88

جسٹس حسن اظہر رضوی الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوالات کررہے ہیں،اس کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہر دے رہے ہیں

جسٹس حسن اظہر رضوی الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوالات کررہے ہیں،اس کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہر دے رہے ہیں
جسٹس حسن اظہر رضوی الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوالات کررہے ہیں،اس کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہر دے رہے ہیں
آپ اور میں ایک پیج پر ہیں،الیکشن کمیشن کے وکیل کا جسٹس جمال خان مندوخیل سے مکالمہ
یہ پیج پھاڑ دیں،ہم ایک پیج پر نہیں ہونا چاہتے،جسٹس جمال خان مندوخیل کا جواب
قانون واضح ہے کہ اگر پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لگا ہو تو وہ پارٹی کا امیدوار ہوگا ورنہ آزاد امیدوار تصور کیا جائے گا،جسٹس جمال خان مندوخیل
(الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفیکیٹ دینے والوں کو بھی آزاد قرار دیا)
یہی سوال ججز پوچھ رہے ہیں کہ کس قانون کے تحت ان کو آزاد قرار دیا گیا؟؟؟ الیکشن کمیشن کے وکیل آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کر لیں گے،پھر پی ٹی آئی کی دو درخواستوں کا معاملہ زیر بحث آئے گا
جسٹس منیب نے قاضی کی دھلائی کردی۔۔۔۔
پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا توقاضی نے بلا چھین لیا…
‏سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت شروع، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے
‏پشاور میں الیکشن سے قبل ریلی نکالنے پر درج مقدمے میں نامزد کارکن بری،جوڈیشل مجسٹریٹ نے پی ٹی آئی کے 140 کارکنوں کو بری کردیا۔۔۔!!!
‏الیکشن کمیشن کے وکیل آدھے گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کر لیں گے،پھر پی ٹی آئی کی دو درخواستوں کا معاملہ زیر بحث آئے گا
*‏پی ٹی آئی کا ڈیکلریشن اور سرٹیفیکیٹ دینے کے باوجود ان امیدواروں کو آزاد کیوں اور کیسے قرار دیا گیا؟؟؟ججز نے پھر سوال اٹھا دیا*
‏قانون واضح ہے کہ اگر پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لگا ہو تو وہ پارٹی کا امیدوار ہوگا ورنہ آزاد امیدوار تصور کیا جائے گا،جسٹس جمال خان مندوخیل
(الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا سرٹیفیکیٹ دینے والوں کو بھی آزاد قرار دیا)
یہی سوال ججز پوچھ رہے ہیں کہ کس قانون کے تحت ان کو آزاد قرار دیا گیا؟؟؟؟
‏الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر علی خان کے بحیثیت چیئرمین سائن شدہ فارم 66 اور پارٹی وابستگی سرٹیفکیٹ پر اعتراض اٹھا دیا کہا کہ تب پارٹی کا قانونی طور پر تنظیمی ڈھانچہ ہی رجسٹرڈ نہیں تھا
*‏آپ اور میں ایک پیج پر ہیں،الیکشن کمیشن کے وکیل کا جسٹس جمال خان مندوخیل سے مکالمہ*
*یہ پیج پھاڑ دیں،ہم ایک پیج پر نہیں ہونا چاہتے،جسٹس جمال خان مندوخیل کا جواب–*
‏صاحبزادہ حامد رضا نے کاغذات نامزدگی میں لکھا کہ وہ سنی اتحاد کونسل کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو 30 دسمبر کو آراو نے ان کے وہ کاغذات نامزدگی قبول کر لیے ،جسٹس حسن اظہر رضوی
‏الیکشن کمیشن نے صاحبزادہ حامد رضا کو آزاد امیدوار قرار دینے سے پہلے ان سے وضاحت طلب کی تھی یا الیکشن کمیشن نے خود ہی ان کو آزاد قرار دے دیا؟جسٹس شاہد وحید کا سوال
غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل

کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا، وکیل

اصل چیز پارٹی ٹکٹ ہے جو نہ ہونے پر امیدوار آزاد تصور ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل
‏الیکشن کمیشن کے وکیل نے آج دلائل میں پی ٹی آئی انٹر پارٹی الیکشن کو جواز بنا کر عملا” اب عدالت کیلئے ناممکن بنا دیا ہے کہ پہلے انٹر پارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظر ثانی کیس کا فیصلہ کئے بغیر مخصوص نشستوں کے کیس کو نمٹایا جائے
7 فروری کے درمیان پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کروا لیتی تو وہ بلے پر الیکشن لڑ سکتے تھے،وکیل الیکشن کمیشن
ججز کا اس بلنڈر پر فوری ری ایکشن ،الیکشن کمیشن کے وکیل کی آئیں بائیں شائیں
‏الیکشن کمیشن کے وکیل کے پاس ججز کے کسی سوال کا جواب نہیں،پھر بھی الیکشن کمیشن یہ کیس جیت جائے گا؟؟؟؟

