November 7, 2026

پاکستان کو گالی اور افغانستان میں امریکیوں کے مددگار کون تھے؟ میرا سوال از قلم غنی محمود قصوری

IMG-20251019-WA0107(5)

پاکستان کو گالی اور افغانستان میں امریکیوں کے مددگار کون تھے؟ میرا سوال

از قلم غنی محمود قصوری

افغانستان کی سر زمین صدیوں سے عالمی طاقتوں کی آمدورفت، سلطنتوں کے عروج و زوال، بیرونی مداخلتوں اور اندرونی مزاحمتوں کی گواہ رہی ہے
کبھی برطانیہ یہاں اپنی طاقت آزمانے آیا،کبھی سوویت یونین نے فوجیں اتاریں اور پھر 2001 میں امریکہ دنیا کی جدید ترین فوجی طاقت کے ساتھ افغانستان میں داخل ہوا جو ہماری آنکھو دیکھا حال ہے

میں اپنے افغان بھائیوں سے کچھ سوال کرتا ہوں کہ جب امریکہ افغانستان میں داخل ہوا تو اس کا ساتھ کس نے دیا؟
بیس سال تک امریکی افواج کے ساتھ کون کام کرتا رہا؟ افغان معاشرے کے کن طبقات نے امریکی نظام سے فائدہ اٹھایا؟
تو پھر آج آپ افغانستان میں موجودہ جاری ہونے والی خانہ جنگی کو پاکستان سے کیوں منسوب کرتے ہیں؟
آپ پاکستان میں پناہ لینے کے باوجود میرے ملک پاکستان کو گالی کیوں دیتے ہیں؟
امریکی فوجیوں اور افغان شہریوں کے درمیان کس نوعیت کے تعلقات قائم ہوئے؟
2021 میں امریکی انخلا کے وقت کتنے افغان وہاں سے نکالے گئے آج وہ کہاں آباد ہیں۔اور اب افغانستان میں طالبان کے خلاف کون سی مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں؟

ان سوالات کے جواب تلاش کئے جائیں تو افغانستان کی سیاست، نسلی تقسیم، قبائلی اثرورسوخ، بیرونی طاقتوں کے مفادات اور افغان عوام کی مشکلات کی ایک پیچیدہ تصویر سامنے آتی ہے

نائن الیون حملوں کے بعد 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ نے افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی تو اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی
امریکہ نے طالبان حکومت کے خلاف مقامی اتحادی تلاش کئے اور اسے سب سے اہم مدد شمالی اتحاد سے ملی تھی
شمالی اتحاد کوئی ایک قبیلہ نہیں تھا بلکہ مختلف نسلی اور سیاسی گروہوں کا اتحاد تھا۔ اس میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور دیگر طالبان مخالف دھڑے شامل تھے
احمد شاہ مسعود، محمد فہیم، عبدالرشید دوستم، کریم خلیلی اور اسماعیل خان اس اتحاد کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور اب بھی بہت سے لوگ ان میں سے ہی افغان طالبان کے خلاف لڑ ڑہے ہیں

امریکہ نے فضائی حملوں، انٹیلی جنس، سی آئی اے اور اسپیشل فورسز کے ذریعے شمالی اتحاد کی مدد کی تو 9 نومبر 2001 کو مزار شریف طالبان کے ہاتھ سے نکل گیا اور نومبر میں ہی میں کابل پر بھی طالبان کا کنٹرول ختم ہو گیا اور پھر رفتہ رفتہ پورا افغانستان امریکہ کے ہاتھ میں چلا گیا
بیس سالہ امریکی موجودگی سے افغانوں کا ایک بڑا طبقہ امریکی نظام سے وابستہ ہو گیا
اس دوران افغان نیشنل آرمی، پولیس، انٹیلی جنس اداروں، سرکاری محکموں، مترجمین، ڈرائیوروں، ٹھیکیداروں، صحافیوں، سماجی کارکنوں، غیر سرکاری تنظیموں اور خواتین کی تعلیم و حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد امریکی حمایت یافتہ نظام سے وابستہ ہو گئی جن میں سے
کسی نے امریکی فوج کے لئے ترجمانی کی، کسی نے فوجی اڈوں پر کام کیا، کسی نے گاڑیاں چلائیں، کسی نے معلومات فراہم کیں، کسی نے تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لیا اور کسی نے نئی افغان حکومت کے اداروں میں ملازمت اختیار کی مطلب روزی روٹی کیلئے اپنے اوپر مسلط کافر کی غلامی کرنی پڑی
افغان طالبان انڈر گراونڈ ہو گئے اور پاکستان کی مدد سے امریکہ سے لڑتے رہے جن کی مخبریاں بھی وہی لوگ کرتے رہے جو امریکہ کے ملازم بنے

