نومنتخب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ملک میں انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں اور خواتین کے ڈریس کوڈ کے نفاذ سے متعلق اخلاقی پولیس کے بھی شدید مخالف ہیں۔
مسعود پزشکیان خواتین کو حجاب پہننے پر مجبور کرنے والی ایران کی اخلاقی پولیس کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دے چکے ہیں۔
ایران میں خواتین کی ایک بڑی تعداد ان قوانین کی کھل کر خلاف ورزی کرتی ہے۔ 70 سالہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’اگر مخصوص کپڑے پہننا گناہ ہے تو خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا یہ رویہ 100 گنا بڑا گناہ ہے۔ مذہب میں کسی کے لباس کی وجہ سے ان سے سختی کی اجازت نہیں۔‘
مسعود پزشکیان نے انتخابات جیتنے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ہر کسی کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔









