🌹حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان🌹
تحریر : علامہ حضرت پیرجی تہذیب الحسن شاذلی میلسی
رسول اللہ کے دوسرے خلیفہ اور تصوف و روحانیت کی دنیا کے عظیم شہنشاہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ امام عدل و حریت اور خلیفہ راشد ہیں، آپ مراد رسول ہیں، آپ کے ایمان پر عالم ملکوت کے باسیوں نے رسول اللہ ﷺ کو مبارک بادیاں پیش کیں ، آپ کا عشق رسول کمال کو پہنچا ہوا تھا.
آپ سے رسول اللہ کا رعب کچھ یوں ظاہر ہوتا تھا کہ جزیرہ عرب سے ساحل مکران تک سب کے سب حکام آپ سے ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے تھے، شیطان آپ کے ساۓ سے بھی دور بھاگتا تھا۔ آپ کی زبان پرحق بولتا تھا، دشمنان رسول کے لیے آپ شمشیر بے نیام تھے. الہامی شخصیت کے مالک تھے، آپ جو کچھ سوچتے وہی ہو کے رہتا، حضورﷺ آپ کے مشوروں کو خاص اہمیت عطا فرماتے ،سترہ کے قریب آیات آپ کی رائے کے موافق نازل ہوئیں۔
آپ جب نگاہیں اٹھاتے تو حجابات ہٹتے چلے جاتے اور
دشت و جبل کی وسعتیں آپ کی نگاہوں کے سامنے سمٹ
کے رہ جاتیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو رجل مبارک، رشید الامر اور امام الہدی کے القاب سے یاد کرتے تھے۔
آپ حد درجہ متواضع ، عبدیت کے بلند پایہ مینار ، خوف وخشیت سے لبریز ، خلوص و للہیت کے پیکر اور تقوی وطہارت کے تاج دار تھے۔ آپ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ چہرہ مبارک پر مسلسل رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں.
صوفیا آپ کی اداؤں کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہیں کیونکہ آپ پیوند لگے کھردرے کپڑے پہنتے ، ترک شہوات فرماتے ، مشکوک اشیاء سے اجتناب کرتے اور ہر معاملے میں وقار و شرافت کا پورا پورا لحاظ کرتے تھے، کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ گھبراتے ، حق کا جھنڈا بلند رکھتے ، باطل کو خوب مٹاتے ، اپنوں بیگانوں سے یکساں سلوک فرماتے اور طاعات میں شدت اختیار کرتے تھے. جب قیام اللیل میں قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تو بعض اوقات غش کھا کے گر جاتے تھے.
آپ نے فرمایا کہ ہم حلال کے نو حصے اس ڈر سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں حرام کے ایک حصے میں گرفتار نہ ہوجائیں، ہزاروں مربع میل کے امیر ہونے کے باوجود سامان اپنی پشت پر رکھ کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے اور وجہ یہ ارشادفرماتے کہ میں اپنے نفس کا مزاج درست رکھنے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ۔
🌹عدل فاروقی کے چودہ واقعات🌹
آپ کی شان عدالت کو شہرہ آفاق حیثیت حاصل ہے. آئیے آپ کے عدل چودہ واقعات ملاحظہ کرتے ہیں :
پہلا واقعہ
حضرت شعبیؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان (کھجور کے ایک درخت کے بارے میں) جھگڑا ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
آؤ ہم آپس کے فیصلے کے لئے کسی کو ثالث مقرر کر لیتے ہیں۔
چنانچہ ان دونوں حضرات نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث بنالیا۔ یہ دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں (اور امیر المؤمنین ہو کر میں خود آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ) فیصلہ کروانے والے خود ثالث کے گھر آیا کرتے ہیں۔
جب دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر کے سرہانے بٹھانا چاہا اور یوں کہا اے امیر المؤمنین! یہاں تشریف رکھیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا یہ پہلا ظلم ہے جو آپ نے اپنے فیصلہ میں کیا ہے میں تو اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حضرت ابی نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی سے کہا (قاعدہ کے مطابق انکار کرنے پر مدعی علیہ کو قسم کھانی پڑتی ہے لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ) آپ امیر المؤمنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں اور میں امیر المؤمنین کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ درخواست نہیں کر سکتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس رعایت کو قبول نہ کیا بلکہ) قسم کھائی اور قسم کھا کر کہا حضرت زید رضی اللہ عنہ صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عام مسلمان برابر ہو۔
دوسرا واقعہ
حضرت زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ایک گھر مدینہ منور ہ کی مسجد (نبوی) کے بالکل ساتھ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مسجد میں شامل کرنا چاہا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ یہ گھر میرے ہاتھ بیچ دیں۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ یہ گھر مجھے ہدیہ ہی کر دیں وہ یہ بھی نہ مانے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی یہ گھر مسجد میں شامل کر دیں۔
انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کو ان تین کاموں میں سے کوئی ایک کام تو کرنا ہی پڑے گا لیکن حضرت عباس پھر بھی تیار نہ ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا پھر کسی کو آپ ثالث مقرر کر لیں جو ہمارا فیصلہ کردے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ یہ دونوں حضرات اپنا مقدمہ ان کے پاس لے گئے۔
حضرت ابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میرا فیصلہ یہ ہے کہ آپ ان کی مرضی کے بغیر ان سے یہ گھر نہیں لے سکتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ کو یہ فیصلہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن میں ملا ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں؟ انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ حدیث کیا ہے؟
حضرت ابی نے کہا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑنے جب بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو جب بھی وہ کوئی دیوار بناتے تو صبح کو وہ گری ہوئی ہوتی۔
آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی بھیجی کہ اگر آپ کسی کی زمین میں بنانا چاہتے ہیں تو پہلے اسے راضی کر لیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ بعد میں حضرت عباس نے اپنی خوشی سے اس گھر کو مسجد میں شامل کر دیا۔ (اخرجہ عبدالرزاق)
تیسرا واقعہ
حضرت حسنؒ کہتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب تھا۔ اس کے پاس کسی کی آمدورفت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس سے کھٹک ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لئے ا س کے پاس آدمی بھیجا۔
اس آدمی نے اس عورت سے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمہیں بلا رہے ہیں۔
اس نے کہا ہائے میری ہلاکت۔
مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ۔ وہ گھر سے چلی (وہ حاملہ تھی) ابھی وہ راستہ میں تھی کہ وہ گھبرا گئی جس سے اسے دردزہ شروع ہو گیا۔
وہ ایک گھر میں چلی گئی۔ جہاں اس کا بچہ پیدا ہوا۔ بچہ دو دفعہ رویا اور مر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے مشورہ کیا (کہ میرے ڈر کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی اور بچہ قبل از وقت پیدا ہو گیا۔ اس وجہ سے وہ بچہ مر گیا تو کیا اس بچہ کے یوں مر جانے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز شرعاً لازم آتی ہے؟)
بعض صحابہ نے کہا آپ پر کچھ لازم نہیں آتا۔ کیونکہ آپ مسلمانوں کے والی ہیں اور (اس وجہ سے) آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ان کو ادب سکھائیں کوئی کمی دیکھیں تو انہیں بلا کر تنبیہ کریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر ان لوگوں نے یہ بات بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے اور اگر انہوں نے آپ کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی ہے تو انہوں نے آپ کے ساتھ خیر خواہی نہیں کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس بچہ کی دیت یعنی خون بہا آپ کو دینا پڑے گا۔ کیونکہ آپ کے بلانے کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی ہے۔ اس لئے یوں بچے کے قبل از وقت پیدا ہو جانے کا سبب آپ ہی ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس بچہ کا خون بہا سارے قریش سے وصول کریں اس لئے کہ یہ قتل ان سے خطا کے طور پر صادر ہو ا ہے۔
چوتھا واقعہ
حضرت عطاءؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ حج کے موقع پر ان کے پاس آیا کریں۔ جب سارے گورنر آ جاتے تو (عام مسلمانوں کو جمع کر کے) فرماتے:۔
۔”اے لوگو! میں نے اپنے گورنر تمہارے ہاں اس لئے نہیں بھیجے ہیں کہ وہ تمہاری کھال ادھیڑیں یا تمہارے مال پر قبضہ کریں یا تمہیں بے عزت کریں بلکہ میں نے تو صرف اس لئے ان کو بھیجا ہے تاکہ تمہیں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنے دیں اور تمہارے درمیان مال غنیمت تقسیم کریں۔ لہٰذا جس کے ساتھ اس کے خلاف کیا گیا ہو وہ کھڑا ہو جائے (اور اپنی بات بتائے۔)”۔
۔(چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے گورنروں کو جمع کر کے لوگوں میں یہی اعلان کیا تو) صرف ایک آدمی کھڑا ہوا
اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ کے فلاں گورنر نے مجھے (ظلماً) سو کوڑے مارے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس گورنر سے) کہا تم نے اسے کیوں مارا؟
۔(اور اس آدمی سے کہا) اٹھ اور اس گورنر سے بدلہ لے۔ اس پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا اگر آپ نے اس طرح گورنروں سے بدلہ دلانا شروع کر دیا تو پھر آپ کے پاس بہت زیادہ شکایات آنے لگ جائیں گی اور یہ گورنروں سے بدلہ لینا ایسا دستور بن جائے گا کہ جو بھی آپ کے بعد آئے گا اسے یہ اختیار کرنا پڑے گا (حالانکہ اپنے گورنروں سے بدلہ دلوانا ہر امیر کے بس میں نہیں ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات اقدس سے بدلہ دلوانے کے لئے تیار رہتے ہوئے دیکھا ہے تو میں (اپنے گورنر سے) کیوں نہ بدلہ دلواؤں؟ حضرت عمرو نے کہا آپ ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا چلو تم اسے راضی کر لو۔ چنانچہ اس گورنر نے ہر کوڑے کے بدلہ دو دینار کے حساب سے دو سو دینار اس آدمی کو بدلہ میں دئیے۔
