*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: ایک امریکی سچا واقعہ ۔۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہیں کہ لوگوں نے کس طرح جائز دولت کمائی حتیٰ کہ وہ دنیا کے امیرترین بن گئے، دنیا کے عیش و تعیش کے چند سالوں میں ہی وہی دولت زندگی کا عذاب بن جاتی رہی ھے پھر رسول خدا ﷺ کے فرمان کے تحت دکھی انسانیت کی خدمات اور فلاح و بہبود میں ذاتی طور پر اور مکمل توجہ سے ساتھ پیش کردیتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں کہ وہ یہ عذاب موت کیساتھ ابدی طور پر لے جاتے ہیں، سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا اس نے کئی بار ایسے حقیقی واقعات پر اسٹوریز بیان کی ہیں لکھی ہیں جنہیں اللہ نے زندگی میں ایک موقع دیا اور ان انتہائی مالداروں نے اشارہ سمجھ لیا اپنے کمائی ہوئی دولت راہ خلق خدا کی خدمت اور آسانی کیلئے پیش کردی جس سے مستحقین غریب غربا یتیم و مساکین کو جینے کی ایک بہتر ساماں میسر آیا۔ ھمارے ملک کا المیہ یہ ھے کہ اشرفیہ، حکمران جن میں وزیراعظم اور صدر بلخصوص، نوکر شاہی طبقہ، ججز و جسٹس، پارلیمینٹیرین علماء سوء، مذہبی رہنما، جعلی پیر و فقیر اور اسٹبلشمنٹ صرف اور صرف اپنی ذات کیلئے دولت اکھٹی کرتے رہتے ہیں اور پاکستانی قوم کو مرنے پر مجبور کرتے ہیں، بےجا ظالمانہ ٹیکس اور مہنگائی کرکے معاشرے کو بدترین کرڈالا ھے اپنی عیاشیاں تو کم نہیں کررھے البتہ ملک کو انکارکی کی جانب مسلسل دھکیل رھے ھے۔ آج جو حال ان سب نے کردیا ھے یقیناً انکے اعمال اور کرتوت اس قدر شرانگیز ہوچکے ہیں کہ اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی قائم رہیگی اور یہ سب اسی بد حالت میں موت کو پائیں گے جس لقمہ سے اپنی نسل کی پرورش کی ہے انکی نسلی در نسل اسی عذاب اور گناہ میں مبتلاء رہے گی۔ انہی بد اعمال پر قرآن اور احادیث بھی اللہ کا غضب بیان کرتا ھے لگتا ھے انکے دلوں پر مہر سبط کردی گئی ھو۔ اللہ ظالموں کو جلد کیفرکردار تک پہنچاتا ھے یہ سب انشاءاللہ جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ معزز قارئین میں بات کررھا تھا کہ وہ امیر و کبیر جنھوں نے بناء عوام و انسان کو تکلیف دیئے بغیر حلال جائز طریقے سے بے پناہ دولت کمائی بلآخر یہ دولت بھی انکی زندگی کو بہتر بنانے یا مرض سے چھٹکارہ پانے میں ہرگز مددگار ثابت نہیں ہوتی ھے ایسے ہی ایک امریکہ کے امیرترین شخص کا سچا واقعہ آپکی خدمت میں پیش حاضر ہوں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! جان ڈی راک فیلر یہ کبھی دنیا کا امیر ترین آدمی تھا۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ پچیس سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ اکتیس سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ اڑتیس سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں نوے فیصد تیل کو صاف کیا۔ پچاس تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی بن گیا تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اسکی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کیلئے تیار کیا گیا تھا لیکن تیرپن سال کی عمر میں وہ بیمار ہوگیا۔ اسکا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اسکے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کرسکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اسکے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائیگا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔ جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کیساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ اگلے جہاں میں لے جانے کے قابل نہیں ہے۔ وہ آدمی جو کاروباری دنیا کو کنٹرول کرسکتا تھا، اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اسکے پاس ایک انتخاب رہ گیا تھا۔ اس نے اپنے اٹارنی، اکاؤنٹنٹ اور منیجرز کو بلایا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو اسپتالوں، تحقیق اور خیراتی کاموں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ جان ڈی راک فیلر نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج لیکن شائد راک فیلر کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ جس لمحے اس نے اپنی کمائی ہوئی تمام چیزوں کا ایک حصہ واپس دینا شروع کیا، اسکے جسم کی کیمسٹری میں اس قدر نمایاں تبدیلی آتی چلی گئی کہ وہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ تریپن سال کی عمر میں ہی مر جائیگا لیکن وہ اٹھانوے سال کی عمر تک زندہ رہا۔ مال خیرات کرنے سے وہ تندرست ہوگیا۔ گویا یہ خیرات نام کی چیز بھی ایک طریق علاج ہے۔ اسے بھی آزما کر دیکھ لیجئے۔ اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا، سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اسکا ہے، اور میں اسکی خواہشات کی تعمیل کرنے کیلئے صرف ایک چینل ہوں۔ میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛ کام اور کھیل سے بھرپور۔ میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا۔ میرے لئے ہر دن اچھا تھا۔ تقریباً آج سے چودہ سو پچاس سال پہلے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کو بتایا تھا کہ اپنی بیماریوں کا علاج صدقہ سے کیا کرو۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج ہمارے حکمران عوام سے حاصل کردہ رقوم کو کہیں اپنے خاندان اور کہیں سیاسی پلیٹ فارم کے نام سے چند رقم غیر مستحقوں میں تقسیم کرکے بڑے بڑے اشتہارات آویزاں کرکے قومی دولت کا بے دریغ استعمال عادت سی بن چکی ھے۔ کئی سالوں سے بینظیر اسکیم کے ذریعے من پسند لوگوں میں قومی دولت تقسیم کار کا عمل آخر کیوں رکھا گیا ھے کیا یہ اپنے باپ دادا یا ذاتی اکاؤنٹ سے دیتے ہیں اگر نہیں تو اس کا نام آپ ﷺ یا اہل بیت یا پھر صحابہ اجمعین پر ہونا لازمی چاہئے۔ احساس عمران خان نے شروع کیا تھا اس میں بھی بے انتہا بدنظمی اور ناانصافی کا عمل پایا جاتا رھا البتہ اشتہارات اور تشہیر کمال درجہ بہتر رکھی گئی، پاکستان میں ہر دور میں ہر حکمران نے سفید پوش مستحقین کے حقوق کی حفاظت نہ کرکے بدترین مافیاء کو پھیلنے کا پورا پورا موقع دیا، آج ایسے کئی این جی اوز بھی ہیں جو فلاح و بہبود کے پیچھے انتہائی غلیظ حرکات میں ملوث ہیں انکی روک تھام اور بندش پر کوئی حکومت وقت دھیان نہیں دیتا کیونکہ اسے اس خاموشی کے سبب فائدہ دیا جارھا ہوتا ھے۔ ہمارے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز میں بھی اپنی اپنی این جی اوز بنی ہوئی ہیں جو ایک جانب حکومتی ٹیکس سے بچنے کا سہارا دوسرا یہ کہ آڈٹ اور احتساب سے مستثنیٰ اور پھر ٹیلی تھون کے ذریعے بین الاقوامی طور پر بھیک ازم کو تقویت پہنچانا اب تو حد یہ ہوگئی ھے کہ ایک مذہبی چینل نے چوراہوں پر لوگ بٹھاکر چندہ کا مستقل راہ بنالی ھے ھم کہاں جارھے ھے “آپ ﷺ کے فرمان پاک کا مفہوم ھے کہ آخری وقتوں میں دین درہم و دینار میں تولہ جائیگا”۔ ندی نالوں بدبودار کیچڑ میں مساجد و مدرسہ قبضہ کی جگہ پر تعمیر کرنا کہاں کی شریعت کہاں کا اسلام ھے؟؟ بحرکیف ثابت ھوگیا کہ ھم بدترین قوم ہیں اسی سبب ہم پر بدترین حکمران اور حکومتی مشینری مسلط کردی جاتی ہیں جبتک ھم من حیث القوم ایک بہترین امتِ رسول ﷺ نہیں بنتے اس وقت تک ایسے بدکردار حکمران اور حکومتی مشینری نافذ ہوتی رہیگی۔