امریکی موجودگی کے دوران افغان معاشرے کا ایک طبقہ تعلیم، ملازمت، شہری آزادیوں اور خواتین کی سماجی شرکت کے نئے امکانات سے وابستہ ہوا تو دوسری طرف جنگ، بدعنوانی، شہری ہلاکتوں، امریکی فوجی کارروائیوں اور افغان حکومت کی کمزوریوں نے عوام کے ایک بڑے حصے میں ناراضی بھی پیدا کی

امریکی فوجی موجودگی کے دوران تعلقات صرف افغان خواتین اور امریکی مردوں تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض افغان مردوں، خصوصاً امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے مترجمین اور افغان کمانڈوز، کے امریکی خواتین فوجیوں یا امریکی شہری خواتین سے بھی تعلقات قائم ہوئے اور بعض نے شادیاں بھی کیں

برطانوی اخبار دی گارڈین نے 29 نومبر 2013 کو افغان مترجم ضیاء اور امریکی نیشنل گارڈ کی فوجی خاتون میری این رولنز کی کہانی شائع کی
دونوں کی ملاقات افغانستان میں ہوئی دوستی محبت میں بدلی اور 2011 میں انہوں نے شادی کر لی ان کا ایک بیٹا بھی تھا لیکن ضیاء کو امریکہ منتقل ہونے کے لیے ویزے کے حصول میں طویل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

اسی رپورٹ میں افغان مترجم کریم اور امریکی فوجی ڈینیئل بینیٹ کے تعلق اور منگنی کا ذکر بھی موجود تھا

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی فوجی موجودگی کے دوران افغان مردوں اور امریکی خواتین کے درمیان بھی ذاتی تعلقات اور شادیاں قائم ہوئیں
اسی طرح افغان خواتین اور امریکی مردوں کے درمیان بھی بعض انفرادی شادیاں اور تعلقات سامنے آئے
افغان طالبان اللہ اور دیگر ممالک خاص کر پاکستان کی مدد سے ڈٹے رہے اور
15 اگست 2021 کو طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا جس سے افغان حکومت کا نظام بکھر گیا اور کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد ملک سے نکلنے کے لیے جمع ہو گئے جو دنیا نے لائیو دیکھا جس کے ثبوت آج دن تک محفوظ ہیں اور شاید جب تک دنیا قائم رہے وہ شوائد موجود رہینگے

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بڑے پیمانے پر فضائی انخلا کیا
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 124,000 سے زیادہ افغان افراد کو افغانستان سے محفوظ مقامات تک منتقل کیا
یہ تمام افراد امریکہ نہیں گئے تھے بلکہ کئی افراد کو مختلف ممالک میں عارضی طور پر منتقل کیا گیا جہاں ان کی رجسٹریشن اور مذید کارروائی کی گئی

امریکہ پہنچنے والے افغانوں میں سابق افغان حکومت اور فوج سے وابستہ افراد، مترجمین، امریکی اداروں کے مقامی ملازمین، ان کے اہل خانہ اور خطرے سے دوچار دیگر افراد شامل تھے جن میں بچے،بوڑھے ،عورتیں اور ہر عمر کے مرد شامل تھے

امریکہ میں ان افراد کی آمد کے بعد انہیں مختلف فوجی اڈوں اور عارضی مراکز میں رکھا گیا جہاں انکی رجسٹریشن، سکیورٹی جانچ، طبی سہولت، خوراک اور رہائش کے انتظامات کیے گئے
بعد ازاں اہل افراد کو مختلف امریکی ریاستوں میں آباد کرنے کے پروگرام بھی چلائے گئے
کچھ افراد کو خصوصی امیگرنٹ ویزا، کچھ کو پناہ گزینوں کے پروگرام اور کچھ کو عارضی انسانی بنیادوں پر داخلے کی اجازت ملی تھی

پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں ہے 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے بعد تقریباً 32 لاکھ افغان پاکستان آئے بعد میں خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور، 2001 کے بعد کی جنگ اور اگست 2021 کے بعد بھی مذید 2 لاکھ افغان شہری پاکستان منتقل ہوتے رہے

پاکستان میں مقیم افغانوں کی قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں
کچھ کے پاس پروف آف رجسٹریشن یعنی پی او آر کارڈ ہے کچھ کے پاس افغان سٹیزن کارڈ، کچھ ویزا پر ہیں اور کچھ غیر قانونی طور پر مقیم رہے ہیں

پاکستان کی نسبت امریکہ میں آباد افغانوں کی صورت حال مختلف ہے وہاں بھی کچھ مستقل رہائشی ہیں، کچھ پناہ گزین ہیں، کچھ خصوصی امیگرنٹ ویزا رکھنے والے ہیں اور کچھ عارضی انسانی بنیادوں پر داخل ہوئے ہیں
ان کے حقوق اور قانونی حیثیت ان کے امیگریشن اسٹیٹس کے مطابق طے ہوتی ہے
امریکہ نے 2021 میں اپنے سابق ملازمین اور خطرے سے دوچار افغانوں کو نکالنے کے لیے ایک منظم عالمی منتقلی کا انتظام کیا جبکہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کو اپنے ہاں جگہ دی جس کا معاشی، انتظامی اور سماجی بوجھ بھی اٹھایا

15 اگست 2021 کے بعد طالبان مخالف کئی مسلح تنظیمیں وجود میں آئیں
ان میں سب سے نمایاں دو نام نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ ہیں

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ NRF کی قیادت احمد مسعود کے پاس ہے
یہ تنظیم 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سامنے آئی
اس کے ارکان میں سابق افغان فوجی، سابق سرکاری اہلکار اور طالبان مخالف افراد شامل ہیں
اس کی افرادی قوت میں تاجک نسلی پس منظر رکھنے والے افراد نمایاں ہیں خاص طور پر پنجشیر اور شمالی افغانستان کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ

افغانستان فریڈم فرنٹ AFF کی قیادت جنرل یاسین ضیا کے پاس ہے جو سابق افغان فوج کے سربراہِ عملہ رہ چکے ہیں
اس تنظیم میں بھی سابق افغان فوج اور سکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد نمایاں ہیں
یہ تنظیم طالبان کے خلاف گھات لگا کر حملوں، چوکیوں پر کارروائیوں اور محدود مسلح جھڑپوں میں ملوث ہے

اس کے علاوہ افغانستان لبریشن موومنٹ، پیپلز سوورینٹی فرنٹ، نیشنل موبلائزیشن فرنٹ، نیشنل بیٹل فرنٹ اور دیگر چھوٹے گروہ بھی سامنے آتے رہے ہیں ان میں سے بعض کی حقیقی عسکری قوت اور تنظیمی ڈھانچے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے

2026 میں بدخشاں میں ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ کے نام سے ایک گروہ بھی سرگرم ہوا
جولائی 2026 میں اس کے بارے میں رپورٹ ہوا کہ اس نے یفتل سفلی کے ضلعی مرکز پر عارضی قبضہ کیا تھا اسی دوران افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے زیبک کے علاقے میں طالبان کے ساتھ طویل جھڑپوں کی اطلاعات بھی آئیں

یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ گزین EUAA کی فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق یکم اگست 2024 سے 31 جولائی 2025 تک اقوام متحدہ نے مسلح اپوزیشن گروہوں کے 277 حملوں کی تصدیق کی
ان میں 165 حملے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور 55 حملے افغانستان فریڈم فرنٹ سے منسوب ہیں

افغانستان میں داعش خراسان ISKP بھی سرگرم ہے جو ایک شدت پسند جہادی تنظیم ہے جو طالبان اور عام شہریوں دونوں کو نشانہ بنا چکی ہے
اس کا نظریہ اور مقاصد نیشنل ریزسٹنس فرنٹ یا افغانستان فریڈم فرنٹ سے بالکل مختلف ہیں

ACLED
کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق بدخشاں اور ہرات میں سیاسی تشدد میں اضافہ ہوا ہے، بدخشاں میں مقامی آبادی، طالبان کی مرکزی قیادت، کان کنی کے معاملات اور مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات بھی کشیدگی کا سبب بنے ہیں
رپورٹ کے مطابق طالبان کی مجموعی سکیورٹی گرفت اب کمزور ہو چکی ہے اور مختصر مدت میں ان کے اقتدار کو ملک گیر مسلح مزاحمت سے بڑا خطرہ لاحق ہونے کا امکان ہے

افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے مقامی گروہوں کو استعمال کرتی رہی ہیں
2001 میں امریکہ نے طالبان مخالف افغان دھڑوں کا ساتھ لیا بیس سال تک ایک حکومت، فوج اور ادارے کھڑے کیے گئے
ہزاروں افغان اس نظام سے وابستہ ہوئے اور پھر جب امریکی افواج واپس گئیں تو وہی نظام چند دنوں میں بکھر گیا
کچھ افغان امریکہ منتقل ہو گئے کچھ دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور بہت سے لوگ افغانستان ہی میں رہ گئے

آج طالبان مخالف گروہ دوبارہ ہتھیار اٹھا رہے ہیں مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ان گروہوں کے پاس صرف بندوق ہے یا افغانستان کے مستقبل کے لیے کوئی متفقہ سیاسی منصوبہ بھی ہے؟
کیا وہ ایک ایسی حکومت قائم کر سکیں گے جس میں پشتون، تاجک، ازبک، ہزارہ اور دیگر تمام قومیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں؟
کیونکہ موجودہ افغان رجیم میں صرف ایک خاص طبقے ہو ہی عہدے دیئے گئے ہیں باقی لوگ مجبوراً ہتھیار اٹھانے پر اترے ہیں
کیا خواتین کی تعلیم، شہری آزادیوں، آئین، انتخابات اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے گا؟

افغانستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہاں کون حکومت کرے گا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں حکومت کس اصول پر قائم ہو گی؟
اگر ایک گروہ دوسرے کو دبانے کے لئے اقتدار حاصل کرے گا تو جنگ کا چکر ختم نہیں ہو گا
اگر بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے افغان گروہوں کو استعمال کرتی رہیں گی تو افغان عوام کی قربانیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا

افغانستان کو کسی نئے امریکی قبضے، کسی نئی بیرونی سرپرستی یا کسی نئی نسلی بالادستی کی نہیں بلکہ ایک ایسے قومی سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں تمام افغان شہریوں کو برابر کا مقام حاصل ہو

افغانستان کے عوام نے سلطنتوں کی جنگیں بھی دیکھی ہیں، بیرونی قبضے بھی، خانہ جنگی بھی اور طالبان کی حکومت بھی
اب وقت ہے کہ بندوق کے بجائے قانون، انتقام کے بجائے انصاف اور نسلی تقسیم کے بجائے قومی وحدت کو راستہ دیا جائے
اور پاکستان پر الزام اور گالی کی بجائے اصل حل نکالا جائے