ٹھٹہ رپورٹ. عبدالعزيز شيخ سیکریٹری ہیومن رائٹس سندھ کی زیر صدارت گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل کے حل کے متعلق اہم اجلاس
ٹھٹہ رپورٹ. عبدالعزيز شيخ
سیکریٹری ہیومن رائٹس سندھ کی زیر صدارت گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل کے حل کے متعلق اہم اجلاس
سیکریٹری ہیومن رائٹس سندھ تحسین فاطمہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور متاثرین کو تحفظ و انصاف کی فراہمی کے لیے ہر وقت کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ہیومن رائٹس سندھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کا از خود نوٹس لے کر لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دربار ہال مکلی میں گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل کے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ہیومن رائٹس سندھ آغا فخر حسین، انچارج شکایت سیل انسانی حقوق ٹھٹہ و سجاول الطاف حسین تنیو و دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون ٹھٹہ غلام دستگیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو ٹھٹہ فراز احمد عباسی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو سجاول حبیب اللہ وگن، اسٹنٹ کمشنر ٹھٹھہ اعجاز ھالپوٹو محکمہ انسانی حقوق کے سعید سومرو عاشق حسین ابڑو ارشاد حسین نازیہ ناز ڈی ایس پی ٹھٹہ سید افتخار شاہ، ڈی ایس پی سجاول مظفر جمیل، ڈی ای او سیکنڈری حضور بخش خاصخیلی، ڈی ای او پرائمری نور سرائی، ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر خدا بخش بہرانی چائلیڈ پروٹیکشن آفیسر مھرین اقبال سومرو انفارمیشن آفیسر محفوظ سومرو شکور میمن سیف ھائوس انچارچ خورشید اقبال میر جھانگیر خان مری ڈاکٹر آکاش عباسی حبیب اللہ رانٹو ٹیکچند کامران سومرو سنیئر صحافی اور عوامی ھیومن رائیٹس فورم کے صدر بلاول سمون واحد شورو قادر جاکرو راجہ تنویر سید تشکیل شاھ سونو میمن عالمی انسانی حقوق کے وفا اکرم عباسی لیگل ایڈوائزر فرحان شمس شوکت زئور بشیر شورو چودھری واجد ساجد جوکیو سید آفتاب علی شاھ حیرث مسیع فشر فوک فورم کے سید معراج شاھ انسانی حقوق خواتین ونگ کی وقارالنساء ناز حمیرا علی عوامی ھیومن رائیٹس لیڈیز ونگ صدر میڈم زوھرا جاکرو پی سی امیر علی میمن علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز کے نمائندوں، وکلاء، صحافیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔جبکہ خادم الفقراء پاکستان کے سرپرست اعلیٰ صوفی ذوالفقار علی قادری آغا طاھر حسین و دیگر نے سیکریٹری انسانی حقوق حکومت سندھ سے خصوصی ملاقات کی مختلف مکتب فکر کے افراد نے پانی صحت تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کے فقدان اور امن امان کی صورتحال اور ملنے والی لاشوں اور مقامی افراد کو روزگار نا ملنے کی شکایات کی اس موقع پر سیکیرٹری ہیومن رائٹس تحسین فاطمہ نے کہا کہ ھیومن رائٹس کا مقصد حکومت سندھ کی جانب سے بنائے گئے انسانی حقوق کے قوانین جیساکہ گھریلو خواتین پر ہونے والے تشدد کی روکتھام، کم عمری کی شادی، اقلیتی امور، بچوں سے مزدوری، بچوں کے تحفظ و دیگر بنیادی انسانی حقوق کے قوانین پر عمل درآمد کروا کر عوام کو فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے محکمہ پولیس، روینیو و دیگر افسران کو ہدایت کی کہ انسانی حقوق کی شکایات کا بروقت جواب دینے کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کو فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ہیومن رائٹس سندھ آغا فخر حسین نے کہا کہ ماضی میں ٹھٹہ سندھ کا دارالخلافہ رہ چکا ہے جوکہ تاریخی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے، یہاں کے تمام بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے، ہماری کوشش ہے کہ ٹھٹہ کو ہیومن رائٹس کے حوالے سے ماڈل ضلع بنائیں۔ اجلاس میں شرکاء نے تعلیم، صحت، پانی، منشیات، ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات اور مینگروز کی کٹائی و دیگر حقوق انسانی کی پامالی پر اپنے اپنے تحفظامت کا اظہار کیا اور ان کے حل کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں جس پر سیکریٹری اور ڈائریکٹر ہیومن رائٹس نے تمام مسائل کے حل اور اپنے مکمل تعاون کی یقینی دہانی کروائی۔ اجلاس کے اختتام پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون غلام دستگیر نے تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کے مسائل خوش اصلوبی سے حل کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