ھم نے جب سے ھوش سنھبالا ھے۔کربلا سے لے کر بعد میں بھی آنے والے ظالموں کو برا بھلا کہتے رھے اور مظلموں کو روتے رھے۔مظلموں کا ساتھ نہ دینے پر نیوٹرل کو کوفی کہتے رھے۔آج ھمارے سامنے کشمیر۔فلسطین۔شام۔لبنان۔وغیرہ میں کیا
ھم نے جب سے ھوش سنھبالا ھے۔کربلا سے لے کر بعد میں بھی آنے والے ظالموں کو برا بھلا کہتے رھے اور مظلموں کو روتے رھے۔مظلموں کا ساتھ نہ دینے پر نیوٹرل کو کوفی کہتے رھے۔آج ھمارے سامنے کشمیر۔فلسطین۔شام۔لبنان۔وغیرہ میں کیا ھورہا ھے۔؟ھم آج بھی ظالموں کی مزمت اور مظلموں کو رو رھے ھیں اور کوفیوں کی طرح بزدلوں۔منافقوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھکر بیٹھے ھیں۔ایک مشہور فرمان حضرت امام زین العابدین علیہ اسلام کا ھے کہ کربلا میں مجھے شامیوں کے ظلم پر اتنا افسوس نہیں ھثا جتنا کوفیوں کی خاموشی پر ھوا ھے۔مفہوم۔
یعنی جو ظالم ہیں سو ھیں لیکن جو حق پر ھیں اور پھر خاموشی اختیار کریں اور چپ سادھ لیں یہ ناقابل معافی جرم ھے۔حق کو جانتے پہچانتے ھوئے بھی حق کا ساتھ نہ دیا مظلوم کی مدد نہ کی۔بندہ مومن ھوتا ھے یا کافر درمیانی شکل منافق کی ھے جوکہ اسلام کے نزدیک کافر سے بھی بدتر ھے۔اب ٹھنڈے دل سے ۔سکون سے۔بیٹھ کر سوچیں کہ کیا ھم کافر ھیں کیا ھم مسلمان ھیں۔کیا ھم منافق ھیں۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اگر ھم کافر ھیں تو کوئی بات نہیں حلال حرام۔ظلم زیادتی۔کی تمیز نہیں ہے سو جو چاھو کرو۔آخرت میں حساب ھوجائے گا۔اگر منافق ھیں تو یہ بدتر شکل ھے۔اس سے نکل آھیں اور کافر یا مسلمان کا انتخاب کریں اور اگر مسلمان ھیں تو پھر آپ کا رب خالق کائنات فرما رھا ھے۔مفہوم۔ہلکے ھو چاھے بھاری نکلو مظلموں کی مدد کے لیے جو پکار رھے ہیں کہ اے اللہ بھیج کوئی مددگار جو ھمیں ظالموں سے نجات دلائے۔اور ھمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفے ﷺنے حق کا پرچم بلند کرنے کے لیے مظلموں کو ظالموں سے نجات دلانے کے لیے کئی ایک جنگوں میں خود حصہ لیا اور کئی ایک دیگر صحابہ کرام کی زیرقیادت لشکر روانہ کیے۔اور جب تک مسلمانوں جہاد کا علم بلند رکھا کفار اور ظالموں کو جرات نہیں ھوئی کہ وہ کسی پر ظلم کرسکیں۔اگر کسی نے شب خون مارا بھی تو مسلمانوں نے خوب بدلہ لیا۔لیکن پھر کفار نے ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو جہاد سے دور کیا اور دو صدیوں سے کفار کی ساری دنیا پر حکمرانی ھے اور ظلم وزیادتی کا بازار گرم ھے۔مسلمان کہنے کو دو ارب ھیں لیکن بھیڑ بکریوں سے زیادہ انکی حثیت نہیں ھے۔حضور اکرم ﷺنے فرمایا تھا کہ ایک دور آئے گا تم کثرت میں ھوں گے لیکن بھیڑ بکری کے ریوڑ سے زیادہ تمھاری اوقات نہیں ھوگی۔کیونکہ تم دنیا کی دولت کی محبت میں یڑ جاؤ گے اور موت سے ڈرو گے۔مفہوم حدیث۔آج ذرا سر اٹھاؤ دیکھو کیا ھورھا ھے۔کچھ تو عقل کا استعمال کرو۔کیا ھماری کوئی حثیت ھے؟۔عربوں اور دیگر مسلم ممالک کو چھوڑو۔اینی بات کرو ایٹمی پاکستان کی بات کرو۔25کروڑ ہجوم کی بات کرو۔سات لاکھ سے زیادہ باقاعدہ فوج رکھنے والے اور جدید میزائل۔جہاز رکھنے والہ پاکستان کی بات کرو۔25کروڑ کو چھوڑو صرف اپنی ذات کی بات کرو کیا ھم مسلمان ھیں؟؟؟؟؟؟؟؟
ھمارا کردار مسلمانوں جیسا ھے۔کیا ھم نے فلسطین۔شام لبنان میں یہودیوں کے ہاتھوں مظلوم بچوں۔عورتوں۔بوڑھوں کو شہید ھوتے ھوئے دیکھکر ھمارے اندر غیرت ایمانی جاگی ھے۔کبھی ھم نے افسوس کے علاوہ کوئی قدم اٹھانے کا سوچا ھے۔کبھی ھم مظلوموں کے لیے تڑپے ھیں اگر نہیں تو پھر ھمارا حساب امام حسین علیہ اسلام کا ساتھ چھوڑنے والے کوفیوں مےں کے ساتھ ھوگا۔اگر تڑپا ھے تو پھر آواز حق بلند کرو۔یہ چند روزہ زندگی آجکل تو بالکل ھی چندہ روزہ نہیں رھی بلکہ چند سیکنڈ کی رہ گی ھے۔ایک لمحہ پہلے آپ سے ملکر جانے والا اگلے لمحہ پتہ چلتا ھے کہ وہ فوت ھوگیا تو اتنی بے اعتباری زندگی کے لیے آخرت جو نہ ختم ھونے والی ھے۔اس کے لیے کچھ کرلو۔صرف نماز روزہ حج کا حساب نہیں ھونا بلکہ مظلموں کا ساتھ نہ دینے کا بھی حساب ھوگا اور جب تک مظلوم معاف نہیں کریں گے اس وقت تک اللہ تعالی نے بھی معاف نہیں کرنا۔جس معافی مل سکتی ھے اسکا ھم اہتمام کرتے ھیں اور جس کی معافی نہیں ملنی اس سے غافل ہیں۔آج 16دسمبر ھے۔بچوں کو بے دردی سے قتل کرنے والے منافقوں سے نفرت کرنے کا دن ھے۔سقوط ڈھاکہ کی شکل میں جو زخم لگا ھے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔آج اپنی کوتاہیوں۔غلطیوں پر غور کریں۔ھر ایک غور کرے۔سیاستدان۔فوج۔سرکاری ملازمین۔عدلیہ۔عام عوام۔صحافی حضرات۔طلب صلم۔اساتذہ کرام۔تاجر۔فیکٹری۔ملز مالک۔ریڑھی والا ۔مزدور سبھی سوچیں ۔فکر کریں۔کچھ خوف خدا کریں اپنی غلطیوں پر معافی مانگیں۔اور آئندہ صرف پاکستان اسلام کی ترقی وبقاء کے لیے کام کریں گے۔
دل کی بات
خ ح شہزاد