*موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں ہمارا مستقبل* اتوار 27 اکتوبر 2024 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں ہمارا مستقبل*
اتوار 27 اکتوبر 2024
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
ٹھنڈے دل سے سوچتا ہوں اور مخلص ہو کر وطن عزیز کے سیاسی و معاشی حالات کا جائزہ لیتا ہوں تو شرم سے میری گردن جھک جاتی ہے کہ ہم کیا تھے کیا ہونا چاہیئے تھا اور کیا ہو گئے۔
کیا وجہ ہے ہم ایسے کیوں ہوگئے۔ کیا ہماری کوئی راہنمائی کرنے والا نہ تھا کیا ہمارے لیڈر کرپٹ تھے یا ہم سب کرپٹ تھے لیکن ہم تو کتاب اللہ کے ماننے والے تھے اور ہمارے سامنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اسوہ حسنہ تھی اور پریکٹیکل ریاست مدینہ تھی لیکن ہم پھر بھی بھٹک گئے اور ترقی یافتہ قوموں کے حالات سے بھی ہم نے کچھ نہ سیکھا۔
کوا چلا تھا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔
ہم نے جو بھی ترقی کی ہے وہ دنیا کی نقل کر کے سیکھا ہے ہماری ذاتی کاوش کچھ نہ تھی اور نہ ہی ہمارے سامنے کوئی ٹارگٹ تھا
قوم کے پڑھے لکھے اور فتین لوگ جس ڈگر پرچل دیئے سو چل دیئے کچھ کامیاب ہو گئے اور کچھ انجانی راہوں میں کھو گئے۔
سچ تو یہ ہے کہ جو بھی ہم نے ترقی کی ہے خود ہی کی ہے کوئی ہمیں راہ دیکھانے والا نہیں تھا بچوں کو جس نے جس کام پر لگا دیا وہ لگ گئے اور اس نے اسے ہی اپنا ذریعہ معاش بنا لیا
مگر حکومت نام کا کوئی ادارہ ہمارے ہاں کبھی بھی نہ تھا اور نہ رہا۔
*لمحہ فکریہ*
سوچتا ہوں ایسا کب تک چلے گا کیا قوم کے اچھے دن آئیں گے یا پچھلی جنریشن کی طرح ہم بھی مر کھپ جائیں گے
ملکی سیاست دان اپنی کرسی مضبوط رکھنے کے چکر میں ہیں ملک و قوم سے انھیں کوئی سروکار نہیں بس اپنا ووٹ بنک بنانا ہے تاکہ کرسی مضبوط رہے۔
جو بھی لیڈر آیا اپنی جیب بھر کر چلا گیا اور قوم کو بھیک پر لگا گیا۔
سوچتا ہوں آخر کب تک ایسا چلے گا کیا کوئی اچھا لیڈر آنے کی امید ہے کچھ بد زبان اور راہ گم گشتہ پرانی شراب نئے پیالوں میں بیچنے والے آتے رہئیں گے اور قوم کو بیوقوف بناتے رہیں گے۔ ہمارے سیاسی لیڈروں کو اپنی بے مقصد دھیگامشتی سے ہی فرصت نہیں کہ ملکی ترقی کی طرف دھیان دیں۔
سیاسی لیڈروں کی اخلاقی قدریں اتنی پست ہو گئ ہیں یہ گالی اور کوسنے اور طعنہ زنی کے علاوہ ان کی جھولی میں کچھ نہیں۔
یہ شاید بھولے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالی اس چیز پر قادر ہیں کہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آئیں اور اگر ایسا ہوا تو اسکی سزا سے تم ہرگز نہ بچ پاو گے۔
نہ دیکھ دیر گیری اس کی کہ سخت ہے گرفت اسکی۔
نیز یہ کہ عوام الناس بھی آپکی پرفارمنس سے تنگ آچکی ہے اب بھی وقت ہے سدھر جاو وگرنہ بگل بجا چاہتا ہے۔
پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔
وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ
*الدعا*
یا قادر مطلق ہم پچھلے ستہتر سالوں سے نت نئے حکمرانوں کے تجربے کرتے کرتے تھک چکے ہیں مگر موجودہ سیاستدانوں کی کھیپ اور حالات زمانہ پر عمیق نظر ڈالتے ہوئے مستقبل قریب میں ہمیں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی بس اب تجھ پر ہی آخری امید اور بھروسہ ہے۔
اے ہمارے مولا تو جانتا ہے کہ اس ملک کی مٹی شہدا کے خون میں گندھی ہوئی ہے میرے مولاے کائنات ہمارے شہدا وطن کے خون کی لاج رکھ لے اور اپنی جناب سے ہمیں عمر بن عبدلعزیز جیسا حکمران عطا فرما وگرنہ ڈر ہے کہ یہ سرزمین پھر سے
کفار نما مسلمین کے تسلط میں نہ چلی جائے۔
اے وسع قدرت والے میری التجا سن لے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00928604333