138

6 ہجری میں حضورﷺ کو خواب آیا کہ مسلمان حرم میں عمرہ ادا کررہے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ 1400 صحابہ کے ہمراہ مدینہ سے مکہ عمرہ ادائیگی کیلئے احرام باندھ کر روانہ ہوگئے۔ اس دوران قریش مکہ کو خبر ہوگئی اور وہاں شدید گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوگئے۔ حدیبیہ کے مقام پر

‏6 ہجری میں حضورﷺ کو خواب آیا کہ مسلمان حرم میں عمرہ ادا کررہے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ 1400 صحابہ کے ہمراہ مدینہ سے مکہ عمرہ ادائیگی کیلئے احرام باندھ کر روانہ ہوگئے۔ اس دوران قریش مکہ کو خبر ہوگئی اور وہاں شدید گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوگئے۔ حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا تاکہ وہ حالات کا جائزہ لیں۔ وہاں سے جھوٹی خبر آئی کہ کفارمکہ نے حضرت عثمان کو شہید کردیا۔ اس مقام پر تمام صحابہ نے حضورﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی چاہے جانیں دینی پڑیں، ہم یہاں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس بیعت کی خبر قریش کو ہوئی تو ان کی جان پر بن گئی۔ تین سرداران حدیبیہ آئے اور بالآخر صلح حدیبیہ ہوئی۔ بادی النظر میں اس صلح کی تمام شرائط کفار کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ مثلاً پہلی شرط یہ کہ مسلمان یہاں سے واپس مدینہ جائیں گے اور اس سال عمرہ نہیں کریں گے بلکہ اگلے سال انہیں عمرہ کرنے دیا جائے گا۔
صلح کے بعد تمام مسلمان نہایت دلگرفتہ ہوگئے۔ ان کے خیال میں کفن سر پر باندھ کر مکہ جانا چاہیئے تھے۔ اسی دوران
نصرا من اللہ و فتح قریب
کی آیات نازل ہوئیں جن میں مسلمانوں کو عنقریب بڑی فتح کی بشارت دی گئی۔
تحاریک میں بہت سے مواقع ایسے آتے ہیں جب آپ کو حکمت سے کام لینا پڑتا ہے۔ خاطر جمع رکھیں، آج کے جلسے کی منسوخی بھی ایسی ہی حکمت ہے جس سے پی ٹی آئی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ فائدہ ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں