زندہ اور دلیر قومیں اپنی بے عزتی کا بدلہ لیتے ہیں۔لیکن ھم نے آج تک کیا کیا؟؟؟؟ایک نااہل جنرل نیازی نے مرنے کی بجائے ہھتیار ڈال دیئے اور اب ایک نیازی پھر اپنے بڑوں کی تاریخ دہرا رھا اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور
زندہ اور دلیر قومیں اپنی بے عزتی کا بدلہ لیتے ہیں۔لیکن ھم نے آج تک کیا کیا؟؟؟؟ایک نااہل جنرل نیازی نے مرنے کی بجائے ہھتیار ڈال دیئے اور اب ایک نیازی پھر اپنے بڑوں کی تاریخ دہرا رھا اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور بچی کھچی فوج کا بھی مورال ڈاؤن کرنے پر لگا ھے۔اگر ھم 71میں بھٹو اور اس وقت کے فوجیوں کو کہٹرے مےں لاتے اور شکست کا پوچھتے تو شاہد آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔آج پھر ایک نیازی کے ہاتھوں فوج کو اتنا بدنام کردیا گیا کہ بنگلیوں کے طرح پھر نوجوان اپنے ھی محافظوں کے خلاف وہ بکواس کرتی ھے جو اگر جنرل عاصم منیر سن لے تو شاہد غیرت میں آکر مستعفی ھوجائے۔ھمارے کرتا دھرتا صرف سوشل میڈیا پر سںتے دیکھتے ھیں لیکن جو اب سرعام پبلک مقامات اور محفلوں میں کہا جارھا ھے وہ سوشل میڈیا پر شیئر ھونے والے مواد کا دو فیصد بھی نہیں۔پتہ نہیں کہاں ھیں ادارے جن کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرھا۔اگر آرھا ھے تو اپنے بڑوں تک نہیں پنچاتے۔پاکستان آج پھر خطرناک حالات سے دوچار ھے۔آل شریف سے یہ ملک چلنےوالا نہیں۔چین جاتے ھیں اسکی ترقی کی تعریف کرتے ھیں اور سعودیہ جاتے ھیں تو انکے قاصدے پڑھتے ھیں لیکن غیرت کی گولی نہیں کھاتے کہ چین ایک سال بعد آزاد ھوا۔سعودیہ والے 60تک پاکستانی حاجیوں کے تحائف پر گزارا کرتے تھے لیکن آج ھم کہاں ھیں اور چین سعودیہ کہاں ھے۔جاپان جیسے ملک کو قرضہ دینے والا پاکستان کا کےا حال کردیا آل بھٹو اور آل شریف نے پچھلے چالیس سال سے تقریبا باری باری یہ دو خاندان اور ساتھ پانچ سے سات خاندان معاون کے طور پر آدھے حکومت میں آدھے اپوزیشن میں رہ کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رھے ہیں لیکن ان گدھوں کا پیٹ نہیں بھرا۔اب دیکھیں کہ شہباز شریف اور مریم نواز اور آصف زرداری کا اھم ترین عہدوں پر قابض ھونا کہاں کی عقل مندی ھے اور کہاں کا میرٹ ھے۔؟آج 16دسمبر شقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس کے شہداء کی یاد میں ھر پاکستانی دکھی ھے لیکن حکومت اور اشرافیہ کو کؤئی فکر نہیں۔انکا آدھے پاکستان سے بھی کامچل رھا ھے۔انکے سب چھوٹے بڑے موج میں ہیں۔انرون بیرون ملک دولت کے امبار ہیں محل ہیں۔کمپنیاں ھیں۔لیکن غریب پاکستانی کا بچہ بچہ آئی ایم ایف۔ورلڈ بنک۔ایشیا بنک۔اور پتہ نہیں کس کس بنک کا مقروض ھے۔ایک قرض کی قسط دینے کے لیے مزید قرض لے کر قسط ادا کی جاتی ھے۔سارے اعداد وشمار فراڈ اور جھوٹے قوم کو بتائے اور دکھائے جاتے ھیں۔قوم کی ترقی کے لیے قرض لیا جاتا ھے لیکن پتہ چلتا ھے قوم تو ویسی کی ویسی بھوکی ننگی ھے لیکن قرض لینے والوں کے بچوں نے نئی افشور کمپنی بنا لی ھے اور اسکا منافع چند سالوں اتنا ھوطا ھے کہ اللہ کی پناہ۔
اب بھی وقت ھے کچھ نہیں گیا اب بھی پاکستان کی فکر کرو۔پاکستان کی ترقی کے لیے کوشش کرو۔غربت جہالت کے خاتمہ کے لیے اقدامات اٹھاؤ۔اگر عقل کے ناخن نہ لیے تو پھر نفرت کا لاوا آپ سب کو بہا کرلے جائے گا۔نہ فوج کچھ کرسکے گی نہ کوئی اور فورس۔عوامی نفرت کے آگے بنگلہ دیش میں بھی ہتھیار ڈالنے پڑے تھے اور اب تو حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہیں کہ معلومات سچی جھوٹی تک اب ہر ایک کو رسائی حاصل ھے۔جلییں اور جبر سے کوئی حکومت نہیں کردکا۔لیبیا۔عراق اور اب شام کے ظالم حکمرانوں کا حالدیکھ لو۔نشانہ عبرت ھے لیکن آقتدار کا نشہ ھی ایسا ھے کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا جب نشہ اترتا ھے تو دیر ھوچکی ھوتی ھے
محمد علی مصطفائی۔کرائم رپورٹر نوائے حق لاھور۔صدر المصطفے فاؤنڈیشن فیصل آباد