سکھر۔۔سندھ۔ بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی ۔۔ دعا آن لاین نیوز بات تماری ۔ہیں ھے بات زمانے کی ھے *صحافت میں ان پڑھ اور جاہل لوگوں کی انٹری
سکھر۔۔سندھ۔
بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی ۔۔
دعا آن لاین نیوز
بات تماری ۔ہیں ھے
بات زمانے کی ھے
*صحافت میں ان پڑھ اور جاہل لوگوں کی انٹری*
آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ *ان پڑھ اور جاہل لوگ* صحافت کے شعبے میں آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے *اس مقدس پیشہ صحافت کا ستیاناس* ہو رہا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو نہ صرف صحافت کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعے فراہم کی جانے والی معلومات کی درستگی اور معیار کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
صحافت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سچائی کی ترسیل، عوامی معلومات کی فراہمی، اور معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالنا شامل ہیں۔ جب اس شعبے میں ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو نہ تو تعلیم یافتہ ہیں اور نہ ہی ان میں صحافتی مہارت موجود ہے، تو اس کے نتیجے میں کئی مسائل جنم لیتے ہیں:
ان افراد کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اکثر غیر معتبر اور غلط ہوتی ہیں، جو عوام کے لیے گمراہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
صحافت کے بنیادی اصولوں جیسے کہ *غیر جانبداری، حقیقت پسندی،* اور *ذمہ داری* کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس سے صحافت کی ساکھ شدید متاثر ہوتی ہے۔
جب عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ صحافت میں معیاری افراد کی کمی ہے، تو ان کا صحافتی اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ یہ اعتماد دوبارہ حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
صحافت میں آنے والے افراد کے لیے معیاری تعلیم اور تربیت کا انتظام ہونا چاہیے، تاکہ وہ صحافتی اصولوں اور اخلاقیات کو سمجھ سکیں۔
موجودہ صحافیوں کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی مہارتوں میں بہتری لا سکیں۔
آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ *صحافت کا مستقبل* ان افراد کے ہاتھوں میں ہے جن کا صحافت سے کوئی تعلق ہی نہیں اور نہ ہی ان کو صحافت کی قدر و قیمت معلوم ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ صحافت ایک معتبر اور مضبوط شعبہ رہے تو ہمیں اس میں *تعلیم* اور *تربیت* کو فروغ دینا ہوگا تاکہ یہ مقدس پیشہ اپنا مقام واپس لا سکے۔