پنو عاقل ( بیورو چیف ۔سید نصیر حسین زیدی ۔دعا ان لاہین نیوز پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے سکھر ڈویژن کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم
پنو عاقل ( بیورو چیف ۔سید نصیر حسین زیدی ۔دعا ان لاہین نیوز پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے سکھر ڈویژن کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی سکھر ڈویژن کے اضلاع کا اجلاس کیا۔ یہ اجلاس شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شاندار خراج عقیدت پیش کرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں کیا انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمروں کا مقابلہ کیا اور مقابلہ کر کے عوام کو پاکستان کا حکمران بنایا
۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کا عام آدمی کی زندگی پر اتنا اثر نہیں ہوتا
کل پرسوں وزیراعظم صاحب نے کہا کہ مہنگائی 3.4 فیصد آگئی ہے ، یہ بیان پڑھ تو لیتے ہیں پر اعتبار نہیں آتا انہوں نے کہا کہ سبزیاں مارکیٹ میں مہنگی مل رہی ہے لیکن کسان نہی کماتا ، کسان کو کوئی فائدہ نہی ، آبادگار کو نقصان ہوا ، مڈل مین کما رہا ہے اس کو روکنے کی ضرورت ہے ۔گندم 4 ہزار روپے من تھی لیکن مارکیٹ میں 26 سو سے 28 سو روپے بکی ، چاول کی کوئی قیمت نہیں 3 ہزار سے شروع ہوئی مارکیٹ میں 23 سو روپے میں بک رہی ہے ، گنہ دو سال پہلے بھی 400 روپے من تھا آج بھی 400 روپے ہے ، دو سال میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ آبادگار کو نقصان ہوا ، بیچ میں جو لوگ ہیں وہ مفت میں کماتے ہیں
مڈل مین کے کلچر سے کس طرح آبادگار اور عوام کی جان کیسے چھوٹے اس پر توجہ ہونی چاہیے، ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک چیف منسٹر وفاق کو چیلینج کرے گا تو اس کو جواب ملے گا ، گنڈاپور صاحب نے تو شکایت کرنی ہے ، کبھی ہلا بول کر ، کبھی لاٹھیاں چلا کر ، کبھی بندوقیں چلا کر
بدامنی وہاں ہے چلا آپ رہے ہیں
بدامنی کے روزانہ واقعات ہوتے ہیں ، وہ پہلی بار وزیر اعلیٰ نہی ہوئے ، ان سے پہلے پرویز خٹک صاحب وزیر اعلیٰ تھے، وہ دو مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے ، ان ہی کے دور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا تھا ، تب عمران خان کہاں گئے تھے، اور پرویز خٹک کھدر گئے تھے ، آج بھی نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت افواج پاکستان کہاں کام کرتی ہے ، سائوتھ وزیرستان کہاں ہے
انہوں نے کہا کہ نئے کینال پروجیکٹ کو رد کیا ہے ، چھ کینال پنجاب میں نہیں بن رہے ، دو کینال سندھ میں ہیں اور ایک کچھی کینال بلوچستان میں ہے ، ہمارا اعتراض یہ ہے کہ وہ ہمارے حصے سے پانی نکالیں گے ، اس پر ابھی تک فیصلہ نہی ہوا ، ایکنک میں معاملہ نہی آیا ، ہم نے کہا مشترکہ مفادات کونسل میں لے جائیں وہاں بھی یہ معاملہ نہی پہنچا، ہم کہتے ہیں پنجاب میں زیر زمین پانی نکال کر بھی زمینیں آباد ہوسکتی ہیں، تو کینال کیوں نکال رہے ہو ، کینال نکلیں گے تو ہمارا پانی استعمال ہوگا یہ اعتراض ہے اور رہے گا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ جب ارسا کہہ رہی ہے کہ پانی کی قلت ہے تو پھر اس سے کینال کیسے نکل سکتے ہیں ، سندھ کی 36 لاکھ ایکڑ پر کھارا پانی آچکا ہے ، ٹھٹھہ ، بدین اور سجاول میں ان زمینوں پر آبادی ہوتی تھی
اب نہی ہو رہی کیونکہ سمندر کا پانی آبادی کرنے نہیں دیتا
انہوں نے کہا کہ 36 لاکھ ایکڑ زمین کو غیر آباد کر کے غیر آباد زمین کو دریائے سندھ سے پانی دیں اس میں کیا لاجک ہے
، ہم نے اس کی مخالفت کی ہے اور کرتے رہے گے ، نثار کھوڑو نے کہا کہ ہم ارسا ایکٹ کو رد کردیا ہے ، سندھ اسمبلی میں اس ترمیم کو یکراء رد کر چکے ہیں ، پانی کا مسئلہ صوبوں کی مرضی کے بغیر حل نہی ہوسکتا
انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم اس لئے نہی بناسکا کیونکہ کہ آواز آئی کہ صوبے جب تک راضی نہیں ہونگے کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا