October 31, 2026

​سکھر میں اعجاز علی بلوچ مشھور بلڈر بزنس مین اور سینئر وکیل هاءکورٹ کے آفیس میں ایف بی آر کے

IMG-20261031-WA0184

​سکھر میں اعجاز علی بلوچ مشھور بلڈر بزنس مین اور سینئر وکیل هاءکورٹ کے آفیس میں ایف بی آر کے چھاپے اور تاجروں کو ہراساں کرنے کیخلاف معروف ، تاجر برادری، بار ایسوسی ایشنز اور آل سکھر تاجر اتحاد کا شدید احتجاج

سکھر(بیورورپورٹ)بالائی سندھ میں اس وقت شدید تناؤ اور ہلچل مچ گئی ہے جب قانونی اداروں، تاجر فیڈریشنز اور انجمن تاجران نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ریجنل ٹیکس آفس (RTO) سکھر کی جانب سے نیو سکھر سٹی ہاؤسنگ اسکیم (5 اسٹار بلڈرز) کے کاروباری دفاتر پر کیے گئے متنازعہ چھاپے اور کارروائی کے خلاف بھرپور مذمت کی گٸی۔​اس کارروائی کے دوران کاروباری ریکارڈ، الاٹیز کی فائلیں، رسید بکس اور الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے جانے پر وکلا تنظیموں اور تاجر رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، اور اب اس میں تاجر برادری نے بھی عملی طور پر قدم رکھ دیا ہے۔​ اعجاز علی بلوچ ایک سینئر وکیل ہیں اور مشہور بلڈر و بزنس مین ہیں، ان کے خلاف اس قسم کی کارروائی کرنا اور میڈیا ٹرائل کرنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔​آل سکھر تاجر اتحاد کا ہنگامی اجلاس اور احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان ​اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دباؤ میں اس وقت اہم موڑ آیا جب آل سکھر تاجر اتحاد کا ایک اہم اجلاس صدر میر عبد الرحمٰن مینگل کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔​مینگل ہاؤس کے ترجمان کے مطابق، اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو بلاجواز ہراساں کیے جانے سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ان مسائل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ان ناانصافیوں اور دباؤ کے خلاف آئندہ اجلاس میں بھرپور احتجاج اور تحریک کے لیے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔​اصل تنازعہ اور قانونی چیلنج ​یہ سارا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب آر ٹی او سکھر کے اہلکاروں نے 5 اسٹار بلڈرز کے دفاتر پر چھاپہ مارا۔ یہ ایک رجسٹرڈ پارٹنرشپ فرم ہے جس میں پانچ شراکت دار شامل ہیں، اور معروف سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ میاں اعجاز علی بلوچ اس کے پرنسپل آفیسر اور مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔​متاثرہ فریقین اور بار ایسوسی ایشنز کا مؤقف ہے کہ یہ چھاپہ اختیارات سے تجاوز اور قانونی طریقہ کار کے صریحاً خلاف تھا۔ اس کارروائی کے خلاف اور ضبط شدہ سامان کی غیر قانونی حوالگی کے خلاف باضابطہ آئینی درخواست معزز سندھ ہائیکورٹ سرکٹ بنچ سکھر / کراچی میں دائر کی جا چکی ہے۔​اہم شخصیات، ادارے اور ان کی طرف سے ارسال کردہ خطوط و قراردادیں
​اس پورے معاملے پر ملک اور صوبے کی اعلیٰ ترین شخصیات، وفاقی وزراء، ٹیکس حکام اور بار کونسلز کو باضابطہ تحریری درخواستیں اور احتجاجی خطوط بھیجے گئے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔​1. وفاقی سطح پر ارسال کردہ خطوط
​وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو (اسلام آباد): سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کی جانب سے خط بھیجا گیا، جس میں چھاپے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ضبط شدہ ریکارڈ کی جانچ اور غیر ضروری مواد کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔​وفاقی وزیر برائے داخلہ (اسلام آباد)خط کے ذریعے واقعے سے آگاہ کرتے ہوئے تاجروں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی استدعا کی گئی۔
​چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR)، اسلام آباد: ایف بی آر چیئرمین کو خط لکھ کر سی سی ٹی وی فوٹیجز محفوظ بنانے، تلاشی کے وارنٹ کی جانچ کرنے اور ذمہ دار عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔​2. صوبائی اور ضلعی انتظامیہ ​وزیراعلیٰ سندھ (کراچی) وزیراعلیٰ کو مطلع کیا گیا کہ وہ اس معاملے کا صوبائی دائرہ اختیار میں جائزہ لیں اور وفاقی ٹیکس حکام سے غیر جانبدارانہ انکوائری کے لیے رابطہ کریں۔​صوبائی وزیرِ داخلہ، حکومتِ سندھ (کراچی) خط بھیج کر کاروباری تحفظ کو یقینی بنانے کی درخواست کی گئی۔​3. ریجنل ٹیکس آفس اور فیڈریشن آف چیمبرز (FPCCI) ​چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، آر ٹی او سکھر (جناب ضیغم عباس): سندھ ہائیکورٹ بار اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبد المہیمن خان کی جانب