آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عدالتیں اتنی ہی بےبس ہیں اور انکے آرڈرز کاغذ کا ٹکڑا ہی رہ گئے ہیں؟ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل خود بغیر کسی واقعے کے جس طرح جیل سے ہائیکورٹ آ گئے ہیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کر سکتے ہیں،
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عدالتیں اتنی ہی بےبس ہیں اور انکے آرڈرز کاغذ کا ٹکڑا ہی رہ گئے ہیں؟ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل خود بغیر کسی واقعے کے جس طرح جیل سے ہائیکورٹ آ گئے ہیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کر سکتے ہیں، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے ریمارکس
*_بانی پی ٹی آئی کو آپ عدالت میں پیش کرینگے تو یہ عدالت عالیہ ہو گی،آپ سیکیورٹی کے انتظامات کریں اور بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں لائیں،گر نہیں لا سکے تو کل آپ عدالت کو بتائیں گے کہ کیوں پیش نہیں کر سکے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان_
*_جیل ملاقات پر پابندی کے پنجاب حکومت کا نوٹیفیکیشن دیکھ کر عدالت برہم ،حکومت پنجاب نے توہین عدالت کی اگر روکا ہے تو،کدھر ہے نوٹیفکیشن،یہ تو21 سے25 تک کا نوٹیفکیشن ہے پہلے والا بھی دکھائیں،وزارت داخلہ کی رپورٹ دیں اور بتائیں کہ کیا سیکیورٹی ٹھریٹس ہیں،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان_*
*_یہ نوٹیفکیشن میرے احکامات کی خلاف ورزی ہے،وکلاء نہیں ہیں،وکلاء کو کیوں نہیں ملنے دیاگیا،حکومت ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے ایک جگہ کو سیل کرکے انصاف کی فراہمی کو روک سکتی ہے کیا، اے جی صاحب یہ توہین ہے،وزارت داخلہ کو وضاحت دیناہوگی کہ میرے احکامات سے کیسے لاعلم رہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق_*
*_جیل سپریڈنٹ صاحب آگر عمران خان کو نہیں لا سکے تو توہین عدالت آپ پر ہوگی جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان_*