October 29, 2026

*یاد ماضی عذاب ہے یارب* *پینڈو اور اللہ پر تَوَکل* میں 2011 میں کور ہیڈ کوارٹر کراچی سے کمانڈنٹ سی ایم ایچ ملیر پوسٹ ہوگیا ۔ یہ سی ایم ایچ ملیر میں میری تیسری پوسٹنگ تھی

IMG-20241206-WA0269

*یاد ماضی عذاب ہے یارب*
*پینڈو اور اللہ پر تَوَکل*
میں 2011 میں کور ہیڈ کوارٹر کراچی سے کمانڈنٹ سی ایم ایچ ملیر پوسٹ ہوگیا ۔ یہ سی ایم ایچ ملیر میں میری تیسری پوسٹنگ تھی ۔ اتوار کے ایک دن سردیوں کی خوبصورت صبح تھی اور میں نے اپنے گھر میں برنچ پر فوجی اور سویلین دوست فیمیلز کی دعوت کی ۔ فوج میں فیملی کے ساتھ ہی دعوتیں ہوتی ہیں ۔ ایک دوسرے کے گھر اکیلے جانے کا رواج کم ہی ہے ۔
کمانڈنٹ سی ایم ایچ ملیر کا یہ گھر تقریباََ دو ایکڑ میں ہے ۔ لمبی قطاروں میں لگے آسمان کو چھوتے کچھ درختوں کے ساتھ ساتھ پیپل اور نیم کے درختوں نے سایہ کا انتظام بھی خوب کر رکھا تھا ۔ میں 6-2005 میں جب یہاں ایڈمن آفیسر تھا تو اپنے کمانڈنٹ برگیڈیر سلیم کیلیے اس گھر کی رینوویشن پر جان لڑا دی تھی اور اب اللہ کے کرم سے اسی گھر میں خود آبسا تھا ۔ گھر تھا تو ایک پرانی فوجی بیرک پر محیط مگر کسی گاٶں کی پرانی خوبصورت حویلی کا منظر پیش کرتا تھا ۔ موسمی پھول اتنے کھلتے تھے کہ خوابوں کا سا منظر لگتا مگرچھولیں تو سب سچ ہوتا تھا ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ فوجی بیرک آفیسرز میس ہوا کرتی تھی مگر اب یہ ایسا گھر تھا کہ لوگ مین گیٹ میں داخل ہوتے ہی اسکے سحر میں کھو جاتے تھے ۔
میرا نقطہ نگاہ الگ ہے اور پورا سچ کہ میری نظر میں اس گھر کی بہت مصیبتیں تھیں ۔ مجھے یہ گھر آج کوٸی مفت میں بھی دے تو کبھی نہ لوں کیونکہ اسکے آدھے ایکٹر کے لان کو پانی کون دیگا ۔ اسکی صفاٸی کون کرے گا ۔ در و دیوار پر چڑھی گھنی بوگن ویلیا کی بیلوں کی نوک پلک کون سنوارے گا ۔ مجھ جیسے خاک سے خاکی کو اتنے بڑے گھر کا آخر کرنا کیا ہے ۔ مجھے تو جیسے جیسے عقل آتی جارہی ہے ضروریاتِ زندگی کم ہوتی جارہی ہیں ۔

میرے فوجی دوستوں کے علاوہ بیگم کی 20-22 سالہ سرکاری نوکری میں زیادہ فیملی فرینڈز سویلین بھی ہونے تھے اسلیے آج کے برنچ میں آدھے سے زیادہ تو سویلین فیملیز بھی تھیں ۔ مہمانوں میں امریکہ سے آٸی میری ایک کلاس فیلو بھی تھی جس نے اب تک شادی نہیں کی تھی اور کبھی حیدرآباد اور کبھی ڈنڈی یونیورسٹی اسکاٹ لینڈ میں اکیلے ہی زندگی گزار رہی تھی ۔ ہمارے طالب علمی کے زمانے میں وہ حیدرآباد کے کسی بہت امیر خاندان کی خوش شکل اور خوش لباس بیٹی ہوا کرتی تھی جو لیاقت میڈیکل کالیج میں ان دنوں ہم جیسے دیہاتی پس منظر سے آٸے لڑکوں کو مونہہ نہیں لگاتی تھی ۔ مونہہ پھٹ بھی ایسی تھی کہ ہمارے سامنے ہی کہتی کہ *پینڈو لڑکے ڈاکٹر بھی بن جاٸیں تو پینڈو ہی رہتے ہیں*۔
آج وہ مجھ جیسے پینڈو پس منظر کے شخص کے گھر دوسرے کلاس فیلوز کے ساتھ برنچ پر تشریف لاٸیں ۔ آج ہم 28-27 سال بعد مل رہے تھے ۔ گھر کے لان میں لمبے گھنے درختوں سے چھنتی دھوپ میں لگی کرسیوں پر بیسیوں مہمانوں کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر وہ بہت حیران ہوئی ۔ میں نے بہت محبت سے سلام کرکے استقبال کیا ۔ وہ میرے پاس رک گٸیں ۔ کہنے لگیں بشیر بڑے ٹھاٹھ ہیں تمہارے ۔ تم برگیڈیر کب بنے ۔ میں نے کہا میڈم اللہ کا کرم ہے بس 3 سال پہلے ترقی پاٸی ۔ *اسی پرانی بے باکی سے کہنے لگی واہ مجھے پتہ ہوتا تو تمہیں قابو کرلیتی* ۔ میں زور سے ہنسا اور اپنی بیگم کو آواز دیکر تعارف کروایا ۔ وہ اسے خوب محبت سے ملی تو محترمہ نے سوال داغ دیا ۔ ارے طلعت تم نے اس سے کیا سوچ کر شادی کیلیے ہاں کردی تھی ۔ تمہیں کیسے پتہ تھا کہ *یہ پینڈو سا شخص برگیڈیر بن جاٸیگا* ۔ بیگم کہنے لگیں مجھے تو کبھی پتہ نہیں تھا کہ یہ برگیڈیر بنیں گے ۔ میرے ماں باپ تھے نہیں ۔ انکا رشتہ آیا تو *اپنے رب پر تَوَکل کرکے ہاں کردی* ۔
وہ آنکھیں پھاڑے میری بیگم کو دیکھ رہی تھی اور میں مزید آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے مین گیٹ کی طرف چلا گیا ۔
اکثر مہمان عصر کی نماز تک بیٹھے رہے ۔ کوٸی اٹھنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا ۔ بہت ہی محبتوں بھری محفل تھی ۔ برنچ پر آئے دوستوں کیلیے شام کی چاٸے کا بندوبست بھی کرنا پڑگیا ۔ میری یہ کلاس فیلو مہمان آخر تک بیٹھی رہی ۔ میں نے اسکی گاڑی لگوائی تو وہ اٹھ کر بہت محبت سے میری بیگم سے گلے ملی ۔ اس کا ہاتھ تھام کر کہنے لگی طلعت یہ اللہ پر تَوَکل کون سکھاتا ہے ۔ کسی نے مجھے یہ باتیں کیوں نہیں سکھاٸیں ۔ اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہنے لگی میں تو ساری عمر حساب کتاب ہی لگاتی رہی اور آخر میں اکیلی رہ گٸی ۔
میری بیگم اس کا ہاتھ تھامے چپ سادھے گُم سُم سی کھڑی تھی اور میں بھی کچھ نہ کہہ سکا ۔ مختصر سی خاموشی کے بعد ہم دونوں نے اسے بہت محبت اور ڈھیروں دعاٶں کیساتھ رخصت کردیا مگر وہ اپنی نم آنکھوں سے ہم دونوں میاں بیوی کو اتنی اچھی دعوت کے بعد بھی بہت ہی دکھی کرکے رخصت ہوئی ۔
*برگیڈیربشیرآراٸیں*