پانچواں واقعہ:۔
حضرت یزید بن ابی منصورؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ بحرین میں ان کے مقرر کردہ گورنر حضرت ابن جارود یا ابن ابی جارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا نام ادریاس تھا اس نے مسلمانوں کے دشمن کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کر رکھی تھی اور ان دشمنوں کے ساتھ مل جانے کا ارادہ بھی تھا اور اس کے ان جرائم پر گواہ بھی موجود تھے اس پر اس گورنر نے اسے قتل کر دیا۔
وہ شخص قتل ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا اے عمر! میری مدد کو آئیں۔ اے عمر! میں مظلوم ہوں میری مدد کو آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس گورنر کو خط لکھا کہ میرے پاس آؤ۔
چنانچہ وہ آ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ تھا۔ جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ چھوٹا نیزہ اس کے جبڑوں پر مارنا چاہا (لیکن مارا نہیں کہ حضرت جارود نے اجتہای غلطی کی وجہ سے اس آدمی کو قتل کیا تھا اس لئے چھوڑ دیا) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے جا رہے تھے ، اے ادریاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔
اے ادریاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں اور حضرت جارود کہنے لگے اے امیر المؤمنین! اس نے مسلمانوں کی خفیہ باتیں دشمن کو لکھی تھیں اور دشمن سے جا ملنے کا اس نے ارادہ بھی کر رکھا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا صرف برائی کے ارادہ پر ہی تم نے اسے قتل کر دیا۔
ہم میں ایسا کون ہے جس کے دل میں ایسے برے ارادے نہیں آتے؟ اگر گورنروں کے قتل کرنے کا مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ میں ضرور قتل کر دیتا۔
چھٹا واقعہ:۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر کہا میرے آقا نے پہلے مجھ پر تہمت لگائی۔ پھر مجھے آگ پر بٹھا دیا۔
جس سے میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے آقا نے تم کو وہ برا کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس باندی نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے کسی برائی کا اس کے سامنے اقرار کیا تھا؟ اس باندی نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ (چنانچہ وہ آدمی آ گیا)
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو دیکھا تو فرمایا کیا تم انسانوں کو وہ عذاب دیتے ہو جو اللہ کے ساتھ خاص ہے؟
اس آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین! مجھے اس پر شبہ ہو اتھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے اسے وہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا کیا اس باندی نے تمہارے سامنے اس جرم کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ مالک سے اس کے غلام کو اور والد سے اس کے بیٹے کو بدلہ نہیں دلوایا جائے گا تو میں تجھ سے اس باندی کو بدلہ دلواتا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو سو کوڑے مارے اور اس باندی سے فرمایا تو جا، تو اللہ کے لئے آزاد ہے۔ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آگ میں جلایا گیا یا جس کی شکل آگ سے جلاکر بگاڑی گئی وہ آزاد ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ ہے۔
ساتواں واقعہ:۔
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ایک دیہاتی کو بلایا تاکہ وہ بیت المقدس کے پاس ان کی سواری کو پکڑ کر کھڑا رہے اس نے انکار کر دیا۔
اس پر حضرت عبادہ نے اسے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ اس نے ان کے خلاف حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
انہو ں نے کہا اے امیر المؤمنین! میں نے اسے کہا کہ میری سواری پکڑ کر کھڑا رہے لیکن اس نے انکار کر دیا اور مجھ میں ذرا تیزی ہے اس لئے میں نے اسے مار دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ بدلہ دینے کے لئے بیٹھ جائیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ اپنے غلام کو اپنے بھائی سے بدلہ دلوا رہے ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بدلہ دلوانے کا ارادہ چھوڑ دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ حضرت عبادہ اسے اس زخم کے بدلہ میں مقررہ رقم دیں۔
آٹھواں واقعہ:۔
حضرت قاسم بن ابی بزہ کہتے ہیں شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کافر کو قتل کر دیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی مقدمہ پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ قصہ لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ لکھا کہ یوں ذمیوں کا قتل کرنا اگر اس مسلمان کی مستقل عادت بن گئی ہے پھر تو اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دو اور اگر وہ طیش میں آ کر اچانک ایسا کر بیٹھا ہے تو اس پر چار ہزار کی دیت کا جرمانہ لگادو۔
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کسی نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کسی مشرک کو امان دے دی اور وہ مشرک اس وجہ سے اس مسلمان کے پاس آ گیا اور پھر مسلمان نے اسے قتل کر دیا تو (یوں دھوکہ سے قتل کرنے پر) میں اس مسلمان کو ضرور قتل کروں گا۔
نواں واقعہ:۔
حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (دمشق کی بستی) جابیہ پہنچے تو آپ نے ایک بوڑھے ذمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے کھانا مانگ رہا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا (کہ یہ کیوں مانگ رہا ہے) کسی نے کہا یہ ذمی آدمی ہے جو کمزور اور بوڑھا ہو گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ذمہ جو جزیہ تھا وہ معاف کر دیا اور فرمایا پہلے تم نے اس پر جزیہ لگایا (جسے وہ دیتا رہا) اب جب وہ کمزور ہو گیا ہے تو تم نے اسے کھانا مانگنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔
پھر آپ نے اس کے لئے بیت المال میں سے دس درہم وظیفہ مقرر کیا۔ وہ بوڑھا عیال دار تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بوڑھے ذمی پر گزر ہوا جو لوگوں سے مسجدوں کے دروازوں پر مانگتا پھر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (اے ذمی!) ہم نے تم سے انصاف نہیں کیا۔
جوانی میں تو ہم تم سے جزیہ لیتے رہے اور بڑھاپے میں ہم نے تمہارا کوئی خیال نہ رکھا۔ پھر آپ نے اس کے لئے بیت المال میں سے بقدر گزارا وظیفہ جاری کر دیا۔
حضرت یزید بن ابی مالکؒ کہتے ہیں کہ مسلمان جابیہ بستی میں ٹھہرے ہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک ذمی نے آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ لوگ اس کے انگوروں کے باغ پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ان کی اپنے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی جس نے اپنی ڈھال پر انگور اٹھا رکھے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ارے میاں تم بھی۔
اس نے کہا اے امیر المؤمنین! ہمیں بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی ہے (کھانے کا اور سامان ہے نہیں) یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور یہ حکم دیا کہ اس ذمی کو اس کے انگوروں کی قیمت ادا کی جائے۔
دسواں واقعہ:۔
حضرت سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان اور یہودی اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ یہودی حق پر ہے تو آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔
اس پر اس یہودی نے کہا اللہ کی قسم! آپ نے حق کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے (خوشی میں ہلکا سا) کوڑا مارا اور فرمایا تجھے کس طرح پتہ چلا (کہ حق کیا ہوتا ہے؟) اس پر یہودی نے کہا اللہ کی قسم! ہمیں تورات میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ جو قاضی حق کا فیصلہ کرتا ہے اس کے دائیں جانب ایک فرشتہ اور بائیں جانب ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اسے صحیح راستہ پر چلاتے ہیں اور اسے حق بات کا الہام کرتے ہیں جب تک وہ قاضی حق کا فیصلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
جب وہ یہ عزم چھوڑ دیتا ہے تو دونوں فرشتے اسے چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔
گیارھواں واقعہ:۔
حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد (حضرت سلمہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار سے گزرے۔ ان کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا۔
انہوں نے آہستہ سے وہ کوڑا مجھے مارا جو میرے کپڑے کے کنارے کو لگ گیا اور فرمایا راستہ سے ہٹ جاؤ جب اگلا سال آیا تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ مجھ سے کہا اے سلمہ! کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟
میں نے کہا جی ہاں۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے چھ سو درہم دئیے اور کہا انہیں اپنے سفر حج میں کام لے آنا اور یہ اس ہلکے سے کوڑے کے بدلہ میں ہیں جو میں نے تم کو مارا تھا۔
میں نے کہا اے امیر المؤمنین! مجھے تو وہ کوڑا یاد بھی نہیں رہا۔ فرمایا لیکن میں تو اسے نہیں بھولا (یعنی میں نے مار تو دیا لیکن سارا سال کھٹکتا رہا۔)
ماخوذ از حیات صحابہ – صفحہ نمبر: 492 – 497
بارہواں واقعہ
ملک غَسَّان کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا، کچھ دنوں بعد امیرُ المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حج کے ارادے سے نکلے تو جبلہ بن ایہم بھی اس قافلے میں شریک ہو گیا ۔ مکۂ مکرمہ پہنچنے کے بعد ایک دن دورانِ طواف کسی دیہاتی مسلمان کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا تو چادر کندھے سے اتر گئی ۔ جبلہ بن ایہم نے اس سے پوچھا : تو نے میری چادر پر قدم کیوں رکھا؟ اس نے کہا : میں نے جان بوجھ کر قدم نہیں رکھا غلطی سے پڑ گیا تھا ۔ یہ سن کر جبلہ نے ایک زور دار تھپڑ ان کے چہرے پر رسید کر دیا، تھپڑ کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ناک بھی زخمی ہو گئی ۔ یہ دیہاتی مسلمان حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جبلہ بن ایہم کے سلوک کی شکایت کی ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جبلہ بن ایہم کو طلب فرمایا اور پوچھا : کیا تو نے اس دیہاتی کو تھپڑ مارا ہے ؟ جبلہ نے کہا : ہاں میں نے تھپڑ مارا ہے ، اگر اس حرم کے تقدس کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اے جبلہ ! تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے ، اب یا تو تو اس دیہاتی سے معافی مانگ یا میں تم سے اس کا قصاص لوں گا ۔ جبلہ نے حیران ہو کر کہا : کیا آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس غریب دیہاتی کی وجہ سے مجھ سے قصاص لیں گے حالانکہ میں تو بادشاہ ہوں ؟ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اسلام قبول کرنے کے بعد حقوق میں تم دونوں برابر ہو ۔ جبلہ نے عرض کی : مجھے ایک دن کی مہلت دیجئے پھر مجھ سے قصاص لے لیجئے گا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس دیہاتی سے دریافت فرمایا : کیا تم اسے مہلت دیتے ہو؟ دیہاتی نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے مہلت دے دی، مہلت ملنے کے بعد راتوں رات جبلہ بن ایہم غسانی ملک شام کی طرف بھاگ گیا اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا ۔
(فتوح الشام، ذکر فتح حمص، ص۱۰۰، الجزء الاول)
تیرہواں واقعہ
مصر کا ایک باشندہ آپ کے پاس عمرو بن عاص کے بیٹے کی شکایت لے کر آیا … عمرو بن عاص اس وقت مصر کے گورنر تھے … اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں ظلم سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو نے اچھی پناہ گاہ ڈھونڈی۔ اس نے کہا: میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ اس پر وہ مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہا میں معزز فرد کا بیٹا ہوں۔ (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا اور انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور مارو۔ وہ اسے مارنے لگا اور عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ’’معزز فرد کے بیٹے کو مار۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس نے مارا، اللہ کی قسم اس نے اس کو خوب مارا اور ہماری تمنا تھی کہ اسے مارا جائے، وہ اسے مسلسل کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ اب نہ مارا جائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مصری سے کہا: عمرو بن عاص کے سر پر مارو۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے لڑکے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟ عمرو بن عاص نے فرمایا: اے امیر المومنین! نہ میں نے اس واقعہ کو جانا اور نہ وہ (مصری) میرے پاس آیا۔ (الوسیط للصلابی)
چودہواں واقعہ
عیاض بن خلیفہ کہتے ہیں کہ رمادہ کے سال میں نے دیکھا کہ حضرت عمر کا رنگ سیاہ پڑ گیا ہے حالانکہ پہلے ان کا رنگ سفید تھا۔ ان سے پوچھا جاتا کہ کہ یہ کس وجہ سے ہے؟ آپ فرماتے کہ عمر ایک عربی شخص تھا،گھی اور دودھ استعمال کیا کرتا تھا ۔جب لوگ قحط کا شکار ہوئے تو اس نے یہ دونوں چیزیں اپنے اوپر حرام کر دیں۔ جس کی وجہ سے اس کا رنگ بدل گیا ، اس نے فاقے شروع کر دیے اور یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔
خود حضرت عمر کی اولاد میں سے بعضوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ حضرت عمر کا رنگ سفید تھا۔ جب رمادہ کا سال آیا جو کہ بھوک کا سال تھا تو اُنہوں نے گوشت اور گھی چھوڑ کر مسلسل روغن زیتون استعمال کرنا شروع کیا۔ جس سے ان کا رنگ بدل گیا۔ وہ سرخ وسفید تھے لیکن اب سیاہ لاغر ہو گئے۔
اسامہ بن زید بن اسلم اپنے دادا اسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ
“كنا نقول لو لم يرفع الله المحل عام الرمادة لظننا أن عمر يموت همًّا بأمر المسلمين”
”یعنی رمادہ کے سال ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ قحط ختم نہ کیا تو حضرت عمر یقیناً مسلمانوں کے غم میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔(طبقات ابن سعد)🌹حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان🌹
تحریر :علامہ حضرت پیر جی تہذیب الحسن شاذلی میلسی
رسول اللہ کے دوسرے خلیفہ اور تصوف و روحانیت کی دنیا کے عظیم شہنشاہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ امام عدل و حریت اور خلیفہ راشد ہیں، آپ مراد رسول ہیں، آپ کے ایمان پر عالم ملکوت کے باسیوں نے رسول اللہ ﷺ کو مبارک بادیاں پیش کیں ، آپ کا عشق رسول کمال کو پہنچا ہوا تھا.
آپ سے رسول اللہ کا رعب کچھ یوں ظاہر ہوتا تھا کہ جزیرہ عرب سے ساحل مکران تک سب کے سب حکام آپ سے ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے تھے، شیطان آپ کے ساۓ سے بھی دور بھاگتا تھا۔ آپ کی زبان پرحق بولتا تھا، دشمنان رسول کے لیے آپ شمشیر بے نیام تھے. الہامی شخصیت کے مالک تھے، آپ جو کچھ سوچتے وہی ہو کے رہتا، حضورﷺ آپ کے مشوروں کو خاص اہمیت عطا فرماتے ،سترہ کے قریب آیات آپ کی رائے کے موافق نازل ہوئیں۔
آپ جب نگاہیں اٹھاتے تو حجابات ہٹتے چلے جاتے اور
دشت و جبل کی وسعتیں آپ کی نگاہوں کے سامنے سمٹ
کے رہ جاتیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو رجل مبارک، رشید الامر اور امام الہدی کے القاب سے یاد کرتے تھے۔
آپ حد درجہ متواضع ، عبدیت کے بلند پایہ مینار ، خوف وخشیت سے لبریز ، خلوص و للہیت کے پیکر اور تقوی وطہارت کے تاج دار تھے۔ آپ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ چہرہ مبارک پر مسلسل رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں.
صوفیا آپ کی اداؤں کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہیں کیونکہ آپ پیوند لگے کھردرے کپڑے پہنتے ، ترک شہوات فرماتے ، مشکوک اشیاء سے اجتناب کرتے اور ہر معاملے میں وقار و شرافت کا پورا پورا لحاظ کرتے تھے، کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ گھبراتے ، حق کا جھنڈا بلند رکھتے ، باطل کو خوب مٹاتے ، اپنوں بیگانوں سے یکساں سلوک فرماتے اور طاعات میں شدت اختیار کرتے تھے. جب قیام اللیل میں قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تو بعض اوقات غش کھا کے گر جاتے تھے.
آپ نے فرمایا کہ ہم حلال کے نو حصے اس ڈر سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں حرام کے ایک حصے میں گرفتار نہ ہوجائیں، ہزاروں مربع میل کے امیر ہونے کے باوجود سامان اپنی پشت پر رکھ کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے اور وجہ یہ ارشادفرماتے کہ میں اپنے نفس کا مزاج درست رکھنے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ۔
🌹عدل فاروقی کے چودہ واقعات🌹
آپ کی شان عدالت کو شہرہ آفاق حیثیت حاصل ہے. آئیے آپ کے عدل چودہ واقعات ملاحظہ کرتے ہیں :
پہلا واقعہ
حضرت شعبیؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان (کھجور کے ایک درخت کے بارے میں) جھگڑا ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
آؤ ہم آپس کے فیصلے کے لئے کسی کو ثالث مقرر کر لیتے ہیں۔
چنانچہ ان دونوں حضرات نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث بنالیا۔ یہ دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں (اور امیر المؤمنین ہو کر میں خود آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ) فیصلہ کروانے والے خود ثالث کے گھر آیا کرتے ہیں۔
جب دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر کے سرہانے بٹھانا چاہا اور یوں کہا اے امیر المؤمنین! یہاں تشریف رکھیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا یہ پہلا ظلم ہے جو آپ نے اپنے فیصلہ میں کیا ہے میں تو اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حضرت ابی نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی سے کہا (قاعدہ کے مطابق انکار کرنے پر مدعی علیہ کو قسم کھانی پڑتی ہے لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ) آپ امیر المؤمنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں اور میں امیر المؤمنین کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ درخواست نہیں کر سکتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس رعایت کو قبول نہ کیا بلکہ) قسم کھائی اور قسم کھا کر کہا حضرت زید رضی اللہ عنہ صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عام مسلمان برابر ہو۔
دوسرا واقعہ
حضرت زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ایک گھر مدینہ منور ہ کی مسجد (نبوی) کے بالکل ساتھ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مسجد میں شامل کرنا چاہا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ یہ گھر میرے ہاتھ بیچ دیں۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ یہ گھر مجھے ہدیہ ہی کر دیں وہ یہ بھی نہ مانے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی یہ گھر مسجد میں شامل کر دیں۔
انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کو ان تین کاموں میں سے کوئی ایک کام تو کرنا ہی پڑے گا لیکن حضرت عباس پھر بھی تیار نہ ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا پھر کسی کو آپ ثالث مقرر کر لیں جو ہمارا فیصلہ کردے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ یہ دونوں حضرات اپنا مقدمہ ان کے پاس لے گئے۔
حضرت ابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میرا فیصلہ یہ ہے کہ آپ ان کی مرضی کے بغیر ان سے یہ گھر نہیں لے سکتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ کو یہ فیصلہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن میں ملا ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں؟ انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ حدیث کیا ہے؟
حضرت ابی نے کہا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑنے جب بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو جب بھی وہ کوئی دیوار بناتے تو صبح کو وہ گری ہوئی ہوتی۔
آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی بھیجی کہ اگر آپ کسی کی زمین میں بنانا چاہتے ہیں تو پہلے اسے راضی کر لیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ بعد میں حضرت عباس نے اپنی خوشی سے اس گھر کو مسجد میں شامل کر دیا۔ (اخرجہ عبدالرزاق)
