تیسری جنگِ عظیم اور دجال، قسط: 42 دجال کا فتنہ بہت وسیع ہوگا:
تیسری جنگِ عظیم اور دجال، قسط: 42
دجال کا فتنہ بہت وسیع ہوگا:
آقا مدنی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کی جس محفل میں بھی دجال کا بیان فرماتے تھے وہاں صحابہ رضی اللہ عنہم پر خوف طاری ہو جاتا تھا اور صحابہ کرام رونے لگتے تھے، لیکن کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان اس کے بارے میں کچھ فکر ہی نہیں کرتے؟
شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آج لوگ اس فتنے کو اس معنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جس معنی میں آپ ﷺ نے سمجھایا ہے۔
آج اگر کوئی مسلمان یہ حدیث سنتا ہے کہ دجال کے پاس کھانے کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی، تو اس حدیث کو وہ اس حال میں سنتا ہے کہ اس کا پیٹ بھرا ہوتا ہے اور اس کو پانی کی کوئی طلب نہیں ہوتی، لہٰذا وہ دجال والے حالات کو بھی اپنے بھرے پیٹ اور تر گلے والی صورتِ حال پر ہی قیاس کرتا ہے، اور یہ حدیث سنتے وقت اس کی آنکھوں کے سامنے یہاں منظر بالکل نہیں آتا کہ وہاں حالت یہ ہوگی کہ دنوں سے نہیں بلکہ ہفتوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہوگا، بھوک نے بڑوں بڑوں کو نڈھال کردیا ہوگا، پانی نہ ملنے کی وجہ سے حلق میں کانٹے چبھ رہے ہوں گے۔
جب گھر کے اندر آپ قدم رکھیں گے تو نظروں کے سامنے آپ کا وہ لختِ جگر ہوگا جس کے ایک اشارے پر آپ اس کی ہر خواہش پوری کر دیا کرتے تھے، اب وہی بچہ آپ کے سامنے ہے، شدتِ پیاس سے زبان باہر نکلی ہوئی ہے، کئی دن کے فاقے نے گلاب جیسے چہرے سے زندگی کی تمام رونقوں کو چھین لیا ہے، یہ منظر دیکھ کر آپ کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور آپ لاچاری و بے بسی کے عالم میں اپنے جگر کے ٹکڑے سے دوسری طرف منہ پھیر لیتے ہیں، دوسری طرف… حسرتوں کا بت بنی آپ کی ماں … ہاں … ماں … جس نے آپ کو کبھی بھوکے پیٹ نہیں سونے دیا، جو آپ کی پیاس کو آپ کے اشاروں سے سمجھ جاتی تھی، جس نے اپنی تمام خوشیوں اور ارمانوں کو آپ کے نام کردیا… آج وہی آپ کی ماں …نگاہوں میں ہزاروں سوالات لئے جوان بیٹے کی طرف اس امید سے دیکھ رہی ہے کہ شاید آج بیٹا ضرور روٹی کا ایک ٹکڑا کہیں سے لے آیا ہوگا، بیٹا آج ماں کی ممتا کی خاطر پانی کا ایک قطرہ ضرور کہیں سے لایا ہوگا، آپ کا چہرہ سمجھنے والی ماں آج بھی بیٹے کے چہرے پر لکھے جواب کو پڑھ لیتی ہے اور ماں کی آنکھوں سے جوان بیٹے کی بے بسی پر اشکوں کے قطرے گرتے ہیں، تو آپ کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے، آپ اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہور ہے ہیں، آپ پھر دوسری طرف منہ موڑتے ہیں، شاید اس کونے میں کوئی نہ ہو۔
لیکن وہاں … آپ کی شریکِ سفر ہے … جس نے ہر امتحان کی گھڑی میں آپ کو حوصلہ دیا لیکن … آج اس کے ہونٹ سوکھ چکے ہیں، ضبط کا سمندر اندر ہی اندر موجیں مار رہا ہے، اور یکایک اپنے چاند کو دیکھ کر دل میں چھپے اشکوں کے سمندر میں طوفان پیدا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی محبت اپنے ہی اشکوں میں پگھلنے لگی…اب آخر آپ بھی تو انسان ہیں …. آپ کے سینے میں بھی تو گوشت کا لوتھڑ ہی دھڑکتا ہے…آخر کب تک انا (Ego) کے خول میں خود کو چھپا سکتے تھے، اب جبکہ تمام مادی سہارے ٹوٹ گئے، امیدوں کے تمام پتوار ہاتھوں سے چھوٹ گئے تو آپ کی آنکھوں نے بھی رخساروں کو نم کرنا شروع کر دیا…. ایک طرف بلکتا معصوم بچہ….ماں کی ممتا… بیوی کی محبت …..ان سب کے غموں نے آپ کے دل کو رانگ کی طرح پگھلا دیا… اور کوئی پھایا رکھنے ولا بھی میسر نہیں… اور کیسے ہو کہ ہر گھر … اور ہر در میں یہی منظر ہے….
