October 28, 2026

“تم اتنے برتن دهو کر تهکتی نہیں ہو؟ بے زاری نہیں ہوتی کہ گهر کے بهی برتن دهوؤ اور پهر باہر والوں کے بهی؟ اور تمہارا تو کنبہ بهی بڑا ہے تو برتن بهی زیادہ ہوتے ہوں گے؟” سمرین نے برتن دهوتی شمیم سے سوال کیا.

IMG-20241214-WA0222

“تم اتنے برتن دهو کر تهکتی نہیں ہو؟ بے زاری نہیں ہوتی کہ گهر کے بهی برتن دهوؤ اور پهر باہر والوں کے بهی؟ اور تمہارا تو کنبہ بهی بڑا ہے تو برتن بهی زیادہ ہوتے ہوں گے؟” سمرین نے برتن دهوتی شمیم سے سوال کیا.
“لیں باجی ہمارے ہاں برتن کا کیا سوال…. برتن ان کے گندے ہوتے ہیں جن کے ہاں قسم قسم کے کهانے بنتے ہوں. ہم تو جی روٹی پر چٹنی یا سالن رکھ کر کها لیتے ہیں. آدهی پونی روٹی کے لیے برتن بهانڈوں کا کیا سوال….”
سمرین کے ذہن میں ایک ہی جملے کی بازگشت تهی کہ “برتن ان کے گندے ہوتے ہیں جن کے ہاں قسم قسم کے کهانے بنتے ہوں، آدهی پونی کے لیے برتن بهانڈوں کا کیا سوال….” وہ لرز گئی.
“میرے اللہ ! میں اس چیز سے چڑتی رہی کہ برتن کیوں گندے ہوتے ہیں، مجهے دهونے کیوں پڑتے ہیں. میں نے یہ تو کبهی سوچا ہی نہیں کہ میرے گهر میں رزق ہے تو برتن جهوٹے ہو رہے ہیں. مجهے برتنوں سے بهرے سنک سے نفرت ہوتی تهی، میں ان برتنوں میں کهائے گئے رزق ‘پہ’ شکر گزار نہیں ہوتی تهی. اگر مجهے رزق ملنا بند ہو جائے تو یہ برتن صاف ہی رہیں گے… اللہ مجهے معاف کر دے.”
اس نے چاروں طرف نظر گهمائی، بریانی قورمے اور کئی دوسری پکوانوں کی پتیلیاں رکهی ہوئی تهیں. کچھ بهری ہوئی کچھ خالی، جنہیں شمیم بڑی محنت سے صاف کر رہی تھی. عطا ہی عطا، رزق ہی رزق، کشادگی ہی کشادگی، فراوانی ہی فراوانی. آج اسے یہ برتن برے نہیں لگ رہے تھے بلکہ نعمت لگ رہے تهے.
سمرین نے دو بڑے ڈونگوں میں کهانا بهرا اور شمیم (کو دیا).
ابهی اسے ظہر کی نماز کے ساتھ شکرانے کے نوافل بهی پڑهنے تهے.
افسانہ : برتن از غزالہ روشن
شعاع ڈائجسٹ دسمبر 2016