روہڑی آغا عبدل جبار کے مطابق: میر شیراز خان کھوسو پر خواتین پر تشدد کے الزامات بے بنیاد ہیں، حقیقت
روہڑی آغا عبدل جبار کے مطابق: میر شیراز خان کھوسو پر خواتین پر تشدد کے الزامات بے بنیاد ہیں، حقیقت کچھ اور ہے: ایڈووکیٹ سراج خان کھوسو
روہڑی (نامہ نگار) روہڑی میں گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر میر شیراز خان کھوسو کے خلاف کھوسو برادری کی بعض خواتین کی جانب سے تشدد اور تذلیل کے الزامات عائد کیے جانے کے معاملے پر سینئر قانون دان ایڈووکیٹ سراج خان کھوسو نے روہڑی پریس کلب پہنچ کر سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ سراج خان کھوسو نے کہا کہ میر شیراز خان کھوسو نے کسی بھی خاتون پر تشدد یا مارپیٹ نہیں کی۔ اصل معاملہ دو ماہ قبل کھوسو برادری کے ایک نوجوان کی گمشدگی کا ہے، جو چھوہارا منڈی میں کام کرتا تھا۔ نوجوان کے ورثاء نے روہڑی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روہڑی پولیس نے نوجوان کی گمشدگی کے حوالے سے چھوہارا منڈی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کی، جس میں واضح طور پر ایک نوجوان کو گمشدہ لڑکے کو پیسے دے کر اس کا موبائل نمبر لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نشاندہی پر پولیس نے شک کی بنیاد پر منڈی میں کام کرنے والے مزدوروں سے پوچھ گچھ کی، جس دوران بعض خواتین سے بھی معلومات حاصل کی گئیں اور خواتین نے کچھ افراد کے نام بتائے۔
ایڈووکیٹ سراج خان کھوسو کے مطابق خواتین کی جانب سے نام بتانے پر ان کے اپنے ہی گھر کے مردوں نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا اور اعتراض کیا کہ انہوں نے دوسرے لوگوں کے نام کیوں لیے، کیونکہ اب پولیس بھی ان سے پوچھ گچھ کرے گی اور متعلقہ افراد بھی انہیں جواب دہ بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض شرپسند عناصر مقدمے کا رخ تبدیل کرنے اور میر شیراز خان کھوسو کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے خواتین پر تشدد کے بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں، جو درست نہیں ہیں۔
سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ کھوسو برادری کے دونوں فریق میر شیراز خان کھوسو کے حوالے سے ایک موقف رکھتے ہیں، تاہم گمشدہ نوجوان کے معاملے میں پولیس اپنی تحقیقات کر رہی ہے۔ اگر کوئی بھی شخص اس جرم میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی معزز شہری کے خلاف خبر یا الزام نشر کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق کی جائے تاکہ کسی کی عزت اور ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