ایسے وقت میں باہر سے کھانے کی خوشبو اور پانی کی آواز سنائی دیتی ہے…. آپ بھی اور آپ کے پیارے بھی سب دوڑتے ہوئے باہر جاتے ہیں ۔۔۔۔ تو سامنے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اب مشکل کی گھڑی ٹل گئی ….انسانوں کے اس جنگل میں کوئی مسیحا آپہنچا… آنے والا یہ اعلان کرتا ہے کہ بھوک و پیاس کے مارے ہوئے لوگو! یہ لذیذ خوشبو دار کھانے اور یہ ٹھنڈا میٹھا پانی تمہارے ہی لئے ہے……
یہ سنتے ہی آپ اور آپ کے پورے گھر اور شہر میں جیسے آدھی زندگی یوں ہی لوٹ آئی … مسیحا پھر کہتا ہے … یہ سب کچھ تمہارے لئے ہی ہے، لیکن ….. کیا تم اس بات کو مانتے ہو کہ اس کھانے اور پانی کا مالک میں ہوں؟ کیا تم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ یہ سب کچھ میرے اختیار میں ہے؟
کھانے اور پانی کی طرف آپ کے بڑھتے ہوئے قدم تھوڑی دیر کے لئے رک گئے، اور آپ کچھ سوچنے لگے، آپ کی یادداشت نے کہا کہ یہ الفاظ کچھ جانے پہچانے لگتے ہیں، اور آپ کو یاد آگیا کہ یہ “مسیحا” کون ہے؟ لیکن تبھی … آپ کے پیچھے سے بچے کے بلکنے کی آوازیں تیز ہونے لگیں، ماں کی چیخیں سنائی دیں، آپ دوڑے ہوئے گئے تو آپ کے جگر کا ٹکڑا… آپ کا بیٹا … موت وحیات کے درمیان لٹک رہا ہے کہ اگر پانی کا قطرہ مل جائے تو آپ کا بچہ بچھڑنے سے بچ سکتا ہے، اب ایک طرف بچے ماں اور بیوی کی محبتیں ہیں … دوسری طرف ایک سوال کا جواب ہے۔ ایک طرف خوشیوں بھرا گھر ہے اور دوسری طرف ماتم کدہ ہے، گویا ایک طرف آگ ہے اور دوسری طرف خوبصورت باغات ہیں۔ ذرا بتائے …
ذہن کے بند دریچوں کو کھول کر سوچئے! کیا معاملہ اتنا ہی آسان ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں؟ شاید نہیں بلکہ یہ فتنہ تاریخِ انسانی کا سب سے بھیانک فتنہ ہے۔
یہ سب پڑھ کر پریشان ہوگئے کیا کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا۔
ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے زمانہ ہوگیا تم کو گئے کیا۔
عـن عـمـران بن حصين قال سمعت رسول الله اقال ما بين خلق آدم الى قيام الساعة فتنة اكبـر عـنـد الله مـن الدجال. هذا حديث صحيح على شرط البخارى ولم يخرجاه.❶ ( مستدرک، ج: ٤، ص: ۵۷۳)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آدم کی پیدائش اور روزِ قیامت کے درمیان ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ دجال کا فتنہ ہے۔
مسلم شریف کی روایت ہے: ” مـا بيـن خـلـق آدم إلى قيام الساعة خلق اكبر من الدجال. ( مسلم، ج: ۴ ص: ۲۲٦٦)
عن ابي هريرة قال قال رسول اللہ ﷺ إذاتشهد أحدكم فليستعذ بالله من اربع يقـول الـلـهـم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحياوالممات ومن شر فتنة المسيح الدجال. (صحیح مسلم، ج: ۱، ص: ۴۱۲)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (اپنی نماز میں) تشہد پڑھ کر فارغ ہو جائے تو اللہ سے چار چیزوں کی پناہ مانگے۔ اور کہے اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور قبر کے عذاب سے اور موت وحیات کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔ (مسلم شریف، ج: ۱ ص: ۴۱۲)
فائدہ: نبی کریم ﷺ اپنے پیارے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کس قدر دجال سے بچانے کی فکر کرتے تھے کہ ان کو نماز میں درود شریف کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے، اس میں یہ دعا سکھلا رہے ہیں۔
عـن حـذيفة قال إني سمعته يقول إن مع الدجال إذا خرج ماء وناراً فأما الذى يـرى الـنـاس أنهـا النار فماء بارد واما الذي يرى الناس أنه ماء بارد فنار تحرق فمن أدرك منكم فليقع في الذي يرى أنها نار فإنه عذب بارد. (بخاری، ج ۳، ص:۱۲۷۲)
ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دجال اپنے ساتھ پانی اور آگ لے کر نکلے گا۔ جس کو لوگ پانی سمجھیں گے حقیقت میں وہ جھلسا دینے والی آگ ہوگی۔ اور جس کو آگ خیال کریں گے وہ حقیقت میں ٹھنڈا پانی ہوگا۔ سو تم میں سے جو شخص دجال کو پائے تو وہ اپنے آپ کو اس چیز میں ڈالے جس کو اپنی آنکھوں سے آگ دیکھتا ہے، اس لئے کہ وہ حقیقت میں میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہے۔
فائدہ: ایک دوسری حدیث میں دجال کے ساتھ روٹیوں اور گوشت کے پہاڑ کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اس کے سامنے جھک جائے گا اس کے لئے دولت اور غذائی اشیاء کی فراوانی ہو جائے گی اور جو اس کے نظام کو نہیں مانے گا اس پر وہ ہر قسم کی پابندی لگا کر ان پر آگ برسائے گا۔
جیساکہ ہم نے کہا کہ دجال کے آنے سے پہلے اس کا فتنہ شروع ہو جائے گا۔ افغانستان اور عراق پر آگ کی بارش اور جن لوگوں نے ابلیسی قوتوں کی بات مان لی ان پر ڈالروں کی بارش کی جارہی ہے۔
———————————–
❶سكت عنه الذهبي
============> جاری ہے ۔۔۔