شوگر مل مافیا اس ملک کا سب سے زیادہ خون نچوڑنے والا ادارہ ہے۔
سب سے پہلے تو سرکار جس ریٹ کا اعلان کرتی ہے مل مالکان اس سے کم ریٹ پر گنا خریدتے ہیں
پھر کرشنگ کا آغاز دیر سے کیا جاتا ہے تاکہ گنا سوکھ جائے اس کا وزن کم ہوجائے تو کسان کو کم ادائیگی کرنا پڑے۔ یاد رہے سولھنے سے گنے کا وزن کم ہوتا ہے لیکن اس کے اندر شوگر کونٹینٹ وہی رہتا ہے۔
چینی کی ایکسپورٹ کا اجازت نامہ لیا جاتا ہے۔ چینی بیرون ملک بیچی جاتی ہے۔ جس سے پاکستان میں ڈالر آتے ہیں۔ یہ
مافیا اس ڈالروں کا احسان جتا کر حکومت پاکستان سے سبسڈی لیتا ہے۔ کہ ہماری وجہ سے آپ کا ڈالر ملے اس میں سے ہنارا حصہ نکالو۔
پھر درمیان میں یہ چینی افغانستان کے راستے سنٹرل ایشیا سمگل کی جاتی ہے اور اس سمگلنگ کو کاغذات کی ہیرا پھیری میں ایکسپورٹ دکھا دیا جاتا ہے جس پر سبسڈی اور ٹیکس ربیٹ ملتا ہے۔
عمران خان نے تین سال شوگر مل مافیا کو مکمل ادائیگی ، بروقت کرشنگ اور کمپیوٹرائزڈ سلپ پر مجبور کیا اور انکی سبسڈی پر آڈٹ کروایا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان سے جڑے تمام مل مالکان ترین ، ہمایوں ، خسرو عمران خان سے راہیں جدا کرگئے۔