میت کے لئے ایصال ثواب کے مشروع طریقے اتوار 10 نومبر 2024 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
میت کے لئے ایصال ثواب کے مشروع طریقے
اتوار 10 نومبر 2024
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
منطقی قاعدہ تو یہی ہے کہ میت کو اصلا” اپنے ہی عمل کا ثواب ملتا ہے جیساکہ چند بنیادی اصولوں کے تحت ہم نے دلائل سے اندازہ لگایا ہے اور پھر مسلم شریف کی حدیث سے معلوم ہوا کہ میت نے خود اپنی زندگی میں صدقہ جاریہ ، نفع بخش علمی کام کیا ہو یا صالح اولاد چھوڑی ہو جو اپنے والدین کے حق میں دعاء کرے، صدقہ خیرات کرے تو اس کا ایصال ثواب میت کو
ملتا ہے۔
شریعت میں ایسے بھی بعض کام ہیں جن کو میت نے خود نہیں کیا ہے کوئی دوسرا میت کی جانب سے انجام دے اور ان کا اجر بھی میت کو ایصال ثواب کے طور پر پہنچے گا ۔ وہ چند کام ایسے ہیں جنہیں ہم ایصال ثواب کے مشروع طریقے کہہ سکتے ہیں۔
رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے سارے اعمال رک جاتے ہیں مگر تین عمل جاری رہتے ہیں
صدقہ جاریہ
وہ فلاحی کام جن سے عوام فائدہ اٹھاتے رہیں
علم نافع
کسی کو علم سیکھا دیا جس سے وہ شخص خود فائدہ اٹھاۓ اپنی روزی روٹی کماۓ یا دوسروں کو فائدہ پہنچاۓ۔مثال کے طور پر کسی کو قرآن پڑھنا سیکھا دیا، لکھنا پڑھنا سیکھا دیا، درزی کا کام سیکھا دیا وغیرہ۔۔۔
جب تک لوگوں کو فائدہ پہنچتا رہے گا مردے کو ایصال ثواب ملتا رہے گا
اولاد صالح
نیک اولاد جو والدین کےلۓ صدقہ خیرات کرتی رہتی ہے، ان کے حق میں دعاء کرتی ہے اور خود دین پر عمل پیرا رہتی ہے۔ ان کے نیک کاموں کا اجر و ثواب بھی مردے کو پہنچتا ہے اور یہ نیک اولاد ایصال ثواب کا بہت بڑا ذریعہ ہے
وصیت کئے گئے نیکی کے کاموں کا نفاذ۔
وصیت دوچیزوں سے متعلق ہوتی ہے ، ایک مال سے متعلق اور دوسری اعمال سے متعلق ۔
مال سے متعلق ایک وصیت تو یہ ہے کہ آدمی کے اوپر لوگوں کے حقوق ہوں اس کی وصیت کرے مثلا” قرض ، امانت وغیرہ ۔مال سے متعلق دوسری وصیت عام ہے وہ کسی غیر وارث کو دینے کے لئےتہائی مال یا اس سے کم کی وصیت کرنا ہے مثلا” بیٹے کی موجودگی میں بھائی کوکچھ مال کی وصیت کرنا۔
اعمال سے متعلق ایک وصیت مال کے ساتھ معلق ہے یعنی وصیت کرنے والا اپنی وفات کے بعد اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی وصیت کرجائے مثلا” مسجد بنانے، یتیم خانہ تعمیر کرنے ، جہاد میں پیسہ لگانے ، غیر متعین مسکین وفقراء میں متعین مال تقسیم کرنے کی وصیت کرنا۔ اعمال سے متعلق ایک دوسری وصیت بغیر مال کے ہے ، وہ اس طرح کہ وصیت کرنے والا اپنی اولاد، اعزاء واقرباء کو نمازکی وصیت، تقوی کی وصیت، شرک سے بچنے کی وصیت اور دیگر اعمال صالحہ کی وصیت کرے اور یہ عظیم وصیت ہے۔
لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :
وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان:13)
ترجمہ: اور جب کہ لقمان نے وعظ کرتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بےشک شرک بھاری ظلم ہے۔
میت کے وارثین کو چاہیئے کہ میت نے جن چیزوں کی وصیت کی ہے اگر ان میں کوئی شرعی مخالفت نہیں ہے تو اسے نافذ کرے۔
حضرت ثرید بن سوید ثقفی ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:
أتيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ ، فقلتُ : إنَّ أمي أوصتْ أن تُعتقَ عنها رقبةٌ ، وإنَّ عندي جاريةً نوبيَّةً ، أفيُجزئُ عني أن أعْتِقَها عنها ؟ قال : ائْتِني بها . فأتيتُه بها ، فقال لها النبيُّ : من ربك . قالت : اللهُ ! قال : من أنا . قالت : أنت رسولُ اللهِ ! قال : فأعتِقْها فإنها مؤمنةٌ(النسائي3655)
ترجمہ: میں رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ نے (وفات کے وقت) وصیت کی تھی کہ میری طرف سے ایک غلام آزاد کیا جائے۔ میرے پاس ایک حبشی لونڈی ہے۔ اگر میں اسے آزاد کرادوں تو کیا میری ذمہ داری ادا ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آ۔‘‘ میں لے کر آیا نبیﷺ نے اسے فرمایا: تیرا رب کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے آزاد کردے۔ یہ مومن ہے۔
ایصال ثواب کے ان مشروع طریقوں کے علاوہ میت کی طرف سے اور کوئی عمل انجام نہیں دینا چاہئے ۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ کثرت سےاس کے حق میں دعاء کرے اور جس قدر صدقہ کرسکتا ہے صدقہ کرے ۔ میت کی جانب سے قربانی اور عقیقہ کا بھی ثبوت نہیں ہے اس لئے ان دو کاموں اور پہلے بیان کردہ ایصال ثواب کے ناجائز طریقے سے بچے ۔ دین میں نئی ایجاد بدعت کہلاتی ہے اور ہر بدعت گمراہی کا نام ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
یاد رکھیں بدعتی شخص کبھی بھی اپنی بدعت چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا کیونکہ یہ اسے نیکی
سمجھ کر رہا ہوتا ہے
اے اللہ ہمیں نبی کریم کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنا دے اور ہمیں بدعات سے دور رکھ۔
آمیں یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333