تیسرا واقعہ
حضرت حسنؒ کہتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب تھا۔ اس کے پاس کسی کی آمدورفت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس سے کھٹک ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لئے ا س کے پاس آدمی بھیجا۔
اس آدمی نے اس عورت سے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمہیں بلا رہے ہیں۔
اس نے کہا ہائے میری ہلاکت۔
مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ۔ وہ گھر سے چلی (وہ حاملہ تھی) ابھی وہ راستہ میں تھی کہ وہ گھبرا گئی جس سے اسے دردزہ شروع ہو گیا۔
وہ ایک گھر میں چلی گئی۔ جہاں اس کا بچہ پیدا ہوا۔ بچہ دو دفعہ رویا اور مر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے مشورہ کیا (کہ میرے ڈر کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی اور بچہ قبل از وقت پیدا ہو گیا۔ اس وجہ سے وہ بچہ مر گیا تو کیا اس بچہ کے یوں مر جانے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز شرعاً لازم آتی ہے؟)
بعض صحابہ نے کہا آپ پر کچھ لازم نہیں آتا۔ کیونکہ آپ مسلمانوں کے والی ہیں اور (اس وجہ سے) آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ان کو ادب سکھائیں کوئی کمی دیکھیں تو انہیں بلا کر تنبیہ کریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر ان لوگوں نے یہ بات بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے اور اگر انہوں نے آپ کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی ہے تو انہوں نے آپ کے ساتھ خیر خواہی نہیں کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس بچہ کی دیت یعنی خون بہا آپ کو دینا پڑے گا۔ کیونکہ آپ کے بلانے کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی ہے۔ اس لئے یوں بچے کے قبل از وقت پیدا ہو جانے کا سبب آپ ہی ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس بچہ کا خون بہا سارے قریش سے وصول کریں اس لئے کہ یہ قتل ان سے خطا کے طور پر صادر ہو ا ہے۔
چوتھا واقعہ
حضرت عطاءؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ حج کے موقع پر ان کے پاس آیا کریں۔ جب سارے گورنر آ جاتے تو (عام مسلمانوں کو جمع کر کے) فرماتے:۔
۔”اے لوگو! میں نے اپنے گورنر تمہارے ہاں اس لئے نہیں بھیجے ہیں کہ وہ تمہاری کھال ادھیڑیں یا تمہارے مال پر قبضہ کریں یا تمہیں بے عزت کریں بلکہ میں نے تو صرف اس لئے ان کو بھیجا ہے تاکہ تمہیں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنے دیں اور تمہارے درمیان مال غنیمت تقسیم کریں۔ لہٰذا جس کے ساتھ اس کے خلاف کیا گیا ہو وہ کھڑا ہو جائے (اور اپنی بات بتائے۔)”۔
۔(چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے گورنروں کو جمع کر کے لوگوں میں یہی اعلان کیا تو) صرف ایک آدمی کھڑا ہوا
اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ کے فلاں گورنر نے مجھے (ظلماً) سو کوڑے مارے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس گورنر سے) کہا تم نے اسے کیوں مارا؟
۔(اور اس آدمی سے کہا) اٹھ اور اس گورنر سے بدلہ لے۔ اس پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا اگر آپ نے اس طرح گورنروں سے بدلہ دلانا شروع کر دیا تو پھر آپ کے پاس بہت زیادہ شکایات آنے لگ جائیں گی اور یہ گورنروں سے بدلہ لینا ایسا دستور بن جائے گا کہ جو بھی آپ کے بعد آئے گا اسے یہ اختیار کرنا پڑے گا (حالانکہ اپنے گورنروں سے بدلہ دلوانا ہر امیر کے بس میں نہیں ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات اقدس سے بدلہ دلوانے کے لئے تیار رہتے ہوئے دیکھا ہے تو میں (اپنے گورنر سے) کیوں نہ بدلہ دلواؤں؟ حضرت عمرو نے کہا آپ ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا چلو تم اسے راضی کر لو۔ چنانچہ اس گورنر نے ہر کوڑے کے بدلہ دو دینار کے حساب سے دو سو دینار اس آدمی کو بدلہ میں دئیے۔
پانچواں واقعہ:۔
حضرت یزید بن ابی منصورؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ بحرین میں ان کے مقرر کردہ گورنر حضرت ابن جارود یا ابن ابی جارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا نام ادریاس تھا اس نے مسلمانوں کے دشمن کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کر رکھی تھی اور ان دشمنوں کے ساتھ مل جانے کا ارادہ بھی تھا اور اس کے ان جرائم پر گواہ بھی موجود تھے اس پر اس گورنر نے اسے قتل کر دیا۔
وہ شخص قتل ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا اے عمر! میری مدد کو آئیں۔ اے عمر! میں مظلوم ہوں میری مدد کو آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس گورنر کو خط لکھا کہ میرے پاس آؤ۔
چنانچہ وہ آ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ تھا۔ جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ چھوٹا نیزہ اس کے جبڑوں پر مارنا چاہا (لیکن مارا نہیں کہ حضرت جارود نے اجتہای غلطی کی وجہ سے اس آدمی کو قتل کیا تھا اس لئے چھوڑ دیا) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے جا رہے تھے ، اے ادریاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔
اے ادریاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں اور حضرت جارود کہنے لگے اے امیر المؤمنین! اس نے مسلمانوں کی خفیہ باتیں دشمن کو لکھی تھیں اور دشمن سے جا ملنے کا اس نے ارادہ بھی کر رکھا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا صرف برائی کے ارادہ پر ہی تم نے اسے قتل کر دیا۔
ہم میں ایسا کون ہے جس کے دل میں ایسے برے ارادے نہیں آتے؟ اگر گورنروں کے قتل کرنے کا مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ میں ضرور قتل کر دیتا۔
چھٹا واقعہ:۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر کہا میرے آقا نے پہلے مجھ پر تہمت لگائی۔ پھر مجھے آگ پر بٹھا دیا۔
جس سے میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے آقا نے تم کو وہ برا کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس باندی نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے کسی برائی کا اس کے سامنے اقرار کیا تھا؟ اس باندی نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ (چنانچہ وہ آدمی آ گیا)
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو دیکھا تو فرمایا کیا تم انسانوں کو وہ عذاب دیتے ہو جو اللہ کے ساتھ خاص ہے؟
اس آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین! مجھے اس پر شبہ ہو اتھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے اسے وہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا کیا اس باندی نے تمہارے سامنے اس جرم کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ مالک سے اس کے غلام کو اور والد سے اس کے بیٹے کو بدلہ نہیں دلوایا جائے گا تو میں تجھ سے اس باندی کو بدلہ دلواتا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو سو کوڑے مارے اور اس باندی سے فرمایا تو جا، تو اللہ کے لئے آزاد ہے۔ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آگ میں جلایا گیا یا جس کی شکل آگ سے جلاکر بگاڑی گئی وہ آزاد ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ ہے۔
ساتواں واقعہ:۔
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ایک دیہاتی کو بلایا تاکہ وہ بیت المقدس کے پاس ان کی سواری کو پکڑ کر کھڑا رہے اس نے انکار کر دیا۔
اس پر حضرت عبادہ نے اسے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ اس نے ان کے خلاف حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
انہو ں نے کہا اے امیر المؤمنین! میں نے اسے کہا کہ میری سواری پکڑ کر کھڑا رہے لیکن اس نے انکار کر دیا اور مجھ میں ذرا تیزی ہے اس لئے میں نے اسے مار دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ بدلہ دینے کے لئے بیٹھ جائیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ اپنے غلام کو اپنے بھائی سے بدلہ دلوا رہے ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بدلہ دلوانے کا ارادہ چھوڑ دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ حضرت عبادہ اسے اس زخم کے بدلہ میں مقررہ رقم دیں۔
آٹھواں واقعہ:۔
حضرت قاسم بن ابی بزہ کہتے ہیں شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کافر کو قتل کر دیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی مقدمہ پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ قصہ لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ لکھا کہ یوں ذمیوں کا قتل کرنا اگر اس مسلمان کی مستقل عادت بن گئی ہے پھر تو اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دو اور اگر وہ طیش میں آ کر اچانک ایسا کر بیٹھا ہے تو اس پر چار ہزار کی دیت کا جرمانہ لگادو۔
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کسی نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کسی مشرک کو امان دے دی اور وہ مشرک اس وجہ سے اس مسلمان کے پاس آ گیا اور پھر مسلمان نے اسے قتل کر دیا تو (یوں دھوکہ سے قتل کرنے پر) میں اس مسلمان کو ضرور قتل کروں گا۔
نواں واقعہ:۔
حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (دمشق کی بستی) جابیہ پہنچے تو آپ نے ایک بوڑھے ذمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے کھانا مانگ رہا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا (کہ یہ کیوں مانگ رہا ہے) کسی نے کہا یہ ذمی آدمی ہے جو کمزور اور بوڑھا ہو گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ذمہ جو جزیہ تھا وہ معاف کر دیا اور فرمایا پہلے تم نے اس پر جزیہ لگایا (جسے وہ دیتا رہا) اب جب وہ کمزور ہو گیا ہے تو تم نے اسے کھانا مانگنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔
پھر آپ نے اس کے لئے بیت المال میں سے دس درہم وظیفہ مقرر کیا۔ وہ بوڑھا عیال دار تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بوڑھے ذمی پر گزر ہوا جو لوگوں سے مسجدوں کے دروازوں پر مانگتا پھر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (اے ذمی!) ہم نے تم سے انصاف نہیں کیا۔
جوانی میں تو ہم تم سے جزیہ لیتے رہے اور بڑھاپے میں ہم نے تمہارا کوئی خیال نہ رکھا۔ پھر آپ نے اس کے لئے بیت المال میں سے بقدر گزارا وظیفہ جاری کر دیا۔
حضرت یزید بن ابی مالکؒ کہتے ہیں کہ مسلمان جابیہ بستی میں ٹھہرے ہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک ذمی نے آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ لوگ اس کے انگوروں کے باغ پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ان کی اپنے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی جس نے اپنی ڈھال پر انگور اٹھا رکھے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ارے میاں تم بھی۔
اس نے کہا اے امیر المؤمنین! ہمیں بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی ہے (کھانے کا اور سامان ہے نہیں) یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور یہ حکم دیا کہ اس ذمی کو اس کے انگوروں کی قیمت ادا کی جائے۔
دسواں واقعہ:۔
حضرت سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان اور یہودی اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ یہودی حق پر ہے تو آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔
اس پر اس یہودی نے کہا اللہ کی قسم! آپ نے حق کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے (خوشی میں ہلکا سا) کوڑا مارا اور فرمایا تجھے کس طرح پتہ چلا (کہ حق کیا ہوتا ہے؟) اس پر یہودی نے کہا اللہ کی قسم! ہمیں تورات میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ جو قاضی حق کا فیصلہ کرتا ہے اس کے دائیں جانب ایک فرشتہ اور بائیں جانب ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اسے صحیح راستہ پر چلاتے ہیں اور اسے حق بات کا الہام کرتے ہیں جب تک وہ قاضی حق کا فیصلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
جب وہ یہ عزم چھوڑ دیتا ہے تو دونوں فرشتے اسے چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔
گیارھواں واقعہ:۔
حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد (حضرت سلمہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار سے گزرے۔ ان کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا۔
انہوں نے آہستہ سے وہ کوڑا مجھے مارا جو میرے کپڑے کے کنارے کو لگ گیا اور فرمایا راستہ سے ہٹ جاؤ جب اگلا سال آیا تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ مجھ سے کہا اے سلمہ! کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟
میں نے کہا جی ہاں۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے چھ سو درہم دئیے اور کہا انہیں اپنے سفر حج میں کام لے آنا اور یہ اس ہلکے سے کوڑے کے بدلہ میں ہیں جو میں نے تم کو مارا تھا۔
میں نے کہا اے امیر المؤمنین! مجھے تو وہ کوڑا یاد بھی نہیں رہا۔ فرمایا لیکن میں تو اسے نہیں بھولا (یعنی میں نے مار تو دیا لیکن سارا سال کھٹکتا رہا۔)
ماخوذ از حیات صحابہ – صفحہ نمبر: 492 – 497
بارہواں واقعہ
ملک غَسَّان کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا، کچھ دنوں بعد امیرُ المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حج کے ارادے سے نکلے تو جبلہ بن ایہم بھی اس قافلے میں شریک ہو گیا ۔ مکۂ مکرمہ پہنچنے کے بعد ایک دن دورانِ طواف کسی دیہاتی مسلمان کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا تو چادر کندھے سے اتر گئی ۔ جبلہ بن ایہم نے اس سے پوچھا : تو نے میری چادر پر قدم کیوں رکھا؟ اس نے کہا : میں نے جان بوجھ کر قدم نہیں رکھا غلطی سے پڑ گیا تھا ۔ یہ سن کر جبلہ نے ایک زور دار تھپڑ ان کے چہرے پر رسید کر دیا، تھپڑ کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ناک بھی زخمی ہو گئی ۔ یہ دیہاتی مسلمان حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جبلہ بن ایہم کے سلوک کی شکایت کی ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جبلہ بن ایہم کو طلب فرمایا اور پوچھا : کیا تو نے اس دیہاتی کو تھپڑ مارا ہے ؟ جبلہ نے کہا : ہاں میں نے تھپڑ مارا ہے ، اگر اس حرم کے تقدس کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اے جبلہ ! تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے ، اب یا تو تو اس دیہاتی سے معافی مانگ یا میں تم سے اس کا قصاص لوں گا ۔ جبلہ نے حیران ہو کر کہا : کیا آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس غریب دیہاتی کی وجہ سے مجھ سے قصاص لیں گے حالانکہ میں تو بادشاہ ہوں ؟ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اسلام قبول کرنے کے بعد حقوق میں تم دونوں برابر ہو ۔ جبلہ نے عرض کی : مجھے ایک دن کی مہلت دیجئے پھر مجھ سے قصاص لے لیجئے گا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس دیہاتی سے دریافت فرمایا : کیا تم اسے مہلت دیتے ہو؟ دیہاتی نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے مہلت دے دی، مہلت ملنے کے بعد راتوں رات جبلہ بن ایہم غسانی ملک شام کی طرف بھاگ گیا اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا ۔
(فتوح الشام، ذکر فتح حمص، ص۱۰۰، الجزء الاول)
تیرہواں واقعہ
مصر کا ایک باشندہ آپ کے پاس عمرو بن عاص کے بیٹے کی شکایت لے کر آیا … عمرو بن عاص اس وقت مصر کے گورنر تھے … اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں ظلم سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو نے اچھی پناہ گاہ ڈھونڈی۔ اس نے کہا: میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ اس پر وہ مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہا میں معزز فرد کا بیٹا ہوں۔ (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا اور انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور مارو۔ وہ اسے مارنے لگا اور عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ’’معزز فرد کے بیٹے کو مار۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس نے مارا، اللہ کی قسم اس نے اس کو خوب مارا اور ہماری تمنا تھی کہ اسے مارا جائے، وہ اسے مسلسل کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ اب نہ مارا جائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مصری سے کہا: عمرو بن عاص کے سر پر مارو۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے لڑکے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟ عمرو بن عاص نے فرمایا: اے امیر المومنین! نہ میں نے اس واقعہ کو جانا اور نہ وہ (مصری) میرے پاس آیا۔ (الوسیط للصلابی)
چودہواں واقعہ
عیاض بن خلیفہ کہتے ہیں کہ رمادہ کے سال میں نے دیکھا کہ حضرت عمر کا رنگ سیاہ پڑ گیا ہے حالانکہ پہلے ان کا رنگ سفید تھا۔ ان سے پوچھا جاتا کہ کہ یہ کس وجہ سے ہے؟ آپ فرماتے کہ عمر ایک عربی شخص تھا،گھی اور دودھ استعمال کیا کرتا تھا ۔جب لوگ قحط کا شکار ہوئے تو اس نے یہ دونوں چیزیں اپنے اوپر حرام کر دیں۔ جس کی وجہ سے اس کا رنگ بدل گیا ، اس نے فاقے شروع کر دیے اور یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔
خود حضرت عمر کی اولاد میں سے بعضوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ حضرت عمر کا رنگ سفید تھا۔ جب رمادہ کا سال آیا جو کہ بھوک کا سال تھا تو اُنہوں نے گوشت اور گھی چھوڑ کر مسلسل روغن زیتون استعمال کرنا شروع کیا۔ جس سے ان کا رنگ بدل گیا۔ وہ سرخ وسفید تھے لیکن اب سیاہ لاغر ہو گئے۔
اسامہ بن زید بن اسلم اپنے دادا اسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ
“كنا نقول لو لم يرفع الله المحل عام الرمادة لظننا أن عمر يموت همًّا بأمر المسلمين”
”یعنی رمادہ کے سال ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ قحط ختم نہ کیا تو حضرت عمر یقیناً مسلمانوں کے غم میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے🌹حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان🌹
تحریر علامہ حضرت پیر جی تہذیب الحسن شاذلی میلسی
رسول اللہ کے دوسرے خلیفہ اور تصوف و روحانیت کی دنیا کے عظیم شہنشاہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ امام عدل و حریت اور خلیفہ راشد ہیں، آپ مراد رسول ہیں، آپ کے ایمان پر عالم ملکوت کے باسیوں نے رسول اللہ ﷺ کو مبارک بادیاں پیش کیں ، آپ کا عشق رسول کمال کو پہنچا ہوا تھا.
آپ سے رسول اللہ کا رعب کچھ یوں ظاہر ہوتا تھا کہ جزیرہ عرب سے ساحل مکران تک سب کے سب حکام آپ سے ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے تھے، شیطان آپ کے ساۓ سے بھی دور بھاگتا تھا۔ آپ کی زبان پرحق بولتا تھا، دشمنان رسول کے لیے آپ شمشیر بے نیام تھے. الہامی شخصیت کے مالک تھے، آپ جو کچھ سوچتے وہی ہو کے رہتا، حضورﷺ آپ کے مشوروں کو خاص اہمیت عطا فرماتے ،سترہ کے قریب آیات آپ کی رائے کے موافق نازل ہوئیں۔
آپ جب نگاہیں اٹھاتے تو حجابات ہٹتے چلے جاتے اور
دشت و جبل کی وسعتیں آپ کی نگاہوں کے سامنے سمٹ
کے رہ جاتیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو رجل مبارک، رشید الامر اور امام الہدی کے القاب سے یاد کرتے تھے۔
آپ حد درجہ متواضع ، عبدیت کے بلند پایہ مینار ، خوف وخشیت سے لبریز ، خلوص و للہیت کے پیکر اور تقوی وطہارت کے تاج دار تھے۔ آپ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ چہرہ مبارک پر مسلسل رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں.
صوفیا آپ کی اداؤں کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہیں کیونکہ آپ پیوند لگے کھردرے کپڑے پہنتے ، ترک شہوات فرماتے ، مشکوک اشیاء سے اجتناب کرتے اور ہر معاملے میں وقار و شرافت کا پورا پورا لحاظ کرتے تھے، کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ گھبراتے ، حق کا جھنڈا بلند رکھتے ، باطل کو خوب مٹاتے ، اپنوں بیگانوں سے یکساں سلوک فرماتے اور طاعات میں شدت اختیار کرتے تھے. جب قیام اللیل میں قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تو بعض اوقات غش کھا کے گر جاتے تھے.
