88

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) کراچی پریس کلب کی اسکلز ڈویلپمنٹ کمیٹی اور میڈٹیک کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اےآئی مصنوعی ذہانت کے موضوع پر پریس کلب میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) کراچی پریس کلب کی اسکلز ڈویلپمنٹ کمیٹی اور میڈٹیک کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اےآئی مصنوعی ذہانت کے موضوع پر پریس کلب میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ سے کراچی پریس کلب کے صدر سعید سر بازی ،سیکرٹری شعیب احمد خان، محکمہ اطلاعات سندھ کے ڈائریکٹر فلم و ڈاکومینٹری حزب اللہ میمن، میڈٹیک کے سربراہ ارمان صابر، کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر و ٹرینر رضوان اعوان اور کراچی پریس کلب کی اسکلز ڈویلپمنٹ کمیٹی کے سیکرٹری ثاقب صغیر نے اظہار خیال کیا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اے آئی مصنوعی ذہانت ورکشاپ میں مختلف الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز سمیت خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ اے آئی ٹولز کو استعمال کرکے ایک صحافی اپنے کم وقت کو استعمال کرکے بہتر انداز میں اپنے کام میں مزید بہتری لاسکتے ہیں۔ ٹرینر رضوان اعوان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کا استعمال بتدریج تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسکے دور رس اثرات بھی سامنے آرہے ہیں، میڈیا سے وابستہ افراد کو اپنی قابلیت و اہلیت میں اضافے کیساتھ صحافیوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال لازم و ملزوم ہوگیا ہے، اس سلسلے میں انٹرنیٹ کے توسط سے اے آئی کا استعمال کرکے اپنی استعداد کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ کراچی پریس کے صدر سعید سر بازی نے کہا کہ کراچی پریس کلب میں اس طرح کے ورکشاپ کے ذریعے ہم اپنے ممبران کو جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہیں اور دور جدید میں آنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ سیکرٹری کراچی پریس کلب شعیب احمد خان نے ورکشاپ میں شریک شرکاء اور ٹرینر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب کی یہ روایت رہی ہے کہ ہم دور جدید کے جو بھی چیلنجر ہیں انکو دیکھتے ہوئے اپنے صحافیوں کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ہی صحافی اپنے کام میں بہتری لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپکو تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے فروغ کیلئے کام کررہا ہے اور اس سلسلے میں سیمینار ورکشاپ اور ٹریننگ سیشنز منعقد کررہا ہے۔ ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا کراچی پریس کلب سے چولی دامن کا ساتھ ہے اور آئندہ بھی رہیگا۔ انہوں نے کہا کہ میں پینتیس برس سے سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زمانے میں ہم اپنے ادارے کو بھی جدید تقاضوں کیمطابق ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں جس رفتار سے معاشرے میں ہر کام میں تیزی آرہی ہے اسی رفتار کیساتھ صحافیوں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔ سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ صحافیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔ اس طرح کی ورکشاپ سے صحافیوں کیساتھ ساتھ ہمیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ کراچی پریس کلب کی جانب سے صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے اے آئی ورکشاپ کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ارمان صابر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم صحافی بھائیوں اور کانٹینٹ کریئٹرز کیلئے اس طرح کی مزید ورکشاپ کا انعقاد کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کے صدر، سیکرٹری، ٹرینر اور شرکاء کا شُکریہ ادا کیا اور کہا کہ کراچی پریس کلب کی اسکلز ڈیولپمنٹ کمیٹی صحافیوں کے اسکلز میں اضافے کیلئے اچھا کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے بھی مستفید ہوسکتے ہیں اور ورکنگ جرنلسٹس کو فیلڈ میں کام کے دوران جو مسائل پیش آتے ہیں انکو مل کر دور کیا جاسکتا ہے۔ اے آئی ورکشاپ میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، آخر میں کراچی پریس کلب کی جانب سے ٹرینر رضوان اعوان اور مہمانوں کو یادگاری شیلڈز اور شرکاء کو اسناد پیش کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں