دل کی بات خ ح شہزاد
دل کی بات
خ ح شہزاد
جی ہاں یہ بچے فلسطین کے مسلمانوں کے بچے ھیں جو زخموں سے چور چور 2ارب مسلمانوں کو صرف 80لاکھ یہودیوں کے خلاف چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکار رھے ھیں آیک سال ظلم وستم کا مکمل ھوا۔ظلم وبربریت کی ایک لمبی داستان ھے۔فلسطین کی اتھارٹی نے ایک سال کے ظلم وستم پر مشتمل تفصیلات جاری کیں ھیں۔لیکن ھم ان تفصیلات کو پڑھنے کی بجائے اور پھر مزمتی بیان جاری کرنے کی بجائے۔کیوں نہ آج خود اپنا احتساب کریں۔ھمارا جو کوفی کردار ھے اس پر بات کریں سوچیں غور وفکر کریں کہ فلسطین کے معصوم بچوں عورتوں جوانوں بوڑھوں نے ہر ایک نہ اپنی جان مال سب کچھ بیت المقدس اور اپنی آزادی کے لیے قربان کردیا۔لیکن ھم جو دو ارب مسلمان ھیں یا صرف میں ایک ھوں میں نے کیا کیا ھے۔آج جب میں یہ سطور لکھ رھا ھوں تو سوسئے ندامت کے کچھ بھی میرے پاس نہیں ۔کوئی عذر نہیں کہ میں بیمار تھا۔پیسے نہیں تھے۔وسائل نہیں تھے۔میں پاکستان کا شہری 25کروڑ سے زائد آبادی۔سات لاکھ آرمی۔ایٹم بم۔میزائل ۔جدید اسلحہ۔دنیا کی بہترین انٹلی جنس ۔وسیع میدان۔پہاڑ۔ریگستان۔دریا۔سمندر۔کوئلہ۔تانبے۔سونے۔اور دیگر معدنیات سے مالا مال ملک کا باشندہ ھوں۔میرے پاس کیا عذر ھے۔؟؟؟؟بتاؤ میں روز محشر کیا جواب دوں گا۔جب اللہ تعالی فلسطین کی معصوم کلی سے پوچھے گا تمھیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔؟؟وہ کہے گی کہ مجھے بے گناہ قتل کیا گیا ۔2ارب مسلمان موجود تھے لیکن موت کے خوف سے مال دنیا کے ضائع ہونے کے ڈر سے یہ لوگ تماشہ دیکھتے رھے۔مزمت کرتے رھے۔ہاں جب ھم بھوک پیاس سے مرنے لگے تو کچھ لوگ روٹی پانی لے آئے۔لیکن جہاد نہ کیا اور اپنی دنیا سنوارنے میں لگے رھے۔تو بتاؤ میں کیا جواب دوں گا؟؟؟۔میں معزور نہیں ھوں کہ جہاد نہ کرسکو۔میں غریب نہیں ھوں کہ میں جہاد کے لیے وسائل مہیا نہ کرسکوں۔میں ایٹمی قوت ھوں۔شارٹ لانگ رینج کے میزائل میرے پاس ھیں۔پھر میں کیوں عورتوں کی طرح گھر میں گھس کے بیھٹا ھوں۔میرا یہ کوفی کردار مجھے یقنا جہنم لے جائے گا۔اور جہنم کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی کوئی مشکل بھی مقابلہ نہیں کرسکتی۔وہ شدید درد ناک عذاب ھے۔ھم قرآن وحدیث کے واضح حکم سے روگردانی کررھے ہیں کہ نکلو اللہ کی رہ میں ہلکے ھوں چاھے بوجھل۔ان بستی والوں کی مدد کیوں نھیں کرتے جو پکار رھے ھیں یا اللہ کوئی مددگار بھیج۔مفہوم آیات قرآنیہ۔