آپ نے فرمایا کہ ہم حلال کے نو حصے اس ڈر سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں حرام کے ایک حصے میں گرفتار نہ ہوجائیں، ہزاروں مربع میل کے امیر ہونے کے باوجود سامان اپنی پشت پر رکھ کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے اور وجہ یہ ارشادفرماتے کہ میں اپنے نفس کا مزاج درست رکھنے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ۔
🌹عدل فاروقی کے چودہ واقعات🌹
آپ کی شان عدالت کو شہرہ آفاق حیثیت حاصل ہے. آئیے آپ کے عدل چودہ واقعات ملاحظہ کرتے ہیں :
پہلا واقعہ
حضرت شعبیؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان (کھجور کے ایک درخت کے بارے میں) جھگڑا ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
آؤ ہم آپس کے فیصلے کے لئے کسی کو ثالث مقرر کر لیتے ہیں۔
چنانچہ ان دونوں حضرات نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث بنالیا۔ یہ دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں (اور امیر المؤمنین ہو کر میں خود آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ) فیصلہ کروانے والے خود ثالث کے گھر آیا کرتے ہیں۔
جب دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر کے سرہانے بٹھانا چاہا اور یوں کہا اے امیر المؤمنین! یہاں تشریف رکھیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا یہ پہلا ظلم ہے جو آپ نے اپنے فیصلہ میں کیا ہے میں تو اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حضرت ابی نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی سے کہا (قاعدہ کے مطابق انکار کرنے پر مدعی علیہ کو قسم کھانی پڑتی ہے لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ) آپ امیر المؤمنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں اور میں امیر المؤمنین کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ درخواست نہیں کر سکتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس رعایت کو قبول نہ کیا بلکہ) قسم کھائی اور قسم کھا کر کہا حضرت زید رضی اللہ عنہ صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عام مسلمان برابر ہو۔
دوسرا واقعہ
حضرت زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ایک گھر مدینہ منور ہ کی مسجد (نبوی) کے بالکل ساتھ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مسجد میں شامل کرنا چاہا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ یہ گھر میرے ہاتھ بیچ دیں۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ یہ گھر مجھے ہدیہ ہی کر دیں وہ یہ بھی نہ مانے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی یہ گھر مسجد میں شامل کر دیں۔
انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کو ان تین کاموں میں سے کوئی ایک کام تو کرنا ہی پڑے گا لیکن حضرت عباس پھر بھی تیار نہ ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا پھر کسی کو آپ ثالث مقرر کر لیں جو ہمارا فیصلہ کردے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ یہ دونوں حضرات اپنا مقدمہ ان کے پاس لے گئے۔
حضرت ابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میرا فیصلہ یہ ہے کہ آپ ان کی مرضی کے بغیر ان سے یہ گھر نہیں لے سکتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ کو یہ فیصلہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن میں ملا ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں؟ انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ حدیث کیا ہے؟
حضرت ابی نے کہا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑنے جب بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو جب بھی وہ کوئی دیوار بناتے تو صبح کو وہ گری ہوئی ہوتی۔
آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی بھیجی کہ اگر آپ کسی کی زمین میں بنانا چاہتے ہیں تو پہلے اسے راضی کر لیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ بعد میں حضرت عباس نے اپنی خوشی سے اس گھر کو مسجد میں شامل کر دیا۔ (اخرجہ عبدالرزاق)
تیسرا واقعہ
حضرت حسنؒ کہتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب تھا۔ اس کے پاس کسی کی آمدورفت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس سے کھٹک ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لئے ا س کے پاس آدمی بھیجا۔
اس آدمی نے اس عورت سے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمہیں بلا رہے ہیں۔
اس نے کہا ہائے میری ہلاکت۔
مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ۔ وہ گھر سے چلی (وہ حاملہ تھی) ابھی وہ راستہ میں تھی کہ وہ گھبرا گئی جس سے اسے دردزہ شروع ہو گیا۔
وہ ایک گھر میں چلی گئی۔ جہاں اس کا بچہ پیدا ہوا۔ بچہ دو دفعہ رویا اور مر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے مشورہ کیا (کہ میرے ڈر کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی اور بچہ قبل از وقت پیدا ہو گیا۔ اس وجہ سے وہ بچہ مر گیا تو کیا اس بچہ کے یوں مر جانے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز شرعاً لازم آتی ہے؟)
بعض صحابہ نے کہا آپ پر کچھ لازم نہیں آتا۔ کیونکہ آپ مسلمانوں کے والی ہیں اور (اس وجہ سے) آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ان کو ادب سکھائیں کوئی کمی دیکھیں تو انہیں بلا کر تنبیہ کریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر ان لوگوں نے یہ بات بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے اور اگر انہوں نے آپ کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی ہے تو انہوں نے آپ کے ساتھ خیر خواہی نہیں کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس بچہ کی دیت یعنی خون بہا آپ کو دینا پڑے گا۔ کیونکہ آپ کے بلانے کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی ہے۔ اس لئے یوں بچے کے قبل از وقت پیدا ہو جانے کا سبب آپ ہی ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس بچہ کا خون بہا سارے قریش سے وصول کریں اس لئے کہ یہ قتل ان سے خطا کے طور پر صادر ہو ا ہے۔
چوتھا واقعہ
حضرت عطاءؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ حج کے موقع پر ان کے پاس آیا کریں۔ جب سارے گورنر آ جاتے تو (عام مسلمانوں کو جمع کر کے) فرماتے:۔
۔”اے لوگو! میں نے اپنے گورنر تمہارے ہاں اس لئے نہیں بھیجے ہیں کہ وہ تمہاری کھال ادھیڑیں یا تمہارے مال پر قبضہ کریں یا تمہیں بے عزت کریں بلکہ میں نے تو صرف اس لئے ان کو بھیجا ہے تاکہ تمہیں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنے دیں اور تمہارے درمیان مال غنیمت تقسیم کریں۔ لہٰذا جس کے ساتھ اس کے خلاف کیا گیا ہو وہ کھڑا ہو جائے (اور اپنی بات بتائے۔)”۔
۔(چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے گورنروں کو جمع کر کے لوگوں میں یہی اعلان کیا تو) صرف ایک آدمی کھڑا ہوا
اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین! آپ کے فلاں گورنر نے مجھے (ظلماً) سو کوڑے مارے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس گورنر سے) کہا تم نے اسے کیوں مارا؟
۔(اور اس آدمی سے کہا) اٹھ اور اس گورنر سے بدلہ لے۔ اس پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا اگر آپ نے اس طرح گورنروں سے بدلہ دلانا شروع کر دیا تو پھر آپ کے پاس بہت زیادہ شکایات آنے لگ جائیں گی اور یہ گورنروں سے بدلہ لینا ایسا دستور بن جائے گا کہ جو بھی آپ کے بعد آئے گا اسے یہ اختیار کرنا پڑے گا (حالانکہ اپنے گورنروں سے بدلہ دلوانا ہر امیر کے بس میں نہیں ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات اقدس سے بدلہ دلوانے کے لئے تیار رہتے ہوئے دیکھا ہے تو میں (اپنے گورنر سے) کیوں نہ بدلہ دلواؤں؟ حضرت عمرو نے کہا آپ ہمیں اس آدمی کو راضی کرنے کا موقع دیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا چلو تم اسے راضی کر لو۔ چنانچہ اس گورنر نے ہر کوڑے کے بدلہ دو دینار کے حساب سے دو سو دینار اس آدمی کو بدلہ میں دئیے۔
پانچواں واقعہ:۔
حضرت یزید بن ابی منصورؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی کہ بحرین میں ان کے مقرر کردہ گورنر حضرت ابن جارود یا ابن ابی جارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کا نام ادریاس تھا اس نے مسلمانوں کے دشمن کے ساتھ خفیہ خط و کتابت کر رکھی تھی اور ان دشمنوں کے ساتھ مل جانے کا ارادہ بھی تھا اور اس کے ان جرائم پر گواہ بھی موجود تھے اس پر اس گورنر نے اسے قتل کر دیا۔
وہ شخص قتل ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا اے عمر! میری مدد کو آئیں۔ اے عمر! میں مظلوم ہوں میری مدد کو آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس گورنر کو خط لکھا کہ میرے پاس آؤ۔
چنانچہ وہ آ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا نیزہ تھا۔ جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اندر آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ چھوٹا نیزہ اس کے جبڑوں پر مارنا چاہا (لیکن مارا نہیں کہ حضرت جارود نے اجتہای غلطی کی وجہ سے اس آدمی کو قتل کیا تھا اس لئے چھوڑ دیا) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے جا رہے تھے ، اے ادریاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں۔
اے ادریاس! میں تیری مدد کو حاضر ہوں اور حضرت جارود کہنے لگے اے امیر المؤمنین! اس نے مسلمانوں کی خفیہ باتیں دشمن کو لکھی تھیں اور دشمن سے جا ملنے کا اس نے ارادہ بھی کر رکھا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا صرف برائی کے ارادہ پر ہی تم نے اسے قتل کر دیا۔
ہم میں ایسا کون ہے جس کے دل میں ایسے برے ارادے نہیں آتے؟ اگر گورنروں کے قتل کرنے کا مستقل دستور بن جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ میں ضرور قتل کر دیتا۔
چھٹا واقعہ:۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر کہا میرے آقا نے پہلے مجھ پر تہمت لگائی۔ پھر مجھے آگ پر بٹھا دیا۔
جس سے میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے آقا نے تم کو وہ برا کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس باندی نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے کسی برائی کا اس کے سامنے اقرار کیا تھا؟ اس باندی نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ (چنانچہ وہ آدمی آ گیا)
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو دیکھا تو فرمایا کیا تم انسانوں کو وہ عذاب دیتے ہو جو اللہ کے ساتھ خاص ہے؟
اس آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین! مجھے اس پر شبہ ہو اتھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے اسے وہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا کیا اس باندی نے تمہارے سامنے اس جرم کا اعتراف کیا تھا؟ اس نے کہا نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ مالک سے اس کے غلام کو اور والد سے اس کے بیٹے کو بدلہ نہیں دلوایا جائے گا تو میں تجھ سے اس باندی کو بدلہ دلواتا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو سو کوڑے مارے اور اس باندی سے فرمایا تو جا، تو اللہ کے لئے آزاد ہے۔ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آگ میں جلایا گیا یا جس کی شکل آگ سے جلاکر بگاڑی گئی وہ آزاد ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ ہے۔
