August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*گر تو برا نہ مانے* تحریر حاجی محمد ناصر روز نامہ سفیر پاکستان روز نامہ سفیر پنجاب ملتان سٹار ایشیا نیوز

IMG-20241017-WA0128
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

*گر تو برا نہ مانے*

تحریر حاجی محمد ناصر
روز نامہ سفیر پاکستان
روز نامہ سفیر پنجاب ملتان
سٹار ایشیا نیوز

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام ایک احسن اقدام لیکن ملاوٹ مافیا معزز کیوں

عوام کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اشیائے خورد ونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے پنجاب فوڈ اتھارٹی 2011 میں بنائی پنجاب کے 36 اضلاع میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے فوڈ سیفٹی کے متعلق 16 قوانین بھی منظور کروائے گئے ہر ضلع میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹرنینگ سکول کا قیام بھی عمل میں لا یا گیا اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی 700 سے زائد فوڈ سیفٹی ٹیموں کا قیام پنجاب حکومت کا ایک احسن اقدام تھاپنجاب فوڈ اتھارٹی کا ناقص اشیاء خوردونوش بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری وساری ہے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اولین مقصد کھانے پینے کی چیزوں کی تیاری، پیکنگ اور فروخت تک تمام مراحل کی جانچ پڑتال کرنا ہے جس کے لئے صوبہ بھر کے ہر شہر میں ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور ان کو اچھی گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں جن پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لوگو واضح دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے آغاز میں پنجاب میں کھانے پینے کی اشیاء ہوٹلوں ریسٹورنٹس فیکٹریوں اور بیکریوں کے معیار کو چیک کرنے اور غیر معیاری اشیاء بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف جرمانے کرنے کا سلسلہ بڑی تیزی سے شروع ہوا تھا عوام میں یہ ادارہ اپنا ایک خاص مقام بناتا نظر آنے لگا پھر ہوا کیا کہ آج بھی غیر معیاری دودھ بھی تیار ہو رہا ہے ناکام ہو جاتا ہے اور ہم ہر روز جعلی دودھ اپنے بچوں کو پلا رہے ہیں جس سے صحت اور پیسہ دونوں برباد ہورہے ہیں قارئین کرام ! آپ حیران ہورہے ہونگے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بات کرتے کرتے میں جعلی دودھ بنانے والوں کا ذکر تفصیل سے کیوں کرنے لگ گیا بات دراصل یہ ہے کہ اس کاروبار(دودھ) میں بہت سے ایسے باعزت شعبوں کے افراد ملوث ہو گئے ہیں جو معاشرے میں عزت اور احترام سے دیکھے جاتے ہیں اُن پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں لہذادودھ کے نام پر زہر بن رہا ہے ہم زہر پی رہے ہیں اور نئی نسل کی پرورش بھی اس زہر سے کر رہے ہیں جسکی وجہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور نئی نئی بیماریاں سننے میں آرہی ہیں پنجاب فوڈ اتھارٹی ایک نیک مقصد کے لئے بنائی گئی جس سے بہت سے بے روزگاروں کو نوکریاں تو ملیں خاص طورپرخواتین کو اس شعبہ میں بڑی تعداد میں کھپایا گیا دفاتر بنائے گئے اور دیگر عملہ رکھا گیا جس سے بے روزگاری میں کسی حد تک کمی واقع تو ہوئی ہو گی ۔۔۔۔۔۔بات تو یہ سوچنے کی ہے کہ گاڑی سے اُتر کر کسی ٹھیلے یا پھیری والے کو جرمانہ کر کے تصاویربنا کر جانے والا یہ خواتین کا عملہ کیا سمجھتا ہے کہ اس سے ملاوٹ کا خاتمہ ہوگا ناممکن جب تک بڑے بڑے مگرمچھوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا اُس وقت تک یہ عملہ چھوٹے چھوٹے دوکانداروں اور ریڑھی والوں کو جرمانے ہی کرتے رہیں گے اور اگلے چند گھنٹوں کے بعد وہ شخص دوبارہ وہ ہی چیز فروخت کرتا پایا جائے گا ہاں البتہ جرمانوں سے حکومت کے ریونیو میں ضرور اضافہ ہو رہا ہے جس سے اس اتھارٹی کی پبلسٹی اور تنخواہوں کے اخراجات پورے ہوسکیں گے پبلسٹی سے دیگر شعبہ جات کو بھی فائدہ ہورہا ہے الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا اور فلیکس بنانے والوں کی آمدن بڑھی لیکن اس کے برعکس ہم یوں ہی ملاوٹ شدہ اشیاء کھاتے رہیں گے جس سے پرائیویٹ ڈاکٹرز کے کلینک بھی بھرے رہیں گے میری وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ اور دیگر حکومتی اداروں سے گزارش ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں اس کی پبلسٹی کرنے کی بجائے اِن مکروہ کاروباروں میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں عوام ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جیسے کہ میں اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ اِن مکروہ کاروباروں میں بہت سے ایسے افراد بھی ملوث ہیں جو معزز شعبہ جات سے وابستہ ہیں جن پر سختی سے ہاتھ ڈالنا ہوگا دوسرا جو سب سے اہم کام ہے لوگوں میں آگہی دینا کہ دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے بطور مسلمان ہمیں صفائی کو اپنانا چاہیے بلکہ ارد گرد بھی صفائی رکھیں خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء بنانے والی جگہوں پر عوام اگر خود یہ فیصلہ کر لیں کہ آئندہ وہ کوئی ایسی چیز بازار سے نہیں خریدیں گے جو ناقص اورحفظان صحت کے اصول کے مطابق تیار نہیں کی گئی تو مجھے یقین ہے کہ یہ مکروہ کام کرنے والے اپنی موت آپ مر جائیں گے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ بہت وسیع کر دیا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمیں اپنے ارد گرد ناقص اور غیر معیاری اشیاء فروخت ہوتی نظر آرہی ہیں اور بعض اشیاء ایسی ہیں جنھیں مجبوراََ ہمیں خریدنا پڑتا ہے جس میں خاص طور پر دودھ اور دیگر روزمرہ کی اشیاء شامل ہے اعلی حکام ناقص اشیاء بنانے والے بڑے بڑے مگرمچھوں کو پکڑیں جب پیداوار اور رسد رُکے گی تب ہی یہ ناقص خوردونوش کی اشیاء بازاروں میں فروخت نہ ہوسکیں گی جبکہ یہاں معاملہ کچھ یوں چل نکلا ہے کہ پبلسٹی پر لاکھوں خرچ کیے جارہے ہیں ملاوٹ کرنے والوں کے چہرے عوام کے سامنے لائیں اور انہیں چھوٹے موٹے جرمانے کرنے کی بجائے قرار واقعی سزائیں عدالتوں سے دلوائیں پھر ہم بھی لکھیں گے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو جن مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ مقاصد پورے ہو رہے ہیں ویسے تو پنجاب فوڈ اتھارٹی کی نااہلی ہر جگہ ہی دیکھی جاتی ہے لیکن جھنگ میں فوڈ اتھارٹی کا عملہ اور اعلی آفسران کی غفلت سے ضلع جھنگ ملاوٹ مافیا کے قبضے میں ہے فوٹو سیشن اور شاہی پروٹوکول سے باہر نکلیں تاکہ عوام کو صاف ستھری خوراک میسر ہو سکے

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0