November 7, 2026

*ایک علمی مجنوں اور بے باک محقق* ڈاکٹر راشد انصاری کی انوکھی داستانِ حیات: تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا

Screenshot_2026-11-06_091753.981

*ایک علمی مجنوں اور بے باک محقق*
ڈاکٹر راشد انصاری کی انوکھی داستانِ حیات:

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا

جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے

زندگی میں کچھ لوگ کتابی دائروں سے نکل کر اپنی ذات میں ایک چلتا پھرتا کارواں بن جاتے ہیں۔ ان کا ہر قدم ایک الگ تاریخ رقم کرتا ہے، ان کا ہر فیصلہ عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتا ہے، اور ان کی شخصیت اتنی رنگین اور پرجوش ہوتی ہے کہ صدیاں بھی اس کے نقوش نہیں مٹا سکتیں۔ ایسی ہی ایک نادرِ روزگار اور ہیرے جیسی شخصیت کا نام ڈاکٹر راشد انصاری تھا
ایک ایسا درویش صفت سائنسدان، باغی محقق اور سچا پاکستانی جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھا۔

۱.دلی کے اسکول سے حبِ وطن کی پہلی آگ:
ڈاکٹر راشد انصاری کے بچپن کا ایک روشن باب دہلی کا ہے، جہاں ان کے والد ایک سفارتی مشن (بطور لیبر اتاشی) میں تعینات تھے۔ وہ دلی کے ایک انڈین ایمبیسی کے اسکول میں پڑھتے تھے۔ اسکول کی صبح کی اسمبلی میں جب روایتی طور پر “بندے ماترم” گانے کا حکم تھا، تو یہ پتلا دبلا، چھوٹی عمر کا بچہ اپنی جگہ چٹان کی طرح ڈٹ گیا۔ ڈنڈوں کی مار پڑی، دھمکیاں دی گئیں، اور یہاں تک کہا گیا کہ اس بچے کی حبِ وطنی کا یہ جنون اس کی جان بھی لے سکتا ہے، مگر اس نڈر بچے نے “بندے ماترم” کا ایک لفظ بھی زبان پر لانے سے صاف انکار کر دیا اور پوری بلند آہنگی سے “پاک سرزمین شاد باد” کا ترانہ پڑھا۔ بچپن کی اس بے باکی نے ثابت کر دیا کہ یہ بچہ آگے چل کر اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والا نہیں، بلکہ اپنے مؤقف پر جان کی بازی لگانے والا انسان بنے گا۔

۲.ہمارے تعلیمی نظام کے بند دروازے اور بیرونی دنیا کی قدر شناسی:
ڈاکٹر صاحب کا تعلیمی سفر اس تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے سسٹم میں صلاحیتوں کو پرکھنے کا پیمانہ کس قدر روایتی اور تنگ نظر ہے۔ پاکستان میں ایف ایس سی کے بعد انجینئرنگ میں داخلہ نہ ملا، مایوس ہو کر بی ایس سی کی تو بھی دروازے بند ملے، آگے بڑھ کر ریاضی (Mathematics) میں ایم ایس سی کی تب بھی کوئی پرسانِ حال نہ ہوا، اور پھر کیمسٹری میں ایم ایس سی کرنے کے باوجود انہیں وہ مقام یا داخلہ نہ مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔

لیکن ذرا دیکھیے کہ جب انسان کے اندر لگن سچی ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں! انہوں نے پاکستان کی بند گلیوں سے نکل کر رومانیہ کا رخ کیا۔ وہاں صرف چھ مہینے کی زبان کی سخت ترین ٹریننگ لی، اور اسی یورپی دھرتی پر قدم رکھتے ہی انہوں نے کیمیکل انجینئرنگ کا معرکہ سر کر دکھایا۔
اس کے بعد آسٹریلیا کی مائیگریشن ملی تو وہ آسٹریلیا چلے گئے اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں 5000 ڈالر ماہانہ پر ملازمت اختیار کر لی۔ تین سال بعد انہوں نے کمپنی سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ “مجھے مزید آگے تعلیم حاصل کرنی ہے”. کمپنی کے باس نے بڑا سمجھایا کہ اس سے اچھی نوکری کیا ملے گی، مگر ان کے دماغ میں تو علم کا سودا سمایا ہوا تھا، چنانچہ وہ دوبارہ تعلیمی میدان میں اتر گئے۔ اسٹریلیا سے کیمیکل انجینئرنگ میں ایم ایس (MS) مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی پچھلی کمپنی کو دوبارہ جوائن کیا، اور اپنی علمی برتری کے بل بوتے پر وہیں اپنے پرانے باس کے باس بن گئے! اسی دوران ریاض آئل ریفائنری سے جاب آفر آئی تو وہ الریاض، سعودی عرب منتقل ہو گئے۔

[یہ تمام سفر ہمارے روایتی تعلیمی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ تھا جو انہیں یہاں ایک عام طالب علم سمجھ کر دھکے دے رہا تھا، جبکہ باہر کی دنیا نے ان کے اس “پھرے ہوئے دماغ” اور ہیرے جیسی صلاحیت کو کھلے دل سے گلے لگا لیا۔]

۳.ریاض ریفائنری میں ملازمت اور آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی:

سعودی عرب کی ریاض آئل ریفائنری میں جب جدید ڈیجیٹل کنٹرول سسٹم (DCS) کی تنصیب کا مرحلہ آیا، تو ڈاکٹر راشد انصاری نے وہاں اپنی کیمسٹری اور ریاضی کی صلاحیتوں کا ایسا شاندار جوہر دکھایا کہ اس پورے عملی پروسیس کو ایک جامع مقالے (Thesis) کی شکل دے ڈالی۔ آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی (Curtin University) نے ان کے اس پریکٹیکل اور تحقیقی کام پر انہیں ڈیجیٹل کنٹرول سسٹمز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا۔

۴.ریاض ریفائنری میں شاندار اور ریکارڈ تنخواہ (۱۹۹۴-۹۵)
جب انہوں نے پی ایچ ڈی کا یہ معرکہ سر کیا، تو عین اسی دوران (۱۹۹۴-۹۵ کے لگ بھگ) ریاض آئل ریفائنری میں کیمیکل انجینئر کی آسامیاں نکلیں۔ ڈاکٹر راشد انصاری کی بے مثال تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں فوری طور پر شاندار پوزیشن پر رکھ لیا گیا۔
دلچسپ اور قابلِ فخر بات یہ ہے کہ اس وقت ان کی تنخواہ 35 ہزار ریال ماہانہ مقرر کی گئی تھی—جو کہ اس پورے ادارے (ریاض ریفائنری) کی ٹاپ موسٹ سیلری (سرفہرست تنخواہ) تھی۔ یہ ان کی انتھک محنت اور خداداد صلاحیت کا وہ صلہ تھا کہ جو نظام انہیں اپنے ملک میں دھکے دے رہا تھا، باہر کی دنیا نے انہیں اپنے سر کا تاج بنا لیا۔
۵.عالمی پذیرائی: “Who’s Who” (ہو از هو) کے سو عالمی دماغوں میں شمولیت
ڈاکٹر راشد انصاری کی علمی قابلیت کا اعتراف صرف کمپنیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انہیں بے پناہ پذیرائی ملی۔ دنیا کی 100 منتخب ترین اور بااثر شخصیات پر مبنی شہرہ آفاق عالمی کتاب “Who’s Who” (ہو از ہو) میں ان کا نام باقاعدہ شامل کیا گیا، اور اس معتبر فہرست میں ان کا نمبر تقریباً بیسواں یا تیسواں بنتا تھا۔ یہ کسی بھی پاکستانی سائنسدان اور انجینئر کے لیے ایک تاریخی اور عظیم بین الاقوامی اعزاز تھا۔

۶.سادگی کی انتہا:
بسکٹ اور پیپسی کا ناشتہ
اتنے بڑے عالمی اعزاز، اعلیٰ ترین عہدے اور بھاری تنخواہ کے باوجود ڈاکٹر صاحب کی عاجزی اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ دنیاوی نمود و نمائش سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا روزمرہ کا ناشتہ صرف بسکٹ اور پیپسی کا ایک کین ہوتا تھا۔ جب وہ آسٹریلیا اپنی ڈگری یا اعزاز لینے گئے، تو وہاں بھی پروٹوکول کی بڑی بڑی ضیافتوں کے بجائے انہوں نے بسکٹ اور پیپسی پر ہی اکتفا کیا۔

۷.پی ایچ ڈی: ایک “پھرا ہوا دماغ”
ایک روز جب وہ ریاض میں اپنے علمی مدارج طے کر کے پہنچے، تو ان کے دیرینہ دوست (انجینیئر نذیر ملک) نے صبح سویرے فون پر رابطہ کیا اور کیفے ٹیریا میں آ کر انہیں پہلی بار “ڈاکٹر صاحب” کہہ کر پکارا۔ ڈاکٹر صاحب نے حیرت اور معصومیت سے پوچھا:
“ملک صاحب! آپ پہلے پاکستانی ہیں جو مجھے اس اعزاز سے پکار رہے ہیں، لیکن یہ بتائیے کہ یہ پی ایچ ڈی اصل میں ہوتی کیا ہے؟”
جب جواب ملا کہ یہ “ڈاکٹر آف فلاسفی” ہے، تو ڈاکٹر راشد انصاری نے اپنے مخصوص قہقہے کے ساتھ جو معنی خیز ترجمہ کیا وہ انہی کا حصہ تھا:
“نہیں ملک صاحب! اس کا اصل مطلب ہے: ‘پھرا ہوا دماغ!

یہ جملہ ان کی پوری شخصیت کا آئینہ تھا؛ وہ عام لوگوں کی دنیا سے کٹ کر علم، فکرمندی اور تحقیق کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والے ایک ایسے دیوانے تھے جنہیں دنیا کی مادی آسائشوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔

۸.ازدواجی زندگی کی تلخ حقیقت اور انسان دوستی
اتنے بڑے ذہین اور سائنسی دماغ رکھنے والے انسانوں کی نجی زندگی اکثر روایتی توازن سے عاری ہوتی ہے۔ ان کی ازدواجی زندگی بھی تناؤ اور تلخی کا شکار رہی۔ رات گئے تین ساڑھے تین بجے گھر لوٹنا، شریکِ حیات کے ساتھ روزمرہ کے تنازعات، اور ایک چین سموکر بیگم کے ساتھ نباہ کرنا ان کے لیے ایک اَن کہی اذیت تھی۔ وہ اکثر اپنے قریبی اور سچے دوست (انجینیئر نذیر ملک) کے پاس آ کر بیٹھتے، دل کا غبار نکالتے اور یہ فلسفہ بیان کرتے کہ دنیا میں اصل جنت وہی انسان پاتا ہے جسے سمجھدار جیون ساتھی مل جائے۔

خلاصہ:
ڈاکٹر راشد انصاری صاحب کا وزٹنگ کارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ دونوں طرف ڈگریوں کے نام لکھتے لکھتے جگہ ختم ہو جاتی تھی۔ ان کے وزٹنگ کارڈ کی اس طویل فہرست کو دیکھ کر ایک معصوم بچی (دوست کی بیٹی) نے برجستہ کہا تھا: “ابو! انکل کو کہیں کہ اب میٹرک بھی کر لیں!” یہ فقرہ دراصل اس بات کا خوبصورت طنز تھا کہ انسان چاہے جتنی مرضی بلند آسمان جیسی ڈگریاں سمیٹ لے، اصل زندگی کی سادگی اور معصومیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔

ڈاکٹر راشد انصاری جیسے لوگ اس بات کا استعارہ ہیں کہ اگر ہیرے کو اپنے گھر میں قدر نہ ملے، تو وہ باہر جا کر اپنی چمک سے پوری دنیا کو منور کر لیتا ہے۔ “Who’s Who” کی عالمی فہرست میں جگہ بنانے والا اور ۱۹۹۴-۹۵ میں 35 ہزار ریال کی ریکارڈ تنخواہ حاصل کرنے والا یہ درویش صفت سائنسدان علم کا پیکر، حبِ وطن کی تصویر اور ایک بے باک محقق تھا، جس کی یادیں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گی۔

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک، سرگودھا
Please visit us at
www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333