ساتواں واقعہ:۔
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ایک دیہاتی کو بلایا تاکہ وہ بیت المقدس کے پاس ان کی سواری کو پکڑ کر کھڑا رہے اس نے انکار کر دیا۔
اس پر حضرت عبادہ نے اسے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ اس نے ان کے خلاف حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
انہو ں نے کہا اے امیر المؤمنین! میں نے اسے کہا کہ میری سواری پکڑ کر کھڑا رہے لیکن اس نے انکار کر دیا اور مجھ میں ذرا تیزی ہے اس لئے میں نے اسے مار دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ بدلہ دینے کے لئے بیٹھ جائیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ اپنے غلام کو اپنے بھائی سے بدلہ دلوا رہے ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بدلہ دلوانے کا ارادہ چھوڑ دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ حضرت عبادہ اسے اس زخم کے بدلہ میں مقررہ رقم دیں۔
آٹھواں واقعہ:۔
حضرت قاسم بن ابی بزہ کہتے ہیں شام میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کافر کو قتل کر دیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی مقدمہ پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ قصہ لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ لکھا کہ یوں ذمیوں کا قتل کرنا اگر اس مسلمان کی مستقل عادت بن گئی ہے پھر تو اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دو اور اگر وہ طیش میں آ کر اچانک ایسا کر بیٹھا ہے تو اس پر چار ہزار کی دیت کا جرمانہ لگادو۔
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کسی نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کسی مشرک کو امان دے دی اور وہ مشرک اس وجہ سے اس مسلمان کے پاس آ گیا اور پھر مسلمان نے اسے قتل کر دیا تو (یوں دھوکہ سے قتل کرنے پر) میں اس مسلمان کو ضرور قتل کروں گا۔
نواں واقعہ:۔
حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (دمشق کی بستی) جابیہ پہنچے تو آپ نے ایک بوڑھے ذمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے کھانا مانگ رہا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا (کہ یہ کیوں مانگ رہا ہے) کسی نے کہا یہ ذمی آدمی ہے جو کمزور اور بوڑھا ہو گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ذمہ جو جزیہ تھا وہ معاف کر دیا اور فرمایا پہلے تم نے اس پر جزیہ لگایا (جسے وہ دیتا رہا) اب جب وہ کمزور ہو گیا ہے تو تم نے اسے کھانا مانگنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔
پھر آپ نے اس کے لئے بیت المال میں سے دس درہم وظیفہ مقرر کیا۔ وہ بوڑھا عیال دار تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بوڑھے ذمی پر گزر ہوا جو لوگوں سے مسجدوں کے دروازوں پر مانگتا پھر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا (اے ذمی!) ہم نے تم سے انصاف نہیں کیا۔
جوانی میں تو ہم تم سے جزیہ لیتے رہے اور بڑھاپے میں ہم نے تمہارا کوئی خیال نہ رکھا۔ پھر آپ نے اس کے لئے بیت المال میں سے بقدر گزارا وظیفہ جاری کر دیا۔
حضرت یزید بن ابی مالکؒ کہتے ہیں کہ مسلمان جابیہ بستی میں ٹھہرے ہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک ذمی نے آ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ لوگ اس کے انگوروں کے باغ پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ان کی اپنے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی جس نے اپنی ڈھال پر انگور اٹھا رکھے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ارے میاں تم بھی۔
اس نے کہا اے امیر المؤمنین! ہمیں بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی ہے (کھانے کا اور سامان ہے نہیں) یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس آ گئے اور یہ حکم دیا کہ اس ذمی کو اس کے انگوروں کی قیمت ادا کی جائے۔
دسواں واقعہ:۔
حضرت سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان اور یہودی اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ یہودی حق پر ہے تو آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔
اس پر اس یہودی نے کہا اللہ کی قسم! آپ نے حق کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے (خوشی میں ہلکا سا) کوڑا مارا اور فرمایا تجھے کس طرح پتہ چلا (کہ حق کیا ہوتا ہے؟) اس پر یہودی نے کہا اللہ کی قسم! ہمیں تورات میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ جو قاضی حق کا فیصلہ کرتا ہے اس کے دائیں جانب ایک فرشتہ اور بائیں جانب ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اسے صحیح راستہ پر چلاتے ہیں اور اسے حق بات کا الہام کرتے ہیں جب تک وہ قاضی حق کا فیصلہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
جب وہ یہ عزم چھوڑ دیتا ہے تو دونوں فرشتے اسے چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔
گیارھواں واقعہ:۔
حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد (حضرت سلمہ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار سے گزرے۔ ان کے ہاتھ میں کوڑا بھی تھا۔
انہوں نے آہستہ سے وہ کوڑا مجھے مارا جو میرے کپڑے کے کنارے کو لگ گیا اور فرمایا راستہ سے ہٹ جاؤ جب اگلا سال آیا تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ مجھ سے کہا اے سلمہ! کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟
میں نے کہا جی ہاں۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور مجھے چھ سو درہم دئیے اور کہا انہیں اپنے سفر حج میں کام لے آنا اور یہ اس ہلکے سے کوڑے کے بدلہ میں ہیں جو میں نے تم کو مارا تھا۔
میں نے کہا اے امیر المؤمنین! مجھے تو وہ کوڑا یاد بھی نہیں رہا۔ فرمایا لیکن میں تو اسے نہیں بھولا (یعنی میں نے مار تو دیا لیکن سارا سال کھٹکتا رہا۔)
ماخوذ از حیات صحابہ – صفحہ نمبر: 492 – 497
بارہواں واقعہ
ملک غَسَّان کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا، کچھ دنوں بعد امیرُ المومنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حج کے ارادے سے نکلے تو جبلہ بن ایہم بھی اس قافلے میں شریک ہو گیا ۔ مکۂ مکرمہ پہنچنے کے بعد ایک دن دورانِ طواف کسی دیہاتی مسلمان کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا تو چادر کندھے سے اتر گئی ۔ جبلہ بن ایہم نے اس سے پوچھا : تو نے میری چادر پر قدم کیوں رکھا؟ اس نے کہا : میں نے جان بوجھ کر قدم نہیں رکھا غلطی سے پڑ گیا تھا ۔ یہ سن کر جبلہ نے ایک زور دار تھپڑ ان کے چہرے پر رسید کر دیا، تھپڑ کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ناک بھی زخمی ہو گئی ۔ یہ دیہاتی مسلمان حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جبلہ بن ایہم کے سلوک کی شکایت کی ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جبلہ بن ایہم کو طلب فرمایا اور پوچھا : کیا تو نے اس دیہاتی کو تھپڑ مارا ہے ؟ جبلہ نے کہا : ہاں میں نے تھپڑ مارا ہے ، اگر اس حرم کے تقدس کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اے جبلہ ! تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے ، اب یا تو تو اس دیہاتی سے معافی مانگ یا میں تم سے اس کا قصاص لوں گا ۔ جبلہ نے حیران ہو کر کہا : کیا آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس غریب دیہاتی کی وجہ سے مجھ سے قصاص لیں گے حالانکہ میں تو بادشاہ ہوں ؟ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : اسلام قبول کرنے کے بعد حقوق میں تم دونوں برابر ہو ۔ جبلہ نے عرض کی : مجھے ایک دن کی مہلت دیجئے پھر مجھ سے قصاص لے لیجئے گا ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس دیہاتی سے دریافت فرمایا : کیا تم اسے مہلت دیتے ہو؟ دیہاتی نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے مہلت دے دی، مہلت ملنے کے بعد راتوں رات جبلہ بن ایہم غسانی ملک شام کی طرف بھاگ گیا اور اس نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا ۔
(فتوح الشام، ذکر فتح حمص، ص۱۰۰، الجزء الاول)
تیرہواں واقعہ
مصر کا ایک باشندہ آپ کے پاس عمرو بن عاص کے بیٹے کی شکایت لے کر آیا … عمرو بن عاص اس وقت مصر کے گورنر تھے … اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں ظلم سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو نے اچھی پناہ گاہ ڈھونڈی۔ اس نے کہا: میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ اس پر وہ مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہا میں معزز فرد کا بیٹا ہوں۔ (یہ سن کر) عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا اور انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور مارو۔ وہ اسے مارنے لگا اور عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ’’معزز فرد کے بیٹے کو مار۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس نے مارا، اللہ کی قسم اس نے اس کو خوب مارا اور ہماری تمنا تھی کہ اسے مارا جائے، وہ اسے مسلسل کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ اب نہ مارا جائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مصری سے کہا: عمرو بن عاص کے سر پر مارو۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے لڑکے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟ عمرو بن عاص نے فرمایا: اے امیر المومنین! نہ میں نے اس واقعہ کو جانا اور نہ وہ (مصری) میرے پاس آیا۔ (الوسیط للصلابی)
چودہواں واقعہ
عیاض بن خلیفہ کہتے ہیں کہ رمادہ کے سال میں نے دیکھا کہ حضرت عمر کا رنگ سیاہ پڑ گیا ہے حالانکہ پہلے ان کا رنگ سفید تھا۔ ان سے پوچھا جاتا کہ کہ یہ کس وجہ سے ہے؟ آپ فرماتے کہ عمر ایک عربی شخص تھا،گھی اور دودھ استعمال کیا کرتا تھا ۔جب لوگ قحط کا شکار ہوئے تو اس نے یہ دونوں چیزیں اپنے اوپر حرام کر دیں۔ جس کی وجہ سے اس کا رنگ بدل گیا ، اس نے فاقے شروع کر دیے اور یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔
خود حضرت عمر کی اولاد میں سے بعضوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ حضرت عمر کا رنگ سفید تھا۔ جب رمادہ کا سال آیا جو کہ بھوک کا سال تھا تو اُنہوں نے گوشت اور گھی چھوڑ کر مسلسل روغن زیتون استعمال کرنا شروع کیا۔ جس سے ان کا رنگ بدل گیا۔ وہ سرخ وسفید تھے لیکن اب سیاہ لاغر ہو گئے۔
اسامہ بن زید بن اسلم اپنے دادا اسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ
“كنا نقول لو لم يرفع الله المحل عام الرمادة لظننا أن عمر يموت همًّا بأمر المسلمين”
”یعنی رمادہ کے سال ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ قحط ختم نہ کیا تو حضرت عمر یقیناً مسلمانوں کے غم میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔(طبقات ابن سعد)🌹حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان🌹
تحریر : علامہ حضرت پیر جی تہذیب الحسن شازلی میلسی
رسول اللہ کے دوسرے خلیفہ اور تصوف و روحانیت کی دنیا کے عظیم شہنشاہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ امام عدل و حریت اور خلیفہ راشد ہیں، آپ مراد رسول ہیں، آپ کے ایمان پر عالم ملکوت کے باسیوں نے رسول اللہ ﷺ کو مبارک بادیاں پیش کیں ، آپ کا عشق رسول کمال کو پہنچا ہوا تھا.
