107

*پاکستان سے واشنگٹن کو سائفر*

*پاکستان سے واشنگٹن کو سائفر*

امریکی کانگرس کی قرارداد کی مخالفت میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں قراردا پیش ہونے سے پہلے اسی دن پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پہلے چائنہ کے سفیر سے ملاقات کی اور انہیں اعتماد میں لیا کہ ہم یہ قرارداد پیش کرنے لگے ہیں(ہن پکے پیری رہنا)
اس کے بعد امریکی سفیر سے ملاقات کی
اب امریکی سفیر کو تو امریکی واردات کا پتہ تھا نا کہ کانگرس کی قرارداد آ چکی ہے۔
ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ جب یہ ملاقات ہوئی تو امریکی سفیر اسحاق ڈار صاحب کی طرف دیکھ کر طنزاً مسکرائے، وہ توقع کر رہے تھے کہ شاید یہ کوئی منت ترلا کریں گے کہ جی دیکھو نا آپ لوگوں نے ہمارے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔
لیکن!

ایسا ہوا نہی،
جواب میں اسحاق ڈار ان سے بھی زیادہ کھل کر مسکرائے اور ہنستے ہوئے جواب میں امریکی سفیر کو کہا کہ،

*مسٹر ایمبیسیڈر آج شام تک آپ امریکی حکومت کو ایک سائفر لکھ کر بھیج سکیں گے*
جس پر امریکی سفیر حیران و پریشان رہ گئے۔

لیکن بعد میں جب مذمتی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش ہو کر پاس ہو گئی تو اس وقت یقیناً سفیر صاحب کو اسحاق ڈار کی ہنسی کا مطلب یقیناً سمجھ آ گیا ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں