*”حکومت کی ناقص کارکردگی، غیر تعمیری اور غیر سنجیدہ پالیسیاں پاکستانی عوام میں مایوسی کا سبب بننے لگی”*
‘مالی سال 2024 میں پاکستان سے 7 لاکھ سے زائد افراد روزگار کیلئے بیرون ملک چلے گئے۔۔۔۔
*’مالی سال 2024 میں پاکستان سے 7 لاکھ 89 ہزار 837 لوگ روزگار کیلئے بیرون ملک چلے گئے۔*
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوور سیز ایمپلائمنٹ کے مطابق:
گزشتہ مالی سال 2023 میں پاکستان سے 8 لاکھ 11 ہزار 469 افراد روزگار کیلئے بیرون ملک گئے تھے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر بیورو آف امیگریشن اینڈ اوور سیز ایمپلائمنٹ عبدالشکور سومرو نے کہا کہ:
*’مالی سال 2024 میں سعودی عرب سے ویزا جاری ہونے میں مسائل رہے اور سعودیہ نے زیادہ تر ویزے لیبر کلاس کو جاری کیے۔*
انہوں نے کہا کہ:
اسی عرصے میں عرب امارات نے پروفیشنل کیٹیگریز میں ویزا جاری کیے ہیں۔
جبکہ!
پروفیشنل ورکرز کی مانگ امریکا اور یورپ میں بڑھی ہے۔
ان حقائق کے باوجود حکومت کس منہ سے بین الاقوامی سرمایہ کاری لانے کی بات کر رہی ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔
*”ملک میں پانی کا فقدان، بجلی کا فقدان، گیس کا فقدان اور حکومت کے بڑے بڑے بے بنیاد، بے مقصد کھوکھلے دعوے”*
انسانی معاشرے کو تقریبا کھوکھلا کرتی حکومت کی کارستانیہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
موجودہ وقت میں کوئی بھی غیر سنجیدہ اور غیر منصفانہ فیصلہ حکومت اور ملک کے لیے خطرات کی گھنٹی کی وجہ ہوسکتا ہے۔
حکومت نے اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا، بجلی، گیس، پیٹرول، دودھ، آٹا، چاول، چینی اور مختلف اشیاء خورد و نوش پر۔۔۔۔۔
تو!
عوام میں پکنے والا لاوہ حکومت اور حکومت کے پیروکاروں کے لیے خدانخواستہ بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