آپ سے رسول اللہ کا رعب کچھ یوں ظاہر ہوتا تھا کہ جزیرہ عرب سے ساحل مکران تک سب کے سب حکام آپ سے ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے تھے، شیطان آپ کے ساۓ سے بھی دور بھاگتا تھا۔ آپ کی زبان پرحق بولتا تھا، دشمنان رسول کے لیے آپ شمشیر بے نیام تھے. الہامی شخصیت کے مالک تھے، آپ جو کچھ سوچتے وہی ہو کے رہتا، حضورﷺ آپ کے مشوروں کو خاص اہمیت عطا فرماتے ،سترہ کے قریب آیات آپ کی رائے کے موافق نازل ہوئیں۔
آپ جب نگاہیں اٹھاتے تو حجابات ہٹتے چلے جاتے اور
دشت و جبل کی وسعتیں آپ کی نگاہوں کے سامنے سمٹ
کے رہ جاتیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کو رجل مبارک، رشید الامر اور امام الہدی کے القاب سے یاد کرتے تھے۔
آپ حد درجہ متواضع ، عبدیت کے بلند پایہ مینار ، خوف وخشیت سے لبریز ، خلوص و للہیت کے پیکر اور تقوی وطہارت کے تاج دار تھے۔ آپ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ چہرہ مبارک پر مسلسل رونے کی وجہ سے دوسیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں.
صوفیا آپ کی اداؤں کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہیں کیونکہ آپ پیوند لگے کھردرے کپڑے پہنتے ، ترک شہوات فرماتے ، مشکوک اشیاء سے اجتناب کرتے اور ہر معاملے میں وقار و شرافت کا پورا پورا لحاظ کرتے تھے، کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ گھبراتے ، حق کا جھنڈا بلند رکھتے ، باطل کو خوب مٹاتے ، اپنوں بیگانوں سے یکساں سلوک فرماتے اور طاعات میں شدت اختیار کرتے تھے. جب قیام اللیل میں قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تو بعض اوقات غش کھا کے گر جاتے تھے.
آپ نے فرمایا کہ ہم حلال کے نو حصے اس ڈر سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں حرام کے ایک حصے میں گرفتار نہ ہوجائیں، ہزاروں مربع میل کے امیر ہونے کے باوجود سامان اپنی پشت پر رکھ کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے اور وجہ یہ ارشادفرماتے کہ میں اپنے نفس کا مزاج درست رکھنے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ۔
🌹عدل فاروقی کے چودہ واقعات🌹
آپ کی شان عدالت کو شہرہ آفاق حیثیت حاصل ہے. آئیے آپ کے عدل چودہ واقعات ملاحظہ کرتے ہیں :
پہلا واقعہ
حضرت شعبیؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان (کھجور کے ایک درخت کے بارے میں) جھگڑا ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
آؤ ہم آپس کے فیصلے کے لئے کسی کو ثالث مقرر کر لیتے ہیں۔
چنانچہ ان دونوں حضرات نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اپنا ثالث بنالیا۔ یہ دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیں (اور امیر المؤمنین ہو کر میں خود آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ) فیصلہ کروانے والے خود ثالث کے گھر آیا کرتے ہیں۔
جب دونوں حضرات حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس اندر داخل ہوئے تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر کے سرہانے بٹھانا چاہا اور یوں کہا اے امیر المؤمنین! یہاں تشریف رکھیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا یہ پہلا ظلم ہے جو آپ نے اپنے فیصلہ میں کیا ہے میں تو اپنے فریق مخالف کے ساتھ بیٹھوں گا۔ حضرت ابی نے اپنا دعویٰ پیش کیا جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی سے کہا (قاعدہ کے مطابق انکار کرنے پر مدعی علیہ کو قسم کھانی پڑتی ہے لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ) آپ امیر المؤمنین کو قسم کھانے کی زحمت نہ دیں اور میں امیر المؤمنین کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ درخواست نہیں کر سکتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اس رعایت کو قبول نہ کیا بلکہ) قسم کھائی اور قسم کھا کر کہا حضرت زید رضی اللہ عنہ صحیح قاضی تب بن سکتے ہیں جب کہ ان کے نزدیک عمر رضی اللہ عنہ اور ایک عام مسلمان برابر ہو۔
دوسرا واقعہ
حضرت زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ایک گھر مدینہ منور ہ کی مسجد (نبوی) کے بالکل ساتھ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مسجد میں شامل کرنا چاہا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ یہ گھر میرے ہاتھ بیچ دیں۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ یہ گھر مجھے ہدیہ ہی کر دیں وہ یہ بھی نہ مانے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ خود ہی یہ گھر مسجد میں شامل کر دیں۔
انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ کو ان تین کاموں میں سے کوئی ایک کام تو کرنا ہی پڑے گا لیکن حضرت عباس پھر بھی تیار نہ ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اچھا پھر کسی کو آپ ثالث مقرر کر لیں جو ہمارا فیصلہ کردے۔ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ یہ دونوں حضرات اپنا مقدمہ ان کے پاس لے گئے۔
حضرت ابی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا میرا فیصلہ یہ ہے کہ آپ ان کی مرضی کے بغیر ان سے یہ گھر نہیں لے سکتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ کو یہ فیصلہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن میں ملا ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں؟ انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ حدیث کیا ہے؟
حضرت ابی نے کہا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑنے جب بیت المقدس کی تعمیر شروع کی تو جب بھی وہ کوئی دیوار بناتے تو صبح کو وہ گری ہوئی ہوتی۔
آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی بھیجی کہ اگر آپ کسی کی زمین میں بنانا چاہتے ہیں تو پہلے اسے راضی کر لیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ بعد میں حضرت عباس نے اپنی خوشی سے اس گھر کو مسجد میں شامل کر دیا۔ (اخرجہ عبدالرزاق)
تیسرا واقعہ
حضرت حسنؒ کہتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند غائب تھا۔ اس کے پاس کسی کی آمدورفت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس سے کھٹک ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لئے ا س کے پاس آدمی بھیجا۔
اس آدمی نے اس عورت سے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمہیں بلا رہے ہیں۔
اس نے کہا ہائے میری ہلاکت۔
مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے کیا واسطہ۔ وہ گھر سے چلی (وہ حاملہ تھی) ابھی وہ راستہ میں تھی کہ وہ گھبرا گئی جس سے اسے دردزہ شروع ہو گیا۔
وہ ایک گھر میں چلی گئی۔ جہاں اس کا بچہ پیدا ہوا۔ بچہ دو دفعہ رویا اور مر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے مشورہ کیا (کہ میرے ڈر کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی اور بچہ قبل از وقت پیدا ہو گیا۔ اس وجہ سے وہ بچہ مر گیا تو کیا اس بچہ کے یوں مر جانے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز شرعاً لازم آتی ہے؟)
بعض صحابہ نے کہا آپ پر کچھ لازم نہیں آتا۔ کیونکہ آپ مسلمانوں کے والی ہیں اور (اس وجہ سے) آپ کے ذمہ ہے کہ آپ ان کو ادب سکھائیں کوئی کمی دیکھیں تو انہیں بلا کر تنبیہ کریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر ان لوگوں نے یہ بات بغیر کسی دلیل کے محض اپنی رائے سے کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے اور اگر انہوں نے آپ کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی ہے تو انہوں نے آپ کے ساتھ خیر خواہی نہیں کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اس بچہ کی دیت یعنی خون بہا آپ کو دینا پڑے گا۔ کیونکہ آپ کے بلانے کی وجہ سے وہ عورت گھبرا گئی ہے۔ اس لئے یوں بچے کے قبل از وقت پیدا ہو جانے کا سبب آپ ہی ہیں۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس بچہ کا خون بہا سارے قریش سے وصول کریں اس لئے کہ یہ قتل ان سے خطا کے طور پ









