2019 میں دورہ امریکا کے دوران اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے یہ کہہ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ” پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے کو تیار ہے”
2019 میں دورہ امریکا کے دوران اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے یہ کہہ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ” پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے کو تیار ہے”
یہ بیان دنیا کے لیے شاکنگ تھا کہ جس پاکستان نے تمام تر پابندیاں جھیل کر ایٹمی دھماکے کئیے معاشی سختیوں کے باوجود پاکستانی قوم نے کہا گھاس پھوس کھائیں گے ایٹم بم بنائیں گے، اس قوم کا وزیر اعظم خود امریکہ کو آفر کر رہا تھا کہ وہ ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کو تیار ہے،
لیکن اس بیان کے بعد ڈاکٹر اسرار کے اس بیان کی تصدیق ہو گئ کہ صیہونی طاقتوں نے عمران خان کو کیوں لانچ کیا امیج بلڈنگ کرکے اسے وزیر اعظم کی گدی تک کیوں پہنچایا،
خطے میں عزائم کی تکمیل کے لیے؟
امریکہ کے لیے اس خطے میں دو ہی سر درد ہیں
1:سی پیک
2:پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا
امریکہ اپنے اقتصادی وجود کے لیے نازی جرمنی کے بعد ( 76 سالوں کے بعد) چین کو دوسرا بڑا خطرہ سمجھتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو ایسا خطرہ تو سوویت روس سے بھی نہیں تھا امریکہ کو چین کی خطے میں بڑھتے ہوے اثر رسوخ کو روکنے کے لیے سی پیک کا ڈبہ پیک چاہیے تھا عمران خان نے اقتدار ملتے ہی سب سے پہلے سی پیک پر کام بند کروایا سی پیک معاہدوں کی تمام فائلز امریکہ کے ساتھ شئر کیں جس سے تاریخ میں پہلی بار چین اور پاکستان کے تعلقات سرد خانے میں پہنچ گئے
عمران خان کو جو مشن سونپا گیا اسے پورا کیا البتہ ایٹمی پروگرام اسی صورت رول بیک ہو سکتا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے اور اسے پیٹ کے لیے ایٹمی پروگرام ہی گروی رکھنا پڑ جائے، عمران خان نے پاکستان کو دیوالیہ پن تک پہنچایا، البتہ اس کے مزید عزائم کی تکمیل سے قبل ہی اسے اٹھا کر اقتدار سے باہر پھینک دیا گیا، پاکستان میں چونکہ امریکہ نفرت عام ہے چنانچہ CIA کی پراکسی عمران خان نے اسی کارڈ کو استعمال کرکے اقتدار واپس چاہا پاکستان کو آگ میں جھونکا اور جیل جا پہنچے، مغربی طاقتوں نے عمران خان کو رہا کروانے کی ہر طرح کوشش کی اس میں ناکامی کے بعد پاکستان کو سی پیک سے روکنے کے لیے پابندیاں آخری حل تھا ، کیونکہ سی پیک پر ایک بار پھر سے تیزی سے کام شروع ہو چکا تھا
اس تصویر کا دوسرا رخ یہ کہ پاکستان کبھی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لایا، اس نے پابندیوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کئیے اپنی خود مختاری اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اب بھی ان پابندیوں کو مسترد کر چکا ہے
ان پابندیوں کے اعلان کے بعد جس طرح پی ٹی آئی نے جشن منایا اور سی پیک کے خلاف مہم چلائی وہ جو حقیقت پر ابہام کا پردہ ڈالتے تھے ان کی آنکھیں بھی وا کر گئ
البتہ پاکستانی قوم یہ جشن یہ مہم ہمیشہ یاد رکھے گی اور کبھی معاف نہیں کرے گی