192

غیرملک اور پاکستانی خواتین

غیرملک اور پاکستانی خواتین

میرے ایک جاننے والے لندن میں تیس پینتیس سال سے رہائش پذیر ہیں اور ان کا شمار ادھر کے نمایاں پاکستانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے گروپ میں اپنا ایک قصہ بیان کیا تو دل گنگ رہ گیا پھر مزید لوگوں نے جو یورپ کے مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہیں اپنے اپنے تجربات بتائے تو دل خون کے آنسو رو دیا کہ پیسے کی ہوس میں ہم کیا سے کیا ہوگئے۔

سنیے وہ قصہ ان ہی کی زبانی ۔۔۔
ایک حساس موضوع پر لکھ رہا ہوں جس سے بہت سے لوگ شائید واقف ہوں، لیکن اس پر کھل کر بات نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ پہلے، لندن میں ایک پاکستانی لڑکی نے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ سٹوڈنٹ ویزے پر پاکستان سے آئی تھی، اور اس کے والدین نے اس کے ویزا کے لیے اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی تھی۔ اس کا خواب تھا کہ وہ یہاں ملازمت کرکے اپنی تعلیم کےاخراجات پورے کرے گی، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شادی کرکے یہاں سیٹل ہو جائے گی۔
تفصیل میں جائے بغیر، یہاں آنے کے اٹھارہ ماہ بعد تک، اسے چند چھوٹی موٹی ملازمتیں ملیں، لیکن وہ ان سے اپنا کھانا پینا بھی پورا نہیں کر سکی۔ یونیورسٹی فیس جمع نہ کروانے کی وجہ سے وہ ایک سمیسٹر کے بعد ہی فارغ ہو گئی۔ اس کا ویزا ایکسپائر ہو گیا، اور یہاں سٹیٹس غیر قانونی ہوگیا اور کافی عرصہ سے اس کی کوئی آمدنی نہیں ہے۔
وہ ایک دو بیڈروم کے فلیٹ میں 5 مختلف قومیتوں کے لڑکوں کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ ان کے لیے کھانا پکاتی ہے، صفائی کرتی ہے، اور کپڑے دھوتی ہے۔ اس کے بدلے میں، اسے رہائش اور کھانا پینا مل جاتا ہے۔ اس کا اپنا بیڈ تک نہیں ہے، اور وہ جس لڑکے کی “باری” ہوتی ہے اس کے بیڈ پر رات گزار لیتی ہے۔ [میں نے یہ حصہ پہلے نہیں لکھا تھا لیکن اب ہمت کررہا ہوں کہ آپ کو اس کی بے بسی کی شدت کا کچھ اندازہ ہو جائے۔ کہتی کہ یہ لڑکے ::::::: کرتے ہوئے مجھے جانوروں کی طرح استعمال کرتے ہیں کہ انہیں پتہ ہے میں کہیں نہیں جاسکتی۔ اب تو میری صرف یہ خواہش ہے کہ انہوں نے جو کرنا ہے کریں لیکن مجھے انسان سمجھ کر کریں۔ اسے صرف ایک تسلی ہے کہ اس کے ساتھ رہنے والوں میں کوئی پاکستانی نہیں ہے تو پاکستان میں کسی کو پتہ لگنے کا خطرہ بھی نہیں ہے۔]
پاکستان میں، اس نے سب کو بتایا ہوا ہے کہ وہ پڑھ رہی ہے اور اپنے اخراجات پارٹ ٹائم ملازمت سے پورے کر رہی ہے۔ اور کہ اس کا گزارہ ہو جاتا ہے، لیکن اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ والدین کو پیسے بھیج سکے۔ مزید دو سال بعد پڑھائی ختم کرکے اسے اچھی ملازمت مل جائے گی پھر والدین کو سپورٹ کرسکوں گی۔
اس قسم کی صورتحال میں پھنسی ہوئی کی، غیر قانونی سٹیٹس کی وجہ سے کوئی بھی مدد نہیں کرسکتا۔ وہ پاکستان واپس نہیں جانا چاہتی کہ واپس کس منہ سے جاؤں۔ یہاں، ایسے کیسز میں قانون بہت سخت ہے، لیکن قانونی مدد اس لیئے نہیں لے سکتیں کہ پولیس انہیں واپس پاکستان بھیج دے گی۔
شکر ہے کہ اس نے کال کرتے ہوئے اپنا نمبر بلاک کر لیا تھا، ورنہ ایک جرم ہوتا دیکھ کر خاموش رہنا بھی قانونی طور پر ایک جرم ہے اور میرے پاس پولیس کو بتانے کے علاؤہ کوئی آپشن نہ ہوتی۔
حامد میر نے کافی سال پہلے جیو پر برطانیہ میں آئی ہوئی ایسی لڑکیوں پر تین قسطوں کی ایک سیریز کی تھی۔ نوے فی صد لڑکیوں کی یہی کہانی تھی۔

آج سحری کے بعد، پاکستان سے ایک لڑکی نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اس نے سٹوڈنٹ ویزہ لینے پر 15 لاکھ روپے خرچ کر دیئے ہیں، لیکن ویزہ نہیں ملا۔ اب وہ مزید شدت سے برطانیہ آنا چاہتی ہے تاکہ یہ نقصان بھی پورا کر سکے۔
میں نے تفصیل سے اسے سارے حالات بتائے، اور اس لڑکی کی کہانی بھی سنائی اور روکا کہ اب وہ اس پر مزید وقت، پیسہ اور توانائی ضائع نہ کرے۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اس نے کبھی بھی یقین نہیں کرنا، بلکہ میرے خلاف ایک چلتا پھرتا اشتہار ہونا ہے کہ یہ ایسے ہی ان لوگوں نے ڈرامہ بنایا ہوا ہے، کسی کی مدد نہیں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
میں آپ سے گذارش کرتا ہوں، خاص طور پر لڑکیوں کو بیرون ملک اس امید پر نہ بھیجیں کہ وہ ملازمت کرکے اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرلیں گی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سی لڑکیاں اس طرح کے حالات کا شکار ہوتی ہیں، اور ان کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ ہمیں اس معاملے پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدارا! کم از کم اپنی بیٹیوں، بہنوں کو باہر ایک انجان ملک میں بھیجتے ہوئے احتیاط کریں خاص طور پر جب آپ کے اتنے وسائل نہ ہوں۔ مجھے متحدہ عرب امارات کا پتا ہے جہاں بہت سی لڑکیاں بیوٹی پارلر پر کام کرنے کا یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا کہہ کرجاتی ہیں اور ::::::: ویسے تو میرے پاس ایسے قصے بھی ہیں کہ جس کے آسرے پر ادھر گئے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ بہت سے دانشور کہیں گے کہ پاکستان میں بھی یہ سب کچھ ہورہا ہے اور باہر کچھ ایسا نہیں ہوتا ہے۔۔۔ فلاں لڑکی گئی تھی اب وہ کروڑ پتی ہوگئی فلاں وہ ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے تو لڑکوں کو بہت کچھ بھگتنا پڑتا ہے لیکن خود سوچیے ایک معصوم لڑکی جس نے خواب میں بھی ایسا نہ سوچا ہوگا وہ کیا سے کیا بن گئی۔ میری اس پوسٹ سے کسی ایک کابھی ارادہ بدل گیا تو میں سوچوں گا کہ میری محنت اکارت نہیں گئی۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں