October 28, 2026

سابق ڈی جی نیب کیخلاف انکوائری پر عدالتی حکم امتناع اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کیخلاف نیب انکوائری کے نتیجے میں کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کے

20241216_170025

‏سابق ڈی جی نیب کیخلاف انکوائری پر عدالتی حکم امتناع

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کیخلاف نیب انکوائری کے نتیجے میں کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کے حکم امتناع میں 29 جنوری تک توسیع کر دی ۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سلیم شہزاد آرمڈ فورسز میں سرونگ افسر تھے جو ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئےاور مستقل ہو گئے لیکن ان کاتجربہ ناکافی تھا۔ عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی نیب انکوائری کے خلاف درخواست پر سماعت کی ۔ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ پٹیشنر کیخلاف انکوائری شروع کی گئی، اس متعلق رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ عدالت نے پوچھا چارج شیٹ کیا ہے کہ شہزاد سلیم غلط طریقے سے نیب میں بھرتی ہوئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا وہ آرمڈ فورسز میں حاضر سروس افسر تھے ،ڈیپوٹیشن پر نیب میں آئے اور مستقل ملازمت حاصل کر لی۔ شہزاد سلیم کا تجربہ ناکافی تھا۔ عدالت نے پوچھاتجربہ کی کمی نیب کے علم میں کب آئی؟ نیب کو اب احساس ہوا ہے کہ شہزاد سلیم کا تجربہ پورا نہیں ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا انہوں نے شہزاد سلیم کے ساتھ کام کیا ہے وہ بڑے پُراثر افسر تھے۔ درخواست گزار کے وکیل عبدالرحیم بھٹی ایڈوکیٹ نے کہا شہزاد سلیم 25 سال سے نیب میں تھے۔ وہ بڑے پُراثر بھی تھے اور بڑے قابل بھی تھے اور شاید یہی اُنکا قصور ہے۔پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ عدالت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے بھی رپورٹ طلب کر لے۔ ان کا کہنا تھا نیب پہلے خودمختار ادارہ تھا لیکن اب وزارتِ قانون کے ماتحت ہے۔ جسٹس ارباب طاہر نے پوچھا مطلب نیب اب خودمختار نہیں ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا نہیں، وزارتِ قانون کے ماتحت ہونے کا مطلب وفاقی حکومت کے ماتحت ہے۔ عدالت نے نیب کے پیراوائز کمنٹس کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتےہوئے سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی