فوج کو ستر سال میں اگر کوئی جینوئن اور پروفیشنل آرمی چیف ملا تو اس کا نام جنرل آصف نواز تھا۔ کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر نوازشریف کے پہلے دور میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو آصف نواز اور نوازشریف کے درمیان اختلافات شروع ہوئے۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ آصف نواز اپنی رہائش گاہ کے نزدیک جاگنگ کرتا ہوا ہارٹ اٹیک کی وجہ سے وفات پا گیا۔
آصف نواز کی بیوہ نے اپنے شوہر کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جسے آرمی نے رد کردیا۔
پھر آصف نواز کی بیوہ نے اپنے شوہر کا ٹوتھ برش کسی طرح اپنی تحویل میں لیا اور امریکہ کی لیبارٹری سے فرانزک کیلئے بھجوا دیا۔ لیب رپورٹ آئی جس کے مطابق ٹوتھ برش پر آرسینک زہر لگا ہوا تھا جس سے کوئی بھی انسان ہارٹ اٹیک سے مرجاتا ہے۔
اس رپورٹ کے بعد حکومت کیلئے کوئی چارہ نہ رہا چنانچہ آصف نواز کی ڈیڈباڈی کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا جس میں آرسینک زہر کی تصدیق ہوگئی۔ چونکہ پوسٹ مارٹم میں کافی دیر ہوچکی تھی اس لئے تعین سے کچھ کہنا مشکل تھا۔ ڈاکٹرز نے یہ کہہ کر کیس کلوز کردیا کہ آرسینک زہر کبھی کبھی ایک خاص قسم کی مچھلی کھانے سے بھی ہوسکتا ہے۔
آصف نواز کی موت کے بعد کئی روز تک بینظیر کی طرف سے اخبارات میں اشتہارات شائع ہوتے رہے جن میں آصف نواز کی تصویر لگی ہوتی تھی اور اوپر شعر لکھا ہوتا تھا
جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستین کا۔
پھر بینظیر کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا گیا کہ ہم نوازشریف کی حکومت گرا دیں گے بشرطیکہ تم آصف نواز کے معاملے پر خاموشی اختیار کرو۔ بینظیر نے ایسا ہی کیا۔
جب کبھی بھی ان رازوں سے پردہ اٹھے گا، آپ کو ڈسپلن اور نظم و ضبط نامی لالی پوپ سے نفرت ہوجائے گی
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) پاکستان ہلالِ احمر پنجاب کے چیئرمین میاں محمد حنیف (ستارہ ء امتیاز
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ڈی پی او خوشاب ڈاکٹر عمارہ شیرازی کی ہدایت پر خوشاب پولیس کی
عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی یومِ عاشور سے قبل 9 محرم الحرام کے موقع پر سامارو
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ڈپٹی کمشنر خوشاب ڈاکٹر جہانزیب حُسین لابر نے 9 محرم الحرام
وینزویلا میں یکے بعد دیگرے زلزلے کے شدید جھٹکے، بڑے پیمانے پر تباہی