشاءللہ ایک دن ضرور آئے گا کہ ہم سب مل کر ایسا کر پائیں گے لیکن وہ دن ابھی نہیں ہے عمران خان صاحب نے بھی کہا تھا میں امریکہ سے بھیک نہیں مانگوں گا لیکن جب حکومت میں آئے تو سمجھ آیا کہ باہر رہ کر جذباتی باتیں کرنا اور بات ہے لیکن سسٹم جذباتی باتوں سے نہیں چلتا اس کے لیئے اپنی اناء اپنا بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے اپنا آپ بھی بیچنا پڑجاتا ہے لہٰذا جو دوست زیادہ جذباتی ہیں وہ ٹھنڈے دماغ سے اس کالم کو پڑھیں اگر ہمارے اورسیز پاکستانی بھائی اس قابل ہوتے کہ وہ اپنا سب کچھ ملک و قوم کے لیئے قربان کردیں تو یقین کریں عمران خان صاحب سب سے پہلے ملک و قوم کو اس قرضے سے آزاد کروا دیتے لیکن جذبات سے حقائق تو نہیں بدل جاتے دنیا تو نہیں چلا کرتی دوستو۔

دوستو ایک سوال اور کرنا چاہوں گا آپ سب سے آپ کو کیا لگتا ہے کیا ہماری پاکستانی ایجنسیوں کے لیئے یا انٹرنیشنل ایجنسیوں کے لیئے عمران خان صاحب کو راستے سے ہٹانا یا انھی کے کسی بھی کیس میں انھیں پھانسی پر لٹکانا بہت مشکل کام تھا یا ہے ان تمام ایجنسیوں کے لیئے یقین کریں بلکل بھی نہیں وہ اگر دل کا نشانہ لیتے ہیں تو گولی دل کے آر پار ہوتی ہے ٹانگ پر نہیں لگتی ایجنسی ہے کوئی مذاق نہیں لہٰذا اس کے باوجود عمران خان صاحب کو زندہ رکھا گیا ہے اور چلایا جارہا ہے جو اس بات کی ضمانت ہے وقت کا پہیہ ایک بار پھر گھومے گا اور اس بار جہاں تک میں سمجھتا ہوں امریکہ میں اسی سال نومبر میں انتخاب ہونے ہیں امید یہی ہے کہ حکومت بدلے گی اور اگلے سال نئے صدر کی حلف برداری کے ساتھ ہی عمران خان صاحب کو بھی ریلیف ملے گا اسی لیئے انھیں ابھی تک زندہ رکھا گیا ہے وقت بھی بدلے گا اور نظام بھی بدلے گا اچھے کی امید رکھیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں ۔دوستو اگر آپ لوگوں کو جنرل حمید گل صاحب کی کچھ باتیں یاد ہیں تو ان پر غور کریں یہ سب کچھ وہی اور بلکل ویسا ہی ہورہا ہے جس کی امید اور پیشین گوئی پہلے ہی کردی گئی تھی ابھی صبر کے امتحان باقی ہیں تھوڑا اور صبر رکھیں انشاءللہ اللہ تعالیٰ سب بہتر فرمائیں گے۔

دوستو میں یہ نہیں کہتا کہ فوج نے جو کیا سہی کیا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ فوج نے جو کیا مجبوری میں کیا ناچاہتے ہوئے بھی کرنا پڑا اور امریکہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیئے ہر وہ سخت سے سخت قدم اٹھانا پڑا جس سے امریکہ اس بات پر یقین کرلے کہ اس نے جیسا حکم صادر کیا ویسا ہی عمل بھی ہوا جس قوم کو خود یکجا کیا تھا اسے اپنے ہی ہاتھوں اور جوتوں تلے روندنا پڑا ظلم ڈھانے اور دکھانے پڑے کوئی بھی شوق سے اپنے ہی ہاتھوں کا تعمیر کیا گھر کبھی نہیں گراتا اور یہ بات پوری فوج اچھی طرح جانتی ہے وہ اور ان کے گھروالے آج بھی عمران خان صاحب کو پسند کرتے ہیں لیکن ملک و قوم پسند سے نہیں دماغ سے چلا کرتے ہیں۔ ایک بار امریکہ ٹھنڈا ہوا تو پھر سے نیا گھر تعمیر ہوجائے گا جو شعور عمران خان صاحب کے ذریعے دلوانا اور پہنچانا تھا وہ آج بچے بچے میں موجود ہے اور یہ ہماری جیت ہے ہار نہیں ۔

دوستو جاتے جاتے دو ایک باتیں اور بھی کرنا چاہوں گا ان لوگوں سے جو انتہائی جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ فوج نے بڑا ظلم کردیا فوج نے رجیم چینج کردیا ہمارے ساتھ زیادتی کردی تو میرے عزیز ہم وطنوں جب یہ فوج عمران خان کو لائی تھی تو ہم سب پاک فوج کے نعرے بلند کرُ رہے تھے اسی ملک میں ہم آئی ایس آئی زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے ہم اس وقت یہ کیسے بھول گئے کہ ہم بھی اس نظام حکومت کو چلانے والی فوج کے اس نظام میں صرف ایک شراکت دار ہی تو ہیں ہم سے پہلے بھی بڑے بڑے سورما آئے اور اقتدار میں شراکت ملتے ہی وہ بھی یہی سمجھ بیٹھے کہ اصل مالک تو ہم ہیں یہ جرنیل کس کھیت کی مولی ہیں لیکن آپ سب نے دیکھا کہ وہ تمام لوگ باری باری اقتدار سے باہر اور پھر دوبارہ اقتدار میں لائے گئے جس کسی کو بھی فوج حکومت میں لاتی ہے وہ آتے ہوئے زندہ باد اور جب اقتدار سے ہٹاتی ہے تو ہر غنڈہ گردی کے پیچھے وردی ہے کہ نعرے بلند کرتا ہے کوئی کہتا ہے مجھے کییوں نکالا تو ملک دشمن بیان دے ڈالتا ہے کوئی کہتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی اوقات ہی کیا ہے ایک بائیس گریڈ کا آفیسر لیکن جب یہ بائیس گریڈ کا آفیسر آپ کو اقتدار میں لاتا ہے اپنے ادارے کے ساتھ آپ کو اقتدار میں شراکت دیتا ہے تو اس وقت ہم میں سے کوئی ایک بھی نہیں بولتا کہ تم تو صرف ایک بائیس گریڈ کے آفیسر ہو تمہاری کیا اوقات کہ تم مجھے پاکستان کا وزیراعظم بنواؤ اس وقت ہم سب اقتدار کی خاطر سب کچھ کرنے پر تیار ہوتے ہیں اگر اتنی ہی محبت ہوتی ہے ملک سے تو انکار کردو کہ ہم آپ کے ذریعے حکومت میں نہیں آئیں گے لیکن آتے وقت آتے ہیں اور سب ہی آتے ہیں جب ہٹایا جاتا ہے تو ہر سیاسی پارٹی ان کو برا بھلا اور گالیاں دے کر جارہی ہوتی ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے پوری ہسٹری اٹھا کر دیکھ لیں ۔ دوستوں میں یہ نہیں کہتا کہ فوج میں ہر شخص فرشتہ ہے نہیں ایسا نہیں ہے کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں کچھ طاقت کے نشے میں ڈوبے فرعون بھی جن کی غلط پالیسیوں کا نقصان ہم سب کو بھگتنا پڑتا ہے کچھ قادیانیت نواز اور کچھ قادیانی بھی ہیں لیکن جب آپ حکومت میں آتے ہیں تو ہر پالیسی اچھی لگ رہی ہوتی ہے ہر پارٹی نے قادیانیوں کے لیئے راہ ہموار کرنے کا کردار ادا کیا اس وقت کیوں اللہ رسول یاد نہیں رہتا اس وقت کیوں ان قادیانی آفیسرز کی پالیسی پر عمل کرتے ہو جب اللہ رسول سے ہٹو گے تو ہر چیز تمہارے لیئے زہر بن جائے گی جلد یا بدیر۔

دوستو آج جو کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہورہا ہے وہ سراسر زیادتی اور ظلم ہے اور میں اسے کنڈیم کرتا ہوں لیکن جب آپ حکومت میں تھے تو کیا آپ نے نون لیگ کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ظلم نہیں ڈھائے کیا پیپلز پارٹی کے سیادتدانوں کے ساتھ ظلم نہیں لیئے گئے ان کی خواتین پر سختیوں کے پہاڑ نہیں توڑے تھے کیا رانا ثناء اللہ پر ہیروئن وہ بھی کئی کلو ہیروئن کا جھوٹا مقدمہ نہیں بنایا تھا کیا جیل میں اس کے گرد کیڑے مکوڑوں کے لیئے شیرا ڈال کر تکالیف نہیں دی تھیں یہ سب آپ کی پی ٹی آئی کی حکومت میں ہی ہوا تھا اور آپ کے لوگوں نے منسٹروں نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ جی ایسا ہوا جھوٹا مقدمہ بھی بنا لیکن وہ ہم نہیں تھے وہ اسی فوج نے کیا دوستو کیا آپ نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی تھی جب کہ حکومت بھی آپ ہی کی تھی جواب ہے نہیں کی تھی اس وقت آپ سب نے کہا کہ یہ ہم نہیں کررہے یہ فوج نے کروایا اور آج نون لیگ والے بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہم نہیں کر رہے وہ بھی فوج ہی کررہی ہے کل آپ مجبور تھے اسی طرح آج ہم مجبور ہیں ۔ دوستو یاد رہے جب آپ سیاست میں آتے ہیں اس کا حصہ بنتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیئے ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور سیاست کی قیمت یہ گندگی اور جیل کی ہوا ہے جو میجورٹی سیاستدانوں کو دینی ہی پڑتی ہے اقتدار کا نشہ چاہئے تو قیمت تو دینی ہی پڑے گی۔ جب نون لیگ کو نکالا تو انھوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سیاست کھیلی جب پیپلز پارٹی کو نکالا تو انھوں نے بھی کچھ ایسا ہی کیا اور آج جب پی ٹی آئی کو نکالا تو انھوں نے بھی صرف اور صرف سیاست ہی کھیلی اس سوشل میڈیا کے ذریعے۔ پاکستان کے حالت بلکل بھی وہ نہیں جو سوشل میڈیا پر اور جس طرح بڑھا چڑھا کر دکھائے جارہے ہیں وہاں سب امن ہے لوگ مشکل میں ہیں رجیم چینج ہوا ہے الیکشن میں دھاندلی بھی ہوئی ہے پی ٹی آئی کا مینڈیٹ بھی چوری ہوا ہے لیکن کونسی کوئی نئی بات ہوئی ہے یہ سب تو پچھتر سالوں سے چلا آرہا ہے اگر آپ سب اتنے ہی سنسیئر ہوتے تو جمہوریت کے لیئے مل جل کر کام کرتے اس نظام کو بدلنے کے لیئے ایک ہوکر متحد ہوکر آگے بڑھتے نظام کو مل جل کر تبدیل کرتے فوج کے جرنیلوں سے سب اکٹھے ہوکر مذاکرات کرتے لیکن آپ سب کی اناء اس ملک و قوم سے بھی بڑی ہے جس نے بھی کام کیا اپنے مفاد کا بالاتر رکھا اور اسی لیئے یہ نظام آج تک نہ بدل سکا اب رونے سے کیا فائدہ میری تمام پارٹیوں کے تمام سیاستدانوں اب بھی وقت ہے آج سے ایک ہوجاؤ کم از کم اس نظام کو بدلنے کے لیئے ایک ہوجاؤ نظام کی تبدیلی کے بعد کرلینا اپنی سیاست کے شوق پورے لیکن آپ سب کو سمجھائے کون یاد رکھو ہماری ناکامیوں اور فیلیئرز کی وجہ یہ فوج نہیں بلکہ ہم سب خود ہیں جو ٹکڑوں میں بنٹے ہوئے ہو اقتدار کی بھوک میں جھلسے ہوئے ہو ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ میں دوسرے سے بہتر ہوں اور اس کو گرا کر کسی بھی طرح میں آگے بڑھ جاؤں یہی ہے اس ملک و قوم کی بدنصیبی فوج نہیں فوج کل بھی پورے کنٹرول سے نظام چلا رہی تھی فوج آج بھی پورے عبور سے نظام چلا رہی ہے کل دوسرے چیخ رہے تھے نظام تب بھی چل رہا تھا آج ہم چیخ رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ نظام آج بھی پورے طریقے سے چل رہا ہے دوڑ نہیں رہا لیکن رکا بھی نہیں ہے۔

دوستو یہ ہے وہ تمام حقیقتیں جسے میں نے اپنی آنکھوں دیکھا حال کے طور پر بیان کیا آپ میں سے بیشمار لوگ یہ جانتے ہیں کہ میں بھی کروڑوں پاکستانیوں کی طرح عمران خان صاحب کو سپورٹ کرتا ہوں ایک محب وطن پاکستانی کی طرح میں اپنی فوج کو بھی سپورٹ کرتا ہوں یہ میری فوج ہے میرے ملک کی فوج میرے ملک کی حفاظت کی ضامن اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں کو دیکھ دیکھ کر جس طرح آپ اسے حقیقت مانتے ہیں میں بھی یہی سمجھتا اور مانتا تھا جب تک میں خود پاکستان نہیں پہنچا اور ڈیڑھ مہینہ گزار نہیں لیا اس وقت سوشل میڈیا ٹیمیں صرف اور صرف سیاست کھیل رہی ہیں اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں سیاست کھیلنے کا ہر ایک کو حق ہے جتنی چاہے کھیلیں لیکن میرے جذبات کے سہارے نہیں ۔

دوستو بہت سارے لوگ یہ سمجھیں گے کہ شاید میرا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے لیکن جو لوگ مجھے قریب سے جانتے ہیں انھیں اچھی طرح پتہ ہے کہ دنیا میں کسی میں اتنی جرات نہیں کے زبردستی میرا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرسکے آج تک تو نہیں۔
ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ جن بھی لوگوں کو میری گواہی سے اعتراض ہے جو مجھ سے متفق نہیں وہ پاکستان جائیں وہاں رہیں ملک و قوم کے حالات قریب سے دیکھیں تو قدرت خود آپ سب کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کردے گی جب حقائق اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو یقین جانیں طبیعت صاف ہوجائے گی ۔دوستو یہ بھی مانتا ہوں کہ سوشل میڈیا ایک انتہائی خطرناک ٹول ہے اس کے ذریعے مجھ جیسے ناجانے کتنے ہی لوگ جو پانچ چھ سالوں سے پاکستان نہیں گئے کچھ کا کچھ دیکھتے ، سنتے اور سمجھتے ہیں سب سے پہلے تو یہ یوٹیوبررز ہیں ان کو سننا بند کریں تاکہ الٹی سیدھی خبریں آپ کو دماغ نہ خراب کریں باقی جس کو میری گواہی جھوٹی لگے وہ پاکستان جائے وہاں رہے اور واپس آکر مجھے ضرور بتائے اس نے کیا دیکھا اور کیا پایا ۔ اس نظام کی تبدیلی کے لیئے کام کریں لیکن مل جل کر جمہوریت کی اجارہ داری کی برتری کے لیئے کام کریں لیکن حقائق دکھا کر پارلیمنٹ میں ، سینیٹ میں اور بہت سے پلیٹ فارم بھی ہیں اور طریقے بھی ۔ دوسرا ان تمام ججوں کے ، سیاستدانوں کے اعلیٰ آفیسرز کے پروٹوکول کے خلاف باقاعدہ مہم چلائیں کیونکہ یہ جو گاڑیاں ، پٹرول استعمال کرتے ہیں یہ سب عوام کے خون پسینے کا دیا ہوا ٹیکس ہے جسے یہ تمام لوگ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر بڑی بے دردی سے استعمال کرتے ہیں اس پر کام کیجیے ان پارلیمان نے اپنی تنخواہیں ڈبل کرلی ہیں عیاشیاں لوٹ رہے ہیں لیکن ساری ہی سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں وہ کوزے ایم این اے اور ایم پی اے ہیں جو ان تمام سہولتوں سے مستفید نہیں ہورہے سب ایک دوسرے کو چھوٹ دینے کے لیئے سب مل جل کر کھا رہے ہیں لیکن یاد رہے وہ اپنا یا اپنے باپ کا کچھ نہیں کھا رہے وہ ہم سب کا مال ہم سب کا پاکستان کھا رہے ہیں اور
You scratch my back and I scratch yours
کے فارمولے کے تحت لوٹ مار مچا رہے ہیں اس پر کام کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدائت عطا فرمائے اور ملک پاکستان کو اس کی عوام کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان سیاستدانوں کو عقل عطا فرمائے کہ اپنی حکومتوں کے لیئے نہیں بلکہ پاکستان کے لیئے کام کریں تب ہی ملک و قوم آگے بڑھ پائیں گے ۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں