دل کی بات خ ح شہزاد
دل کی بات
خ ح شہزاد
آئینی ترمیم منظور ھوچکی ھے۔آئین کا حصہ بن گی ھے۔مولانا فضل الرحمن کے خصوصی تعاون یعنی کچھ لو کچھ دو کے نظریہ کے تحت حکومت کی مشکل آسان ھوچکی ھے۔ھمارے کچھ دوست سوشل میڈیا پر کہ رھے کہ کاش کوئی لوٹ مار کے قانون میں تبدیلی کرتا۔کوئی ذخیرہ اندوزی۔رشوت۔کے قانون میں تبدیلی کرتا کہ آج کے بعد لوٹ مار کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے گی۔چور۔ڈکیٹ کے ہاتھ کاٹے جاھیں گے۔رشوت خور کی ساری نسل کسی بھی عہدے کے لیے نااہل ھوگی۔منشیات فروش کے لیے سزائے موت ھوگی۔وغیرہ وغیرہ۔لیکن غریب عوام کو پتہ نہیں ھے یا وہ جان بوجھ کر جاننا نہیں چاھتے کہ یہ کام آپ جن لوگوں کو اسمبلیوں میں ووٹ دیکر بھجتے ھیں ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتے۔انکے لیے یہ چھوٹے چھوٹے عوامی کام کوئی معنی نہیں رکھتے۔ان کے نزدیک ججوں کو کیسے کنٹرول کرنا ھے۔افسر شاہی کو کیسے قابو کرنا ھے۔فوجیوں کو کیسے خوش رکھنا ھے۔امریکہ۔سعودی عرب۔امارات ۔چین سے کیسے قرض لینا ھے۔پھر کیسے بانٹ کر کھانا ھے۔آئی ایم ایف کو کیسے دھوکہ دینا ھے۔وغیرہ وغیرہ یہ حکومتی کام ھوتے ہیں۔سو وہ یہ اچھے طریقے سے کررھے ھیں۔اور غریب عوام کے کرنے والے کام کہ فیکٹریاں بند ھورہی ھیں بھوک ناچ رھی ھے۔لوگ دووقت کے روٹی کوترس رھے ھیں یہ کام تو سردرد ھیں۔لہذا یہ کام غریب عوام کو خود کرنے ھیں۔اور ٹیکس بھی دینا ھے۔سیل ٹیکس۔مزید ٹیکس۔فکس ٹیکس۔پھر ٹیکس یہاں تک کہ ٹیکس لگانے والوں نے ہاتھ کھڑے کردیے کہ اب کون سا ٹیکس لگاہیں۔؟؟؟
یہ پاکستان میں چل رھا ھے اور دوسری طرف فلسطین میں انسانیت مر رھی ھے۔اور انسان جشن منا رھے ہیں۔غزہ کا چھوٹا سا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ھے۔اور آپ دیکھ رھے ھیں کہ اردگرد کے ممالک اور دور کے ممالک میں جشن منائے جارھے ھیں۔سیزن ریاض۔سیزن دبی۔وغیرہ چل رھے ھیں۔اور یہ لوگ موت کو سامنے دیکھکر بھی موت سے غافل دنیا کی عیش پرستی میں مبتلا ھیں۔واضح احادیث مبارکہ ھیں لیکن یہ غفلت میں پڑے ھیں۔اور یقنا غفلت میں مارے جاھیں گے۔اور انکے فرعونی محل قرونی دولت سب کچھ تباہ ھونے والا ھے۔سال چھ ماہ کی بات ھے۔ھوسکتا ھے انکی باری پہلے آجائے۔اللہ بہتر جانتا ھے۔فلسطین کے غیور بہادر۔عوام اور قیادت نے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی ھے۔اور ابھی سنوار کی شہادت نے تو کمال کردیا۔اسلاف کی جرت وبہادری کی تاریخ دہرائی گی ھے۔آخری سانس تک مقابلہ کرکے سنوار نے تاریخ رقم کردی ھے اور فلسطین کے مجاہدین کو حوصلہ ہمت ملی ھے۔