*اوقات نماز کے مسائل* جمعہ 20 دسمبر 2024 انجنیئر نذیر ملک سرگودھا
*اوقات نماز کے مسائل*
جمعہ 20 دسمبر 2024
انجنیئر نذیر ملک سرگودھا
مسئلہ نمبر 76
*رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام نمازیں اول وقت پر ادا فرمایا کرتے تھے*
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کے اوقات دریافت کیے تو انہوں نے کہا “رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سورج ڈھلتے ہی پڑھ لیتے تھے عصر کی نماز جب سورج صاف اور روشن ہوتا یعنی اس میں زردی کی آمیزش نہ ہوتی مغرب کی نماز جب سورج ڈوب جاتا اور عشاء کی نماز کبھی جلدی کبھی دیر سے پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے کہ لوگ جلدی جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے جب دیکھتے کہ ابھی کم ہیں تو دیر سے پڑھتے اور نماز فجر اندھیرے میں ہی پڑھ لیتے۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 77
*تمام نمازیں اول وقت میں پڑھنی افضل ہیں۔ لیکن عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے*
حضرت ام فروہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “بہترین عمل نماز کو اول وقت میں ادا کرنا ہے۔” اسے ابو داؤد اور ابو حاکم نے روایت کیا ہے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی دیر کی کہ رات کا پیشتر حصہ گزر گیا اور مسجد میں لوگ سونے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے نماز پڑھائی اور فرمایا اگر مجھے امت کی تکلیف کا احساس نہ ہوتا تو نماز عشاء کا یہی وقت مقرر کرتا ۔اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 78
*طلوع آفتاب زوال آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے*
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تینوں وقتوں میں نماز پڑھنے اور میت دفن کرنے سے منع فرمایا ہے پہلا جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے دوسرا عین دوپہر کے وقت حتی کہ سورج ڈھل جائے اور تیسرا جب سورج غروب ہو رہا ہو حتی کہ پوری طرح غروب ہو جائے۔
اسے احمد مسلم ،ابو داؤد، نسائی ،ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 79
*بیت اللہ شریف میں دن یا رات کے کسی بھی وقت طواف کرنا اور نماز پڑھنا جائز ہے*
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد مناف کو حکم دیا کسی کو بیت اللہ کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے منع نہ کرو۔ خواہ دن یا رات کا کوئی سا وقت ہو ۔
اسے ترمذی نسائی اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے
مسئلہ نمبر 80
*جمعہ کے دن زوال سے قبل زوال کے وقت اور زوال کے بعد سبھی اوقات میں نماز پڑھنی جائز ہے*
حضرت عبداللہ بن سیدان سلمی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوا ان کا خطبہ اور نماز نصف النہار سے پہلے ہوتی تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے خطبے میں حاضر ہو اور ان کا خطبہ اور نماز نصف النہار کے وقت ہوتی تھی پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کا خطبہ اور نماز زوال کے وقت ہوتی تھی میں نے کسی بھی صحابی کو ان حضرات کے فعل پر اعتراض یا احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔
اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کرتے پھر واپس آکر کنویں سے پانی نکالنے والے اونٹوں کو آرام کے لیے چھوڑتے راوی نے پوچھا” وہ کون سا وقت ہوتاہے؟” حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا” سورج ڈھلنے کا ۔اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔
*الدعاء*
یا رب کریم ہمیں آپ کے اور آپکے نبی کے احکامات پر سنت نبوی کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرماء
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333