October 4, 2026

آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف

IMG-20241110-WA0923(1)

آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف

قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام نوآموز لکھاریوں اور شعبہ ء صحافت سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کیلئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔جس میں ملک کے نامور لکھاریوں،صحافیوں‘ادیبوں، شاعروں ،، اساتذہ کرام ،اداکاروں اور ڈاکٹرز سمیت دیگر شعبہ ہاءےزندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سینئر صحافی و کالم نگار ارشاد عارف، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، معروف اینکر پرسن ریحام خان‘ لیجنڈ اداکارہ عذرا آفتاب اور میگھا جی‘لیجنڈ اداکار غلام محی الدین‘ بہترین مصنف و ادکار افتخار حسین افی‘موٹیویشنل سپیکر اختر عباس‘معروف مزاح نگار گل نوخیز اختر، ہمشیرہ زبیر احمد انصاری، سینئر صحافی عنبرین فاطمہ‘ معروف شاعر و استاد پروفیسرناصر بشیر‘ نامور ادیب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ،افسانہ نگار طارق بلوچ صحرائی،معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی‘ نوجوان نسل کے معروف شاعر اتباف ابرک، رپورٹر جیو نیوز دعا مرزا ،تجزیہ نگار نوید چوہدری‘معروف شاعر میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر، ،میگزین ایڈیٹر ندیم نظر‘،عقیل انجم اعوان ، ریاض احمد احسان، حسیب پاشا، ندیم اختر، شاعرہ مہوش لاشاری، تسنیم جعفری، محمد سفیر اعوان ، ملک یعقوب اعوان اور نامورشاعرہ ،ادیبہ ، مصنفہ ایڈووکیٹ سعدیہ ہماء شیخ ،عابدہ نذر سمیت دیگر نے شرکت کی۔ مقررین نے نئے لکھنے والوں کو اپنی تحاریر کو جاذب نظر اور خوبصورت بنانے کے لئے مختلف تجاویز دیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ صرف لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا‘بلکہ اچھا اور بہترین لکھنا ہی آپ کو بے مثال بناتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ پڑھیں اور پڑھتے رہیں۔ اس لیے کہ اچھا لکھاری وہی ہوتا ہے جو اچھا پڑھنے والا ہو۔ خواتین مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین اب ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں بلکہ بعض جگہوں پر مردوں سے بھی آگے ہیں اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ اپووا کے بانی ایم ایم علی نے کہا کہ صحافت میں بھی خواتین کو آگے آنا چاہیے میری تنظیم کا مقصد نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ تقریب میں شدید خراب موسم کے باوجود ملک بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال اپنے وسیع ہونے کے باوجود تنگئ داماں کا منظر پیش کرتا رہا۔دورانِ تقریب اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈز ‘ میڈلز اور تعریفی اسناد سے بھی نوازاگیا۔ اس ورکشاپ کی ایک بڑی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں ’’میڈیکل کیمپ‘‘ بھی لگایا اور ڈاکٹرز کا ایک پورا پینل وہاں پر فری چیک اپ کے لیے ورکشاپ کے اختتام تک موجود رہا اور شرکاء اپنی صحت کے مسائل ڈاکٹرز سے ڈسکس کرتے رہے۔آخرمیں اپووا انتظامیہ نے یہ عہد کیا کہ انشاء اللہ آئندہ بھی ایسے ہی کامیاب پروگرام کرواتے رہیں گے اور تنظیم کا گراف انشاء اللہ اور اوپر جائے گا۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیے پُرتکلف لنچ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سموگ اور فوگ کے باوجود دور دراز سے آنے والے شرکاء کا اپووا سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری ، بانی ایم ایم علی ، صدر حافظ محمد زاہد اور دیگر عہدیداران ریحانہ عثمانی ، ثمینہ طاہر بٹ، مدیحہ کنول ، ساجدہ چودھری ، ساجدہ اصغر ، سفیان فاروقی، فاروق صاحب، ایڈووکیٹ سعدیہ ہماء شیخ ، ایمن سعید، لاریب اقراء ، ثوبیہ راجپوت اور نبیلہ اکبر نے خصوصی شکریہ ادا کیا۔