196

سکھر ( بیورو چیف دعا آن لائن نیوز سید ضیاءالرحمٰن ) میلاد مصطفے کمیٹی پاکستان کے چیرمین غیاث الدین قادری نے اسلامی سال نو 1446 کی أمد پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں سال نو کی آمد پر خود احتسابی کرنی چاہئیے، پاکستان سمیت عالم

سکھر ( بیورو چیف دعا آن لائن نیوز سید ضیاءالرحمٰن )
میلاد مصطفے کمیٹی پاکستان کے چیرمین غیاث الدین قادری نے اسلامی سال نو 1446 کی أمد پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں سال نو کی آمد پر خود احتسابی کرنی چاہئیے، پاکستان سمیت عالم اسلام کے مسلم حکمراں یہ سوچیں فکر کریں غور کریں کہ امت مسلمہ پر گزرنے والا پچھلا سال کیسا رہا مسلمانان عالم کی حالت زار کیسی رہی فلسطین غزہ کشمیر برماسمیت دنیا کے کٸ ممالک میں مسلمانوں پر جو ظلم وستم جبر و استبداد بربریت انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں و عالمی قوانین بے انتہا خلاف ورزیوں پر ہم نے کیا کیا انہوں نے کہا کہ مومن کا آنے والا کل گزرے ہوئے کل سے بہتر ہونا چاہئیے۔ ہر قوم اپنے اپنے انداز کے ساتھ خوشی مناتی ہے مگر ایک مومن مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق غم اور خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ ہر گزرے ہوئے دن پر ہمیں محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم نے اپنے اندر کون سی مثبت تبدیلی پیدا کی اور خود کو کن گناہوں سے محفوظ کرنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جب نیا سال آتا ہے تو ہماری زندگیوں سے ایک سال کم ہو جاتا ہے یعنی خسارہ ہو گیا، خسارے پر خوش ہوا جاتا ہے یا فکر مند اس پر غور کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اس گتھی کو سلجھاتے ہوئے فرمایا زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے مگر جن کی زندگی چار ستونوں پر کھڑی ہے وہ خسارے سے بچ گئے، یہ چار ستون کیا ہیں؟ اس بارے میں قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے، نمبر ایک جن کی زندگی ایمان پر ہے اور وہ ہر لمحہ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے فکر مند رہتے ہیں، نمبر دو جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ نیک اعمال کرنے پر صرف کرتے ہیں، نمبر تین جو ہمیشہ ثابت قدمی کے ساتھ حق بات کہتے ہیں، نمبر چار جو آزمائش اور مشکل کی گھڑی میں شور و غوغا کی بجائے صبر سے کام لیتے ہیں۔ ہمیں ان چار الوہی اور قرآنی اصولوں کے مطابق اپنا محاسبہ کرنا چاہئیے اور پھر فیصلہ کرنا چاہئیے کہ ہم خسارے میں ہیں یا فائدے میں ہیں؟ غیاث الدین قادری نے کہا کہ مسلم ممالک کے سربراہان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے منصب کے مطابق دنیا بھر کے مسلمانوں کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کریں فلسطین غزہ کے مسلمانوں کو اسراٸیل کے مظالم سے نجات دلانے کے لیۓ عالمی سطح پر ٹھوس اور موثر أواز بلند کریں کشمیر کے مسلمانوں کا ساتھ دیں انہیں انڈیا کے ظلم وستم سے بچانے کے اقدامات کریں پاکستان کے حکمراں انٹرنیشنل لیول پر امت مسلمہ کے مساٸل کے حل کے کوششیں کریں ملک و قوم کی بہتری کی خاطر اچھی قابل عمل اور عوام کے لیۓ قابل قبول پالیسیاں تشکیل دیں منہگاٸ کم کریں بجلی گیس پیٹرول سمیت کھانے پینے کی اشیاء کے نرخ نیچے لاٸیں غریب عوام کے مساٸل حل کریں عوام کو مشکلات سے نجات دلاٸیں نۓ اسلامی سال کو امن و استحکام سکون خوشحالی اور معاشی بحالی کا سال بناٸیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے بدامنی پھیلانے والوں کی سرکوبی کرنے کے لیۓ أپریشن عزم استحکام ملکی اور قومی ضرورت ہے ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں اور بچہ بچہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہے انہوں نے دعا کی کہ نیا اسلامی سال امت مسلمہ کی فتوحات کا سال ثابت ہو فلسطین اور کشمیر کی أزادی کا سال ہو عالم اسلامی کی ترقی و خوشحالی، بقا و سلامتی، امن و استحکام اور عروج و وقار کا سال ہو رحمتوں اور برکتوں کا سال سایہ فگن بن کر رہے پاکستان کے لیۓ بھی کامیابیوں اور ترقی و امن کا سال ثابت ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں