85

خالد خورشید وزیراعلیٰ گلگت بلتستان تھے.. ان پر جعلی ڈگری کا کیس بنا.. خالد خورشید کو یقین تھا کہ میں اس کیس میں سرخرو ہو جاؤں گا.. کیونکہ ان کی ڈگری اصلی تھی.. لیکن کام دکھانے والوں نے دکھا دیا.. یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ڈگری کو جعلی قرار دے دیا..

خالد خورشید وزیراعلیٰ گلگت بلتستان تھے.. ان پر جعلی ڈگری کا کیس بنا..
خالد خورشید کو یقین تھا کہ میں اس کیس میں سرخرو ہو جاؤں گا.. کیونکہ ان کی ڈگری اصلی تھی.. لیکن کام دکھانے والوں نے دکھا دیا.. یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ڈگری کو جعلی قرار دے دیا..

خالد خورشید نے ڈگری کی تقسیم کی تقریب کی تصاویر تک دکھا دی.. خالد خورشید کے کلاس فیلوز اور اساتذہ تک چیختے رہے کہ ڈگری اصلی ہے ہمارے ساتھ تو یہ پڑھا ہے.. لیکن اس ملک کی عدالتیں نہ مانی..

آج وہی کام ایک جج کے ساتھ کر دیا گیا..
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے وکالت پاس کی.. ڈگری لی.. وکالت کی.. پھر ماتحت عدلیہ میں بھرتی ہوا.. پھر اعلیٰ عدلیہ میں چلا گیا.. ہر جگہ ڈگریاں چیک ہوئیں.. کہیں ڈگری جعلی نہیں نکلی..
اسے الیکشن ٹربیونل کا جج بنایا گیا.. اسلام آباد کی تینوں سیٹوں کے کیس اس کے پاس لگ گئے.. اس نے تمام پارٹیوں سے فارم 45 بیان حلفی کے ساتھ طلب کر لیے.. تو یکدم پتا چلا کہ طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے خلاف کسی نے درخواست دائر کر دی ہے.. اور ایک ہی دن میں پتا چل گیا کہ ڈگری جعلی نکل آئی ہے یونیورسٹی سے ڈگری کا ریکارڈ تک غائب کر دیا گیا..
معاملہ بندر کے انصاف والا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں