کینسر ایک بیماری نہیں، ایک خاندان کی آزمائش مریض کا درد، گھر کی تباہی بھی ہے ۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
کینسر ایک بیماری نہیں، ایک خاندان کی آزمائش مریض کا درد، گھر کی تباہی بھی ہے ۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرار جگوال
اگر آپ یہ مضمون صرف پڑھ رہے ہیں عملی طور پر اس مرض سے واقف نہیں ہیں تو آپ بہت خوش قسمت ہیں ۔ کچھ خبریں انسان کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ ایک وہ زندگی جو اس خبر سے پہلے گزری ہوتی ہے، اور دوسری وہ زندگی جو اس خبر کے بعد شروع ہوتی ہے۔ کینسر کی تشخیص بھی ایسی ہی ایک خبر ہے۔ یہ صرف ڈاکٹر کے کمرے میں بیٹھے کسی مریض کو سنائی جانے والی طبی اطلاع نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات ایک پورے خاندان کی دنیا بدل دینے والا لمحہ ہوتی ہے۔ جس گھر میں کچھ دیر پہلے بچوں کی ہنسی سنائی دے رہی ہوتی ہے، وہاں اچانک خاموشی چھا جاتی ہے۔ جس خاندان کے افراد مستقبل کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں، وہ علاج کے اخراجات، ہسپتالوں کے چکر، ٹیسٹوں کی رپورٹس، ادویات کی دستیابی اور زندگی کی غیر یقینی صورتِ حال پر غور کرنے لگتے ہیں۔ کینسر کا نام سنتے ہی بہت سے لوگوں کے ذہن میں موت کا خیال آتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کینسر ایک ہی بیماری نہیں بلکہ بیماریوں کا ایک وسیع مجموعہ ہے۔ اس کی متعدد اقسام قابلِ علاج ہیں، بہت سے مریض علاج کے بعد طویل عرصے تک زندگی گزارتے ہیں، اور بعض اقسام میں جدید طریقۂ علاج نے کامیابی کے امکانات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ تاہم علاج کی کامیابی کا انحصار کینسر کی قسم، اس کے مرحلے، مریض کی مجموعی صحت، دستیاب طبی سہولیات اور علاج تک بروقت رسائی پر ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے اگر ایک بیماری کے علاج کے لیے امید، مہارت، ادویات اور جدید طبی سہولیات درکار ہیں، تو کیا ہر شہری کو یہ سہولیات میسر ہیں؟ کیا غریب اور امیر مریض کے لیے علاج کے دروازے یکساں طور پر کھلے ہیں؟ کیا کسی ماں کی زندگی بچانے کا امکان اس کے خاندان کی مالی حیثیت سے طے ہونا چاہیے؟ کیا ایک باپ کو اپنے بچے کے علاج اور باقی بچوں کی بنیادی ضروریات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہونا چاہیے؟ کیا کسی خاندان کے پاس دولت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے مریض کی امید بھی کم ہو جانی چاہیے؟ یہ سوال صرف طب کے نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف، ریاستی ذمہ داری اور معاشرتی ضمیر کے سوالات ہیں۔ کینسر کا مریض اپنی جسمانی تکلیف کے ساتھ ایک نفسیاتی جنگ بھی لڑتا ہے۔ اسے بیماری کے بارے میں خوف لاحق ہوتا ہے، علاج کے نتائج کی فکر ہوتی ہے، جسمانی کمزوری اور درد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور اسے اپنے مستقبل کے بارے میں ایسے سوالات پریشان کرتے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس یقینی طور پر موجود نہیں ہوتا۔ لیکن مریض کی اس جنگ کے ساتھ ایک دوسری جنگ بھی چل رہی ہوتی ہے اس کے گھر والوں کی جنگ ماں اپنے بچے کے سامنے حوصلہ رکھتی ہے، مگر تنہائی میں رو لیتی ہے۔ باپ اپنے بیمار بیٹے یا بیٹی کو تسلی دیتا ہے، مگر اپنے اخراجات کا حساب کرتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ بیوی اپنے شوہر کے لیے دعا کرتی ہے، لیکن اس کے ذہن میں بچوں کی تعلیم، گھر کے کرائے اور روزمرہ ضروریات کے سوال بھی گردش کرتے رہتے ہیں۔ شوہر اپنی بیمار شریکِ حیات کے سامنے مضبوط بننے کی کوشش کرتا ہے، لیکن ہسپتال کے راہداری میں بیٹھ کر کبھی کبھی اس کا اپنا حوصلہ بھی جواب دینے لگتا ہے۔ یہ وہ درد ہے جسے صرف مریض کی رپورٹ پڑھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے لیے اس خاندان کی زندگی کو دیکھنا پڑتا ہے جس کی خوشیاں ایک بیماری کے گرد سمٹ کر رہ گئی ہوں۔ ہر مریض کی زندگی میں بیماری سے پہلے ایک پوری دنیا ہوتی ہے۔ کسی کے چھوٹے چھوٹے خواب ہوتے ہیں، کسی کی بیٹی کی شادی کی تیاریاں جاری ہوتی ہیں، کوئی اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے محنت کر رہا ہوتا ہے، کوئی اپنی دکان کو بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہوتا ہے، کوئی گھر تعمیر کر رہا ہوتا ہے، اور کوئی اپنی عمر کے آخری حصے میں اپنے خاندان کے ساتھ پُرسکون زندگی گزارنے کی امید رکھتا ہے۔ پھر بیماری سامنے آتی ہے۔ ابتدا میں شاید کسی معمولی درد، غیر معمولی سوجن، مسلسل کھانسی، وزن میں کمی، جسم سے غیر معمولی خون آنے، نگلنے میں دشواری یا کسی دوسرے مسئلے کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ بعض افراد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان علامات کے لیے کس ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بعض مالی مشکلات کی وجہ سے ٹیسٹ نہیں کرواتے، اور بعض لوگ خوف کے باعث تشخیص سے گریز کرتے ہیں۔ کبھی کسی علاقے میں ماہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتا، کبھی ضروری ٹیسٹ کی سہولت دور شہر میں ہوتی ہے، اور کبھی مریض کو مختلف طبی مراکز کے درمیان سفر کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر جب تشخیص ہوتی ہے تو مریض اور اس کے خاندان کے سامنے ایک نئی حقیقت آتی ہے۔ اب انہیں صرف بیماری سے نہیں نمٹنا، بلکہ علاج کے پورے نظام کو سمجھنا بھی ہوتا ہے۔کون سا ڈاکٹر علاج کرے گا؟ کیا مزید ٹیسٹ درکار ہیں؟ کینسر کس مرحلے میں ہے؟ سرجری کی ضرورت ہوگی یا کیموتھراپی کی؟ ریڈیوتھراپی کہاں دستیاب ہے؟ کیا مریض کو بڑے شہر منتقل کرنا ہوگا؟ کتنے دن وہاں رہنا پڑے گا؟ علاج کی مجموعی لاگت کتنی ہوگی؟ ادویات سرکاری ہسپتال سے ملیں گی یا بازار سے خریدنی ہوں گی؟ کیا خاندان کو مالی امداد مل سکتی ہے؟ اگر علاج کے دوران مریض کی حالت خراب ہو جائے تو کس مرکز سے رابطہ کیا جائے؟ یہ سوالات ایک ہی دن میں پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کے جوابات حاصل کرنے میں دن، ہفتے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ایک تعلیم یافتہ اور مالی طور پر مستحکم خاندان کے لیے بھی یہ مرحلہ دشوار ہو سکتا ہے۔ لیکن اس خاندان کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں جس کی آمدنی محدود ہو، گھر میں کمانے والا صرف ایک فرد ہو، پہلے سے قرض موجود ہو، یا علاج کے لیے دور دراز علاقے سے سفر کرنا پڑتا ہو یہاں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مریض کوئی اعداد و شمار کا خانہ نہیں، بلکہ احساسات رکھنے والا انسان ہے۔ اسے عزت، توجہ، درست معلومات اور علاج کے قابلِ اعتماد راستے کی ضرورت ہے۔ اسے یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ بیماری کے ساتھ ساتھ اب اسے اپنی غربت کی سزا بھی بھگتنا ہوگی۔کینسر کی ہر قسم اور ہر مرحلے میں درد کی شدت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض مریض ابتدائی مرحلے میں زیادہ جسمانی تکلیف محسوس نہیں کرتے، جبکہ بعض کو بیماری یا علاج کے باعث شدید درد، تھکن، متلی، بھوک میں کمی، نیند کی خرابی، جسمانی کمزوری یا دوسرے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، سرجری اور دیگر علاج کے اپنے ممکنہ مضر اثرات بھی ہوتے ہیں، جن کی نوعیت مریض اور علاج کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔ لیکن جسمانی تکلیف کے ساتھ ذہنی اذیت بھی کم اہم نہیں۔ مریض سوچتا ہے کہ آیا وہ صحت یاب ہو سکے گا؟ کیا وہ دوبارہ کام کر سکے گا؟ کیا اس کے بچے اس کے بغیر زندگی گزار سکیں گے؟ کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر پائے گا؟ کیا علاج کے اخراجات اس کے خاندان کو قرض میں ڈبو دیں گے؟ کیا بیماری کی وجہ سے اس کے عزیز اس سے دور ہو جائیں گے؟ اور اگر وہ صحت یاب ہو گیا تو کیا اس کی زندگی پہلے جیسی ہو سکے گی؟ یہ سوالات مریض کے ذہن پر بھاری بوجھ بن سکتے ہیں۔ بعض مریض اپنی پریشانی گھر والوں سے چھپاتے ہیں تاکہ انہیں مزید غم نہ ہو۔ بعض اپنے درد کے باوجود مسکراتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے بچوں کو خوف زدہ نہیں کرنا چاہتے۔ بعض افراد مدد مانگنے سے شرماتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنی خودداری عزیز ہوتی ہے۔ایسے مریض کو محض یہ کہہ دینا کہ مضبوط رہو، کافی نہیں۔ اسے عملی مدد، ہمدردی، درست طبی رہنمائی، مناسب درد کا علاج اور ضرورت کے مطابق نفسیاتی معاونت بھی درکار ہوتی ہے۔مریض کی ہمت قابلِ احترام ہے، لیکن اسے ہر وقت بہادر دکھائی دینے پر مجبور کرنا بھی درست نہیں۔ اسے رونے، ڈرنے، سوال کرنے اور اپنی کمزوری کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ بیماری انسان سے اس کے جذبات کا حق نہیں چھین لیتی۔ ایک ماں کی بیماری پورے خاندان کے معمولات بدل سکتی ہے۔ وہ ماں جو گھر کے ہر فرد کی پسند، ضرورت اور پریشانی کو جانتی ہے، اچانک خود دیکھ بھال کی محتاج ہو جاتی ہے۔ جو عورت بچوں کو وقت پر کھانا دیتی تھی، ان کے کپڑے سنبھالتی تھی، گھر کے معاملات چلاتی تھی اور ہر پریشانی میں خاندان کے لیے سہارا بنتی تھی، اب اسے اپنی دواؤں، آرام، ٹیسٹوں اور علاج کے لیے دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اگر ماں کینسر میں مبتلا ہو تو بچے اکثر اس کی بیماری کو اپنی عمر اور سمجھ کے مطابق محسوس کرتے ہیں۔ چھوٹا بچہ شاید یہ نہ سمجھ سکے کہ اس کی ماں کو کون سی بیماری ہے، لیکن وہ یہ ضرور محسوس کرتا ہے کہ ماں پہلے کی طرح اس کے ساتھ نہیں کھیل رہی، اسے گود میں نہیں اٹھا رہی یا کئی دنوں سے ہسپتال میں ہے۔ بڑا بچہ اپنی تعلیم کے ساتھ گھر کی ذمہ داریاں اٹھانے لگتا ہے۔ کبھی بیٹی اپنی ماں کی دیکھ بھال کے لیے اپنی تعلیم یا ملازمت سے وقت نکالتی ہے، کبھی بیٹا گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے لیے اپنی خواہشات کو مؤخر کرتا ہے بیمار ماں کو اپنی تکلیف کے ساتھ اپنے بچوں کی فکر بھی ستاتی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ اگر علاج طویل ہوا تو بچوں کی تعلیم کیسے جاری رہے گی؟ گھر کے معاملات کون سنبھالے گا؟ اگر اس کی جسمانی طاقت کم ہو گئی تو گھر کی ذمہ داریاں کیسے پوری ہوں گی؟ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہوتی ہے، حالانکہ اس وقت خود اسے سب سے زیادہ آرام اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خاندان کی مالی حالت کمزور ہو تو یہ صورتِ حال مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ شوہر کو ملازمت سے چھٹی لینی پڑ سکتی ہے، کسی رشتہ دار کو بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا پڑ سکتی ہے، اور خاندان کو آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ صحافت اور عوامی تحریر معاشرے میں ان مسائل کو سامنے لانے کا اہم ذریعہ ہیں جن پر عام حالات میں کم گفتگو ہوتی ہے کینسر کے مریضوں کے حالات کو بیان کرتے ہوئے ضروری ہے کہ ان کے دکھ کو محض سنسنی خیز خبر نہ بنایا جائے۔ ذمہ دارانہ تحریر میں مریضوں کے حقیقی تجربات، خاندانوں کی مشکلات، دستیاب طبی معلومات، سرکاری سہولیات اور اصلاح کی تجاویز کو مناسب توازن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔کسی خاص ہسپتال، افسر یا ادارے کے بارے میں الزام لگانے سے پہلے شواہد اور متعلقہ فریق کا مؤقف حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح مریضوں کی ذاتی معلومات شائع کرتے وقت ان کی رضامندی اور رازداری کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ عوامی آگاہی کے لیے ایسی تحریریں تیار کی جا سکتی ہیں جو مریضوں کو طبی مشورہ لینے کی ترغیب دیں، مستند ذرائع کی طرف رہنمائی کریں اور مالی امداد کے دستیاب راستوں کے بارے میں قابلِ تصدیق معلومات فراہم کریں۔اس مقصد کے لیے مریضوں، طبی ماہرین، سماجی کارکنوں، حکومتی نمائندوں اور فلاحی اداروں کے درمیان مکالمہ بھی ضروری ہے۔ مختلف فریقوں کے تجربات سامنے آئیں تو مسائل کی زیادہ واضح تصویر سامنے آ سکتی ہے۔کینسر کا مریض اکثر ایسے مرحلے سے گزرتا ہے جہاں اسے صرف علاج نہیں، بلکہ ساتھ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک فون کال، ہسپتال تک سفر میں مدد، دوا حاصل کرنے میں تعاون، گھر کے اخراجات میں مناسب حصہ، یا مریض کی بات توجہ سے سننا بھی اس کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ لیکن مدد کرتے وقت اس کی خودداری کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسے اپنی بیماری کے بارے میں بات کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی اس کی حالت کا دوسروں سے غیر ضروری موازنہ کرنا چاہیے۔ ہر مریض کے تجربات مختلف ہوتے ہیں۔کسی مریض کو یہ کہہ کر خاموش نہ کرایا جائے کہ دوسروں کی حالت اس سے زیادہ خراب ہے۔ اس کی تکلیف اپنی جگہ حقیقی ہے۔ اسی طرح کسی مریض کو یہ احساس نہ دلایا جائے کہ اگر وہ زیادہ ہمت کرے تو بیماری لازماً ختم ہو جائے گی۔ ہمت جذباتی سہارا دے سکتی ہے، لیکن کینسر کا طبی نتیجہ صرف سوچ یا قوتِ ارادی سے طے نہیں ہوتا۔معاشرے کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد کمزور ہو، وسائل سے محروم ہو اور اسے مدد کی ضرورت ہو۔ اگر ہم اس وقت اس کی عزت، حقوق اور ضرورتوں کا احترام کرتے ہیں تو ہم انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں پلیز مریض کو تنہا نہ چھوڑا جائے، علاج کو استطاعت کی قید سے حتی الامکان آزاد کیا جائے، اور حکومت، معاشرے اور طبی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ایسا نظام بنایا جائے جس میں ہر انسان کو باوقار زندگی اور مناسب علاج کا حقیقی موقع مل سکے۔