104

دل کی بات خ ح شہزاد کیا ھم سب عذاب الہی کا انتظار کررھے ھیں؟؟

دل کی بات
خ ح شہزاد
کیا ھم سب عذاب الہی کا انتظار کررھے ھیں؟؟
فلسطین پر درندوں کے مظالم دیکھکر دل خون کے آنسو روتا ہے۔جزبات بے قابو ھوجاتے ھیں۔آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ھیں ۔لیکن پھر میں سوچتا کہ بس ھمارا اتنا ھی کام تھا۔آج سوشل میڈیا پر دیکھا کہ آیک باپ اپنے بچے کی لاش کسی ٹوکری میں رکھکر دفنانے کے لیے سائیکل کے پیھچے رکھکر لے جارھا ہے۔ذرا سے غور کرو۔دیکھو تو سہی اس مجبور باپ کی مجبوری کو تھوڑا سا تو محسوس کرو۔میرے پاس الفاز کا ذخیرہ نھیں نہ میں پروفیشنل لکھاری ھوں کہ اس باپ کی بے بسی کو الفاظ میں منظر کشی کصسکو۔اس منظر کو چھوڑا تو اگلا منظر ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک کلپ کا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ حدیث مبارکہ ھے۔مفہوم حدیث۔ کہ ایک بستی کے الٹنے کا اللہ تعالی نے حضرت جبرائیل کو حکم دیا۔تو حضرت جبرائیل نے عرض کیا یا اللہ اس بستی میں فلاں شخص بھی ھے جو ہر وقت تیری عبادت میں مصروف رھتا ھے۔حضور اکرمﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے حکم دیا پہلے اس بدبخت پر الٹ دو کیونکہ اسکے سامنے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزیاں ھوتی رھیں۔حدود اللہ پامال ھوتے رھے اس کے ماتھے پر کبھی بل نہیں پڑا۔کبھی اسے غیرت نہیں آئی کہ لوگوں کو روکے صرف اپنی جنت کمانے میں مصروف رھا۔اس بے غیرت کو پہلے الٹ دو۔ڈاکٹر اسرار احمد کہتےھیں کہ اب بھی حجرہ نشین۔گدی نشین۔پیر حضرات۔علمائے کرام۔اسمبلیوں میں بیھٹے معززین شہر۔صاحب اقتدار لوگوں کی آنکھیں نہیں کھولتی تو ایشے بدبخت کے لیے کوئی کیا کرسکتا ھے۔کہ جب وقت جہاد تھا نادان گر گے سجدے میں۔ابھی محرم الحرام کا ماہ مبارک شروع ھونے والا ھے۔حضرت امام حسین علیہ اسلام اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد تازہ ھوگی۔لوگ روہیں گے پیٹیں گے۔سبیلیں ۔لنگر لگاھیں گے۔محفال کا انعقاد ھوگا۔واقعات کربلا کو پڑھا سنا جائے گا لیکن کوئی شخص اس سارے واقعہ کا حاصل مقصد نہیں بتائے گا ۔کیونکہ وہ ھم سننا اور کرنا نہیں چاھتے۔دو آنسو اور بہاؤ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کا حق ادا ھوگیا۔محبت کا اظہار ھوگیا۔جنت کے حقدار بن گے۔بس نہیں اے مسلمان نھیں۔ذرا غور تو کر۔اس جھوٹی محبت سے باھد نکل اس لنگر اور سبیل کی محبت سے باھر نکل۔دیکھ میدان کربلا میں حضرت امام حسین علیہ اسلام نے صرف اس رونے دھونے اور لنگر کھانے کے لیے نہیں قربانی دی تھی۔بلکہ قیامت تک کے ھر ظالم۔جابر چاھے وہ اپنا ھو چاھے وہ غیص مسلم ھو۔ھر جابر ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا اور پھر اسکی کیا قیمت ادا ھوتی ھے اسکی فکر نہیں کرنا۔اللہ تعالی بہتر جانتا ھے۔اس وقت 25کروڑ کا پاکستانی ہجوم کی غیرت ایمانی کہاں ھے کہاں ھے وہ جہاد کا جزبہ جو ھمارے بڑوں نے توپوں کے اگے کھڑے ھوکر خود کے ٹکڑے ٹکڑے کروالیے لیکن ظالم کی سطاعت نہیں کی۔اصل وارث مشن حسینی وہی لوگ تھے ھم تو چوری کھانے والے مجنوں ھیں۔خون دینے والے مجںوں تو اس وقت غزہ کو میدان کربلا بنائے سب کچھ لٹا رھے ھیں ھم کوفی وشامی بن کر صرف لنگر اور اپنی بزدلی۔بے غیرتی پر آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کررھے۔آخر کب تک۔؟؟اس سے پہلے کہ بستی الٹ دی جائے آؤ قافلہ حسینی کے حقیقی مسافر بن جاھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں