223

قصور شعبہ صحافت کو قصور پولیس کی جانب سے برے القابات سے نوازنے اور صحافی کو حراساں کرنے پر صحافی برادری کی اظہار تشویش،ڈی پی او قصور و آئی جی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

قصور
شعبہ صحافت کو قصور پولیس کی جانب سے برے القابات سے نوازنے اور صحافی کو حراساں کرنے پر صحافی برادری کی اظہار تشویش،ڈی پی او قصور و آئی جی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات قصور کے صحافی ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے کونسل ممبر غنی محمود قصوری کو حدود تھانہ صدر قصور کے چار پولیس اہلکاروں نے تلاشی کے نام پر روکا اور تمام ڈاکومنٹس پورے پا کر بھی صحافت پر برے الفاظ کسے
کہا کہ آپ لوگ حرام کماتے ہو آپکو کونسا فرق پڑتا ہے جس پر صحافی برادری میں سخت تشویش پائی گئی
اس واقعہ کی انکوائری کیلئے
ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے چئیرمین سردار شریف سوہڈل،آل پاکستان جرنلسٹ اینڈ لائر ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن منور قادری فیصل ، شمائلہ ہاشمی،امجد نزیر،عبدالوحید،افتخار سلطانی،رانا جنید خان،پرویز میو،عبدالقدیر،ماجد فاروق انجم،سید مزمل،قادر سندھو،میاں خلیل صدیق آرائیں،محمد فیاض،افضل حسین،سید نور الحسن گیلانی و دیگر ڈاکٹر محمد ادریس،محمد حنیف و دیگر
صحافیوں نے ڈی پی او قصور و آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور پولیس یہ جان لے کہ پر شعبے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں
جسطرح محکمہ پولیس میں برے لوگ ہونے کے باجود ہم صحافی ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرتے ہیں ایسے ہی شعبہ صحافت میں موجود کالی بھیڑوں کی موجودگی یقینی ہے مگر اس کی آڑ میں پوری صحافت پر وار نا کیا جائے
صحافی حضرات نے فی الفور ایس ایچ او تھانہ صدر عبداللہ امین اور ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ سے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے اور آذادی صحافت پر گندگی اچھالنے والے پولیس اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کی ہے

رپورٹ غنی محمود قصوری
بیورو چیف باغی ٹی وی
بیورو چیف دعا نیوز
کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
ممبر آل پاکستان جرنلسٹ اینڈ لائر فورم
#قصوریات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں