203

‏پاک فوج زندہ باد آرمی چیف پائندہ باد حالات کتنی تیزی سے بدلتے ہیں کوئی کہہ نہیں سکتا۔مطلع بالکل صاف ہوتا ہے۔ اچانک سے کہیں سے گھٹا اٹھتی ہے۔ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ ہریالی ہوگی جل تھل ہوگا۔ کوئی غریب مچل رہا ہوتا ہے کہ کٹیا پھر بہہ جائے گی۔

‏پاک فوج زندہ باد آرمی چیف پائندہ باد
حالات کتنی تیزی سے بدلتے ہیں کوئی کہہ نہیں سکتا۔مطلع بالکل صاف ہوتا ہے۔ اچانک سے کہیں سے گھٹا اٹھتی ہے۔ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ ہریالی ہوگی جل تھل ہوگا۔ کوئی غریب مچل رہا ہوتا ہے کہ کٹیا پھر بہہ جائے گی۔
ہاں جی show more پر آگئے؟ اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں۔ تو بات شروع ہوئی تھی پاک فوج زندہ باد سے آرمی چیف زندہ باد سے۔ بات یہیں سے آگے چلی گی۔
کیا ہم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ پاک فوج ختم ہوجائے؟ ہرگز نہیں
کیا ہم میں سے کوئی شخص چاہتا ہے کہ بھارت پاکستان پر قبضہ کرلے؟
ہرگز نہیں
کیا ہم میں سے کوئی ایک بھی شخص یہ چاہتا ہے کہ ہمارے کسی ایک بھی جوان یا افسر کو دشمن کے ہاتھوں ہلکی سی گزند بھی پہنچے؟
ہرگز نہیں
پھر یہ نفرت کے ابلتے ہوئے لاوے کہاں سے پھوٹ رہے ہیں۔ کیا یہ عوام میں از خود پیدا ہوگئی ہے؟ یا اسکو پیدا کرنے کی کچھ وجوہات ہیں؟ اگر ان وجوہات کا کوئی وجود ہے تو وہ کس کی پیدا کردہ ہیں؟ اسی پر آج مدعا ڈویلپ ہوگا۔
نواز شریف نے فوج کی مخالفت کی۔ فوج مخالف بیانیہ بھی بنایا۔ جلسے جلوس بھی کیے۔ صحافی دانشور بھی نواز شریف کے ہمنوا ہوئے۔ کیا پاک فوج کی شان میں کوئی فرق پڑا؟ کیا پاک فوج کے خلاف نفرت کے لاوے ابلے؟ نہیں۔ پاک فوج کو گھنٹہ فرق نہیں پڑا۔
عمران خان کی حکومت گرانے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ اراکین اسمبلی آبپارہ ، امریکن برٹش اسمبلیوں میں آنے جانے لگے۔ عمران خان کو سول ایجنسیاں رپورٹس دینے لگیں۔ لیکن کیا اس نے رجیم چینج کے دوران فوج کے خلاف ایک لفظ بھی کہا؟ آرمی چیف کے خلاف ایک لفظ بھی بولا؟
ہرگز نہیں۔
عمران خان نے تب بھی اپنی جدوجہد پرامن اور دائرے کے اندر رکھی۔ پھر کیا ہوا؟ پھر فوج نے تحریک انصاف کے لوگوں کے گھر چھاپے مارنے شروع کردیے۔ رجیم چینج کی اگلی رات تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے لوگوں کے گھروں میں فوج گھسی۔ لوگ اٹھائے گئے۔ انہیں ہراساں کیا گیا۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سوشل میڈیا فوج کے خلاف صف آرا ہورہا تھا۔ لیکن عمران خان نے تب بھی ایک لفظ فوج یا آرمی چیف کے خلاف نہیں کہا۔

پھر پچیس مئی کا لانگ مارچ ہوا اس پر تشدد ہوا۔ رینجرز نے شیلنگ کی۔ عمران خان نے بھی محتاط انداز میں آرمی چیف کا تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن تب تک سوشل میڈیا اور عوام ساری گیم سمجھ چکے تھے۔ نفرت کا الاو بھڑکنے والا تھا لیکن عمران خان کنٹرول کیے ہوئے تھا۔
اسکی وجہ کیا تھی؟ عمران خان فوج کا بطور ادارہ نقصان نہیں چاہتا تھا۔ عمران خان سمجھتا تھا اور سمجھتا ہے کہ موجودہ جیو پالیٹکل صورتحال میں ملک کو ایک مضبوط فوج کی ضرورت ہے۔ لیکن جوابا فوج نے کیا کیا؟
قتل عام
اغوا
برہنگی
کرنٹ لگانا
ننگا کرنا
بہن بیوی بیٹی کو ہراساں کرنا
یعنی ہر وہ برائی اور کمینگی جس کا تصور کیا جاسکتا تھا وہ فوج کی جانب سے روا رکھی گئی۔ پھر نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایک کر کے آپ کے کپڑے اترنے شروع ہوئے۔ آپ کی کرپشن ، آپ کی سمگلنگ ، آپ کی دولت ، آپ کی بددیانتی، آپ کو ٹیکس میں چھوٹ ، آپ کو تھانہ کچہری سے تحفظ سب کچھ سامنے آنے لگا۔
آج وہ وقت ہے کہ اس ملک کا ایک بھی باشعور شخص ایسا نہیں جو برائی کی جڑ آپ کو نہ سمجھتا ہو۔ آپ سے نفرت نہ کرتا ہو۔ آپ کو جلا کر راکھ نہ کردینا چاہتا ہو۔
لیکن ہم اب بھی ایسا نہیں چاہتے۔ عمران خان اب بھی ایسا نہیں چاہتا۔ لیکن آپ نے جو کچھ کیا۔ اب اسکی سزا کاٹنے کا وقت ہے۔ آپ کے پاس سافٹ پاور تھی۔ آپ نے اسکا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ آپ کی سزا یہ ہے کہ آپ سے وہ سافٹ پاور چھین کر آپ کو ایک پروفیشنل فوج بنا کر چھاونیوں میں دھکیل دیا جائے۔ آپ کے کاروباری ادارے ہاوسنگ سوسائٹیز آپ سے لے لی جائیں۔ آپ کا سیاسی و کاروباری کردار ختم کردیا جائے۔
اگر آپ اپنی مرضی سے یہ سزا قبول کرلیں یہ ڈیل لے لیں تو شاید آپ کی عزت کچھ سالوں تک بحال ہوجائے۔ کچھ تھوڑی بہت سافٹ پاور دوبارہ مل جائے۔ عوام کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوجائے۔ آرمی چیف زندہ باد یا پاک فوج زندہ باد لکھنے پر کسی کو گالیاں نہ پڑیں۔
اگر یہ سزا آپ قبول نہ کریں تو آپ صدام یا قذافی جتنے طاقتور یا اس جیسے وسائل والے نہیں ہیں۔ آپ کم جون کی طرح آئسولیٹڈ نہیں ہیں۔ آپ کا انجام بہت دردناک ہوسکتا ہے۔ جو صرف آپ کےلیے نہیں پوری قوم کےلیے عذاب بن سکتا ہے۔
پاک فوج زندہ باد آرمی چیف پائندہ باد
نوٹ
۔ عوام کیسے آپ کے بخیے ادھیڑ رہے ہیں۔ اگر اس نفرت کو جانچنے کا کوئی پیمانہ ہوتا تو پارہ تھرما میٹر پھاڑ کر نکل جاتا۔ وقت ہے۔ سبق سیکھ لیں۔ یہ نہ ہو سکھا دیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں