ہاسٹل کے نام پر طلباء بچیوں کی عصمتیں لوٹنے کا دھندہ عروج پر
قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی نااہلی، بددیانتی، ملی بھگت یا نوٹوں کی چمک کا نتیجہ کئی بچیاں عزتیں پامال کروا بیٹھیں
بہاولپور ) جہاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سکینڈل نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہمارے قانون نافذ کرنیوالے اداروں و تعلیمی نظام بارے کئی سوالات جنم دیے وہیں ذرائع کے مطابق بہاولپور میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی ناک تلے متعدد پرائیویٹ غیر رجسٹرڈ ہاسٹلز میں مختلف طریقوں سے سے طالبات کا جنسی استحصال جاری ہے۔ ان پرائیویٹ ہاسٹلز و بہاولپور میں طالب علم بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں بارے قبل ازیں بھی نورنظر میڈیا گروپ میں متعدد اشاعت ہوئیں اور کئی ہاسٹلز کے خلاف کاروائیاں بھی ہوئیں۔ نورنظر ذرائع و نام نہ بتانے کی شرط پر یونیورسٹی چوک بہاولپور میرب گرلز ہاسٹل میں موجود درندوں کے ہاتھوں اپنی عزتیں پامال کروانے والی بے بس لڑکیوں نے بتلایا کہ ہاسٹل مالک محمد آصف مختلف طریقوں سے اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے متعدد مردوں کے ساتھ زنا حرام کاری کرواتا ہے۔ یہ بھی انکشاف کیا کہ ہاسٹل کے رومز کی چھت میں دراڑیں ہیں کسی بھی وقت زمین بوس ہو کر کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہے اور ہاسٹل رجسٹرڈ بھی نہ ہے۔ ٹیکس بھی ادا نہیں کیا جاتا، تاہم قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور بااثر افراد سے ملی بھگت کا نتیجہ کہ مجبوراً بلیک میل ہو کر بچیاں اس ناکارہ و کھٹارا ہاسٹل میں رہنے پر مجبور ہیں۔ متعدد لڑکوں و لڑکیوں کو رومز فراہم کر کے بعد ازاں انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اس طرح اس چنگل میں پھنس کر متعدد بچیاں عصمت دری کروا چکی ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں و ارباب اختیار کو چاہیے کہ بہاولپور یونیورسٹی چوک میں موجود میرب گرلز ہاسٹل کے خلاف بمطابق قانون قانونی کاروائی کریں۔ اور مالک ہاسٹل محمد آصف کے موبائل سے بچیوں کی نازیبا فحش ویڈیوز بھی برآمد کروائیں۔ معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے ملوث کرداروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ آئندہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