132

*جامعہ کراچی: شعبہ کمپیوٹرسائنس کے زیر اہتمام دو روزہ”کلائمیٹ۔ ایکشن آئیڈیاتھون“کا انعقاد*

*جامعہ کراچی: شعبہ کمپیوٹرسائنس کے زیر اہتمام دو روزہ”کلائمیٹ۔ ایکشن آئیڈیاتھون“کا انعقاد*

*موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف ہماری نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*

*ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو مقامی عمل اور عالمی تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔ ابوبکر*

کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) موسم کی شدت میں تیزی سے اضافہ، شدید گرمی کی لہریں، طوفان اور سیلاب یہ تمام واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کیلئے قول و فعل میں تضاد ختم کرکے عملی اقدامات کی طرف پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ہم موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات کے نشانے پر ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچنے کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ہمیں آنے والی نسلوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے اور اس کیلئے کثیر الشعبہ جاتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی سائنس یا پالیسی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک چیلنج ہے جس کیلئے انجینئرنگ، اقتصادیات، سوشیالوجی اور سب سے اہم کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ ایسے دور میں جہاں ڈیٹا فیصلے کرتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ صنعتوں کو تبدیل کررہے ہیں، کمپیوٹر سائنس کا کردار ماحولیاتی اقدام میں ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا ظہار مقررین جن میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، اسپیشل سیکریٹری اینڈ ڈی جی لوکل گورنمنٹ ابوبکر، ڈی جی سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر نعمان احسن، سیفی برہانی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی، وائس چانسلر دیوان یونیورسٹی ڈاکٹر اورنگزیب، رئیس کلیہ علوم پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف، ڈاکٹر محمد علی شیخ، امداد حسین صدیقی، ڈاکٹر طارق رحیم سومرو، چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر صادق علی خان و دیگر شامل تھے انھوں نے شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچر میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ دو روزہ”کلائمیٹ۔ ایکشن آئیڈیاتھون“کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے مزید کہا کہ طلباء، محققین، صنعت کے ماہرین، اور پالیسی سازوں کو اکٹھا کرنا ایک منفرد ماحولیاتی نظام بناتا ہے جہاں خیالات کو جانچنے، بہتر کرنے، اور حقیقی دنیا میں لاگو کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایکشن آئیڈیا تھون وہ پلیٹ فارم ہے جو ہمارے عزم اور خیالات کی طاقت پر ہمارے یقین کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کمپیوٹر سائنس اور دیگر شعبوں کے بہترین دماغوں کو اکٹھا ہونے، تعاون کرنے، اور نئی ایجادات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی دور جدید کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ایک ایسا عالمی بحران جو فوری اور تخلیقی حل کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسے ایونٹس جیسے یہ آئیڈیا تھون ہمیں اپنے نوجوانوں کی اجتماعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور عزم کو بروئے کار لانے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں تاکہ اس فوری مسئلے کو حل کیا جاسکے اور مذکورہ ایونٹ کا مقصد بھی زمین کا ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے تحفظ کے اقدامات پر زور دینا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کو بھی مغربی پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز کرتے رہے اور آج اسکے نتائج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ ہمیں زمینی حقائق کو تسلیم اور اسکے مطابق اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف ہماری نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کیلئے ضروری ہے۔ اسپیشل سیکریٹری اینڈ ڈی جی لوکل گورنمنٹ ابوبکر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو مقامی عمل اور عالمی تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب ہم اس آئیڈیا تھون میں مشغول ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہر خیال، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اس میں ایک اثر پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو اہم مثبت تبدیلیوں کی طرف لے جاسکتا ہے۔ جو الگوردمز ہم ڈیزائن کرتے ہیں، جو سافٹ ویئر ہم تیار کرتے ہیں، اور جو نظام ہم تخلیق کرتے ہیں وہ سب ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ایک بڑی، عالمی کوشش میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ رئیس کلیہ علوم پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے کہا کہ کلائمیٹ ایکشن صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے جو ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ سوچیں ایسی دنیا کو جہاں صاف ہوا، زرخیز زمین، اور ماحول ہو۔ یہ خواب صرف مخصوص کلائمیٹ ایکشن کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا یہ مشن ہونا چاہئے کہ آنے والی نسلوں کو وراثت میں ایک ایسی زمین ملے جہاں وہ ترقی کرسکیں۔ کلائمیٹ ایکشن کو ترجیح دینے سے ہم نہ صرف اپنے سیارے کو بچا رہے ہیں بلکہ سماجی مساوات، برابری، اقتصادی ترقی، اور عالمی استحکام کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔
چیئر مین شعبہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر صادق علی خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے تیزی ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے فی الفور اقدامات شروع نہیں کئے تو اسکے بہت خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ہمیں اسکو نظر انداز کرنے کے بجائے سنجیدہ لینے اور اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صادق علی خان نے بتایا کہ اس دو روزہ کلائمیٹ ایکشن آئیڈیا تھونا آئیڈیا پچنگ مقابلوں کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دس مختلف جامعہ کی چالیس ٹیموں نے حصہ لیا۔ مقابلے میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کو کیش پرائزز سے نوازا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں