65

ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی 20 ھیمانی مینشن سے زندگی کی بہترین سنہری یادیں وابسطہ ہیں

ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
20 ھیمانی مینشن سے زندگی کی بہترین سنہری یادیں وابسطہ ہیں
بلدیہ ٹاؤن کراچی کی ایک بڑی آبادی میں سے ایک ہے اور انجمن طلبہ اسلام و اہلسنت کی اگر کوئی پہچان بلدیہ ٹاؤن میں ہے تو وہ بھائی خلیل الرحمٰن اور مرحوم گلزار حسین قادری تھے شائد ہی بلدیہ ٹاؤن کی کوئی گلی محلہ ہو کے جہاں لوگ ان دونوں احباب کو نا جانتے ہوں
گلزار بھائی اور خلیل بھائی مرکزی دفتر تشریف لاتے اور ہم دیر گئے تک بیٹھے دنیا بھر کے مسائل پر محو گفتگو رہتے خلیل بھائی عرصہ طویل تک ضلع غربی کے ناظم رہے ان کی موجودگی میں کوئی دوسرا یہ ذمہ داری لینے پر ہی تیار نہی ہوتا شائد بہت کم دوست یہ بات جانتے ہوں کہ میں شروع دن سے انہیں چشتی صاحب کہتا تھا اور وہ اکثر اپنی دائمی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے کہ یہ آپ مجھے چشتی صاحب کیوں کہتے ہیں میں چشتی نہی ہوں ماہ و سال بیتتے گئے اور یاد خیر البشر کے رشتے سے قائم یہ دوستی گہری سے گہری تر ہوتی گئی میری نظامت کراچی کے بعد بھائی رضوان غلام محمد ناظم کراچی بنے تو میں نے زبردستی انہیں کراچی کا جنرل سیکریٹری منتخب کرایا ہلکے پھلکے انداز سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا کہ آپ نے ذمہ داری کا بوجھ ڈال دیا لیکن اس کے بعد اس انداز سے کام کیا کہ بعد ازاں ناظم کراچی اور پھر مرکزی سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری تک پہنچے
اور ATIسےفراغت کے بعدجماعت اہلسنت کراچی کے ناظم اعلی کی ذمہ داری سنبھالی اور شہر بھر
میں تظیم سازی کی
سلسلہ چشت میں بیعت ہونے بعد ملاقات ہوئی تو فرمایا کہ آپ نے چشتی کہہ کہہ کر سچ میں چشتی بنادیا
انتہائی ملنسار مہمان نواز کشادہ قلب و جگر کے مالک سب کے حضرت علامہ لیکن میرے خلیل بھائی
افففففففف
کس دل سے کہو تجھ کو ائے یار خدا حافظ
محمد افتخار غزالی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں