سکھر سندھ۔۔ بیورو چیف۔۔۔۔سید نصیر حسین زیدی۔۔۔ دعا ان لاہین نیوز۔۔۔۔۔ جملہ تحصیلوں کے افسران کی لاپرواہی کی وجہ سے مسائل میں شب وروز اضافہ کیوں ؟
سکھر سندھ۔۔
بیورو چیف۔۔۔۔سید نصیر حسین زیدی۔۔۔
دعا ان لاہین نیوز۔۔۔۔۔
جملہ تحصیلوں کے افسران کی لاپرواہی کی وجہ سے مسائل میں شب وروز اضافہ کیوں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ساری سردردی ضلعی افسران کی ہے ؟
مقامی سطح پر مقامی افسران کیوں نوٹس نہیں لیتے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈی سی صاحب رحیم یار خاں/ اور ڈی پی او صاحب رحیم یار خاں سے نوٹس لیکر جملہ تحصیلوں کے متعلقہ افسران کو فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( 1 ) ضلع بھر کے تمام شہروں کے اہم چوراہوں پر تجاوزات کی بھر مار ہے جسکی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے کیونکہ ہر شہر کے مین چوک پر تجاوزات کی وجہ سے گنے سے لوڈ ٹرالیوں اور بڑی ٹریفک راستہ نہ ملنے پر سڑکوں پر کھڑی ہوجاتی ہیں اور یوں ٹریفک سڑکوں پر کھڑی ہونے کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں اور عوام کا گزرنا تک محال ہوجاتا ہے
جس جس علاقے میں شوگر ملز ہیں یا انکے نزدیک اہم شہر ہیں کم ازکم ان علاقوں کے مین چوک تو تجاوزات سے خالی ہونے چاہئیں کیونکہ ان علاقوں میں تجاوزات کی بھر مار ہی جو ٹریفک معطل کئیے رکھتی ہے
(2) ضلع بھر کے شہروں قصبات نواحی چکوک میں چھوٹے سپیکروں کے زریعے سارا سارادن پھل فروٹ۔ سبزی اور مختلف چیزوں کی سیل والے بھائی ایک دوسرے کے مقابلے میں سپیکر چلاکر ایک دوسرے کی آواز دبانے کے لئیے سپیکر فل آواز تک کھول دیتے ہیں یہاں تک کے یہ پھل فروٹ۔سبزی یا دیگر سیل والے گلی محلوں میں بھی یہ چھوٹے سپیکر چلائے رکھتے ہیں بچوں کی تعلیم۔ مریضوں کی علالت کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ضلع بھر میں ان سپیکروں کے شور سے نجات دلواتے ان پر پابندی لگائی جائے
(3) محکمہ ہائی وے کے ہر تحصیل افسر وعملہ کو علم ہے کہ سڑکوں کے دائیں بائیں ہائی وے کی کتنی جگہ ہے وہ کس مجبوری میں خاموش رہتے ہیں مین چوکوں پر تجاوزات کی بھر مار اس محکمے کی لاپرواہی کی وجہ سے بھی ہے
سڑکوں کے ہر دو اطراف کے مظبوط پشتے دوران کراسنگ ٹریفک کے لئیے کام آتے تھے وہ مظبوط پشتے کیوں غائب ہوتے جارہے ہیں بارش کے بعد کروڑوں روپے مالیتی سڑکیں کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں وہ اس لئیے کہ گورنمنٹ سے اس آڑ میں بس فنڈز لئیے جاسکیں کیونکہ سڑکوں پر بیلدار عملہ تو کام کرنے سے رہا
ہائی وے عملہ سڑکوں کی دیکھ بھال کیوں نہی کرتا ؟
حکومت کروڑوں۔ اربوں روپے کے اخراجات سے نئی کارپٹ سڑکیں پہلی سطح سے اوپر کرکے بناتی ہے تاکہ پانی سڑک پر نہ آئے ابھی سڑک مکمل ہی ہوتی ہے سڑک کے ہر دو اطراف کی دوکاندار مٹی ڈال کر دوبارہ سے اپنی دکانوں کے تھڑے اونچے کرکے پانی کا بہاؤ سڑک کی طرف کر دیتے ہیں اگر ایسا عمل کرنا ہے تو پھر سڑکیں بنانے کا کوئی فائدہ ؟
متعلقہ محکمہ و میونسپل کمیٹیاں کیوں نوٹس نہیں لیتیں ؟
(4) ضلع بھر میں لوڈر رکشوں کی بھر مار ہے ان لوڈر رکشوں پر کوئی ریفلیکٹر نہی لگے ہوتے رات کے وقت یہ لوڈر رکشے حادثات کا باعٹ بنتے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں جاچکی ہیں اور لاتعداد مختلف ہسپتالوں میں لاکھوں روپے لگا کر اپنا علاج معالجہ کروا رہے ہیں
کیا ڈی ایس پی ٹریفک ہر تحصیل ٹریفک انچارج اور فیلڈ میں کھڑے ٹریفک ملازمین کا اتنا بھی اخلاقی فرض نہی بنتا کہ وہ حادثات کی روک تھام کے لئیے ریفلیکٹر مہم چلاکر جملہ ٹریفک کو ریفلیکٹر لگوائیں تاکہ حادثات میں کمی۔اور قیمتی جانیں بچ سکیں
۔(5) جملہ تحصیلوں میں آوارہ خونخوار کتوں کی بھر مار ہے اس بابت ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں تو مختلف ٹیمیں علاقہ میں پہنچ کر خانہ پری کرتے ہوئے چند تصاویر ضلعی افسران کو بھیج کر مطمعین کرتے ہیں جبکہ فیلڈ میں صورتحال اسکے برعکس اور ابتر ہوتی ہے آوارہ خونخوار کتوں کے خاتمے کے لئیے تحصیل انتظامیہ کیوں نوٹس نہی لیتی ؟ سکول مدارس جانے والے بچے بچیوں اور راہگیروں کی زندگیاں ہروقت خطرے میں رہتی ہیں ہر تحصیل انتظامیہ اس بابت مناسب اقدامات کرے تاکہ قیمتی جانیں بچ سکیں۔
آج ان محکموں بابت گزارشات کی ہیں کل بشرط زندگی دیگر محکموں بابت عرضداشت کی جائے گی۔
شہریوں کا مطالبہ