‏جسٹس منیب اختر کا چھکا۔۔۔۔
قاضی فائز عیسیٰ نے پھر جھوٹ بولا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے تھے،
جس پر جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور بلا چھین لیا
‏قاضی فائز عیسیٰ ایک بار پھر بلے والے فیصلے کی وضاحتیں دے رہے ہیں
‏الیکشن کمیشن کا فیصلہ جب سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تو اس کے بعد اس طرح کی بات کرنا کہ یہ انٹرا پراٹی الیکشن کرا لیتے تو پارٹی کے طور پر الیکشن لڑ سکتے تھے،یہ کہنا نا مناسب ہے،جسٹس منیب اختر
‏قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا
‏الیکشن کمیشن 13 جنوری (بلے والے فیصلے) کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی’
‏جنہوں نے پی ٹی آئی کا ڈیکلریشن اور پارٹی سرٹیفیکیٹ دیا،ان کو آزاد کیسے قرار دیا گیا؟؟؟جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی کا ایک بار پھر الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال
‏الیکشن کمیشن کا وکیل ججز کے سوالات کا خاطر خواہ جواب نہ دے سکے کہ پی ٹی آئی کا ڈیکلریشن اور پارٹی سرٹیفیکیٹ دینے والوں کو کس قانون کے تحت آزاد قرار دیا گیا؟؟؟
‏الیکشن کمیشن کا وکیل قاضی فائز عیسیٰ ،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امین الدین خان کی طرف دیکھ رہا ہے،لیکن اس پوائنٹ پر وہ بھی اسے ریسکیو نہیں کررہے ‏الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں،جسٹس اطہر من اللہ
‏الیکشن کمیشن نے ایک ان لسٹڈ پارٹی پی ٹی آئی کو الیکشن سے ہی باہر کردیا،جسٹس اطہر من اللہ

‏جسٹس عائشہ ملک نے باپ پارٹی کو مخصوص نشستیں دینے کا سوال اٹھا دیا
‏الیکشن کمیشن نے اتنے بڑے فیصلے کرنے سے پہلے کوئی میٹنگ کیوں نہ کی؟تحریری فیصلے کیوں نہیں کیے؟؟؟ماضی میں باپ پارٹی کو دی گئی نشستوں سے مختلف فیصلہ کیا گیا تو اس کی وجوہات کیوں نہیں دی گئیں؟؟؟؟جسٹس عائشہ ملک
‏باپ پارٹی کو لسٹ کے بغیر مخصوص سیٹیں ملنے کا معاملہ
جسٹس عائشہ ملک کا الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال
کیا الیکشن کمیشن اس فیصلے کو زہر بحث لایا اس پر کوئی میٹنگ ہوئی؟
اس پر کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ وکیل الیکشن کمیشن
‏جسٹس عائشہ ملک کے سوال پر الیکشن کمیشن کے وکیل کے پاس کوئی جواب نہیں بنا تو قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عائشہ ملک کو جواب دیا۔۔۔۔جانبداری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے
‏آپ آئینی ادارہ ہیں آپ کے اسٹینڈز کیوں مختلف ہیں؟ آپکے فیصلوں میں مستقل مزاجی کیوں نہیں؟
جسٹس عائشہ ملک ‏جسٹس جمال خان مندوخیل نے بیرسٹر گوہر کو روسٹرم پر بلا لیا
‏اہم ریمارکس!
بلے کا انتخابی نشان واپس ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے کوئی وضاحت نہیں کی، الیکشن کمیشن نے تب نہیں بتایا کہ پی ٹی آئی انتخابات لڑ سکتی ہے یا نہیں، جب چیزیں واضح ہوئیں تو الیکشن کمیشن کہتا ہے ہم نے کچھ نہیں کیا، الیکشن کمیشن پر لازم تھا کہ انتخابات سے قبل ساری باتوں کی وضاحت کرتا،جسٹس منیب اختر
یہ غیر مناسب بات ہے کہ پی ٹی آئی کو کچھ پتہ نہیں تھا، پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات نہ کرا کے خود مسائل پیدا کیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی
‏،الیکشن کمیشن نے عدالت سے جھوٹ بولا،بیرسٹر گوہر کا بڑا انکشاف
‏الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو مکمل ریکارڈ نہیں دیا،بیرسٹر گوہر کا انکشاف
‏بیرسٹر گوہر کے روسٹرم پر آنے کے بعد سے قاضی فائز عیسیٰ کی باڈی لینگوئج شدید ڈسٹرب۔۔۔۔جسٹس منصور علی شاہ کو کچھ کہتے رہے
‏فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ نہیں آ سکے،قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کیس کل تک چلا تو فاروق ایچ نائیک کو سن لیں گے ورنہ ان کی قمست
‏کیا گوہر خان موجود ہیں؟گوہر آپ آ جائیں ،گوہر صاحب پہلی سماعت پر پوچھا تھا کہ پارٹی سرٹیفکیٹ اور ڈیکلریشن جمع کرائے ،آپ نے ہاں میں جواب دیے تھے،جسٹس جمال مندوخیل

بیرسٹر گوہر خان روسٹرم پر آ گئے،ہر امیدوار چار چار فارم جمع کرا جا سکتا،ہم نے دو دو کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے،الیکشن کمیشن نے آپ کو صرف ایک فارم کا ریکارڈ دیا ہے،آپ فارم 31 منگوا لیں،بیرسٹر ‏مولانا فضل الرحمن کے وکیل کی ہچکچاہٹ لیکن آخر میں کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے دلائل کو Adopt کررہے ہیں،
ججز نے پوچھا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ٹھیک کیا؟؟؟؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تو مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس میں کچھ اور کہہ رہے تھے اور دبارہ الیکشن کا مطالبہ کررہے تھے
‏الیکشن کمیشن نے ہمیں آزاد امیدواروں کے طور پر 4 بجے ہی نشان الاٹ کر دیے تھے جبکہ فیصلہ رات 11 بجے آیا تھا ۔ بیرسٹر گوہر
‏سُپریم کورٹ کے فیصلے نے کسی جماعت کی رجسٹریشن ختم نہیں کی تھی، غلط تشریح کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا پورا موقف خراب ہوجاتا ہے، جسٹس اطہر من اللہ۔۔۔!!!
الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں،جسٹس اطہر من اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں