October 30, 2026

کچھ نہیں ہوا۔۔۔؟ ( سپیڈ بریکر ،میاں حبیب ) کیا اسلام آباد میں کچھ ہوا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا پھر نہ جانے کیوں سڑکیں دھو کر صاف کر دی گئی ہیں سڑکوں پر پڑا کچرا راتوں رات غائب کر دیا گیا ہے 200 سے زائد لش پش گاڑیاں جو اسلام آباد پولیس نے قبضہ میں لی ہیں وہ چیخ چیخ کر

IMG-20241120-WA0205(2)

کچھ نہیں ہوا۔۔۔؟ ( سپیڈ بریکر ،میاں حبیب ) کیا اسلام آباد میں کچھ ہوا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا پھر نہ جانے کیوں سڑکیں دھو کر صاف کر دی گئی ہیں سڑکوں پر پڑا کچرا راتوں رات غائب کر دیا گیا ہے 200 سے زائد لش پش گاڑیاں جو اسلام آباد پولیس نے قبضہ میں لی ہیں وہ چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوا کچھ بھی تو نہیں ہوا لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں وہ گاڑیاں اپنی جگہ شکوہ کر رہی ہیں کہ ہمارے مالکان نے ہمارے ساتھ بڑی بے وفائی کی ہے ہمیں تنہا چھوڑ کر نہ جانے کیوں بھاگ گئے ہیں وہ تو بھلا ہو اسلام آباد کی رحم دل پولیس کا جنھوں نے ہمیں تحفظ دیا ہے ورنہ نہ جانے بلوائی ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتے شکر ہے ہم کنٹینر کی طرح جلنے سے بچ گئیں اس بچاو پر ہم اسلام آباد پولیس کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے اب ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور یقین ہے اب یہ محفوظ ہاتھ ہمیں دوبارہ مشقت کے لیے سڑکوں پر نہیں آنے دیں گے اب زندگی کے باقی دن یہیں گزریں گے کنٹینر کو آگ سے یاد آیا پنجاب پولیس کی اکثر کارروائیوں میں ایسے ہی ہوتا ہے ملزمان پولیس سے مقابلے میں غلطی سے اپنے ہی بندے کو فائرنگ کرکے مار کر فرار ہو جاتے ہیں جس میں پولیس خوش قسمتی سے محفوظ رہتی ہے اسی طرح اکثر وبیشتر پولیس جب بھی کسی ملزم کو نشاندھی کے لیے یا ریکوری کے لیے لے کر جا رہی ہوتی ہے تو ملزم کے ساتھی اسے چھڑوانے کے لیے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیتے ہیں اور وہ اتنے اناڑی ہوتے ہیں کہ ان کی گولیوں سے ان کا اپنا ہی ساتھی مارا جاتا ہے نہ حملہ آوروں کو کچھ ہوتا ہے نہ پولیس کو کچھ ہوتا ہے حملہ آور بھی بھاگ جاتے ہیں اور پولیس والے بھی کہتے ہیں خس کس جہاں پاک اس کی ایسے ہی آئی ہوئی تھی اسلام آباد کو بلوائیوں سے خالی کروانے والی جو بھی فورس تھی اس نے کمال حکمت سے بلوائیوں کو منتشر کرکے پرامن طریقے سے گھروں کو واپس بھجوا دیا ہے جو نہیں جاسکے انھیں سرکاری مہمان بنا لیا گیا ہے بلوائی اتنے اناڑی تھے کہ انھیں منتشر ہونے کا بھی سلیقہ نہیں آتا تھا بھاگتے ہوئے بھگدڑ میں ایک دوسرے سے ٹکرا کر زخمی ہوتے رہے لیکن جب کسی سے پوچھا جاتاہے اسلام آباد میں کیا ہوا تھا تو جواب آتا ہے کچھ نہیں ہوا کچھ ہوا ہے تو ثبوت لائیں وہ تو غیبی مدد تھی اللہ کی طرف سے اندھیرا چھا گیا اور احتجاجیوں کے دلوں پر ایسا خوف چھا گیا کہ اسی خوف کے مارے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ان کے اوسان خطا ہو گئے اگر کوئی زخمی ہوا ہو گا تو وہ آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے ہو سکتا ہے رحمدل فورس نے اتنی مہارت کے ساتھ خونخوار لوگوں سے اسلام آباد خالی کروایا کہ کسی کو خراش تک نہیں آئی سب جانیں محفوظ رہیں اور اللہ کا شکر ہے پاکستان بچا لیا گیا ہے اب فتنہ فساد ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا اب خوشحالی اور ترقی کا دور شروع ہوا چاہتا ہے لیکن نہ جانے اتنی بڑی کامیابی کے بعد بھی کچھ لوگوں کی باڈی لینگوئج ان کا ساتھ نہیں دے رہی سب کچھ ٹھیک ہے تو اسلام آباد کی فضا کیوں افسردہ ہے اسلام آباد کے شہریوں کے چہروں پر کس قسم کا کرب ہے اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی ماحول کیوں اداس ہے اسلام آباد کی ہواؤں میں عجیب سی سمیل کیوں آ رہی ہے نہ جانے اسلام آباد کے ہسپتالوں کا ماحول بھی روٹین والا نہیں اسلام آباد کے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈیکل سٹاف ودیگر ملازمین کے چہرے کیوں سپاٹ دکھائی دیتے ہیں ہسپتالوں پر خوف کے سائے کیوں ہیں کچھ بھی تو نہیں ہوا لگاتار ڈیوٹی کی جائے تو چہرے فریش کیسے رہ سکتے ہیں ایسے ہی شکی مزاج لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ہوا ریاست ہمیشہ سچ بولتی ہے اور رعایا کا فرض بنتا ہے کہ وہ ریاست کے ہر بیانیے کو آنکھیں بند کرکے سچ تسلیم کرے اگر ریاست کہہ رہی ہے کہ کچھ نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کچھ نہیں ہوا جو لوگ کریدنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں وہ ادراک نہیں رکھتے انھیں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت کا اندازہ نہیں دراصل یہ جھلے لوگ ہیں جب کچھ نہیں ہوا تو کیوں الٹے سیدھے سوال چھوڑ دیتے ہو جب کہہ دیا کہ کچھ نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کچھ نہیں ہوا شاید ان کو نظر نہیں آتا کہ اسلام آباد کی صفائی کے ساتھ ہی سٹاک مارکیٹ چڑھ گئی ہے ایک لاکھ پوائنٹس کی حد عبور ہو چکی ہے ایک لاکھ پوائنٹس کی حد عبور کرنے کا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا یہ سب لوگوں کے اعتماد کا مظہر ہے ذرا آنکھیں کھول کر دیکھیں ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہے۔ جب کچھ ہوا ہی نہیں تو وزیر اعظم کی جانب سے ٹاسک فورس کس لیے ۔؟ دراصل یہ ٹاسک فورس ان لوگوں کے لیے ہے جو کہتے ہیں بڑا کچھ ہوا ہے یہ ان لوگوں کی نشاندھی کے لیے بنائی گئی ہے جو جھوٹا پروپیگینڈا کر رہے ہیں جو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ریاست اور سیکورٹی فورسز کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کرکے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں پہلے تو شاید کچھ نہیں ہوا اب بہت کچھ ہونے جا رہا ہے شرطیہ نئے پرنٹوں کے ساتھ فلم تیار ہو رہی ہے بس انتظار کریں اور آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا