جوس کارنرز اور ہوٹلوں پر چائلڈ لیبر ایکٹ کی کھلے عام دھجیاں بکھیری جانے لگیں، کمسن بچے شہر بھر کے جوس کارنر، ہوٹلوں پر محنت مشقت کرنے پر مجبور، افسران نے آنکھیں بند کر لیں،سماجی لوگوں کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ،
میلسی (محمدمختارسولگی)
تفصیلات کے مطابق میلسی شہر و گرد و نواح، اڈہ آرے واہن، کوٹ مظفر، جلہ جیم، فتح پور،کرم پور،دوکوٹہ، مترو ،ٹبہ سلطان پور،گڑھاموڑ، چوک میتلا، میں جوس کارنرز اور ہوٹل وغیرہ پر کمسن بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جبکہ چائلڈ لیبر افسران وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم نامے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرکے اپنی منتھلیاں وصول کر رہے ہیں ۔ انہیں کمسن بچوں سے کوئی ہمدردی نہیں، شہریوں کاکہنا ہے کہ اکثر اوقات دکانوں اور ہوٹلوں کے مالکان بچوں پر ظلم و تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ جبکہ دوسری جانب محکمہ لیبر کے افسران چمک کی وجہ سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سماجی رہنماؤں نے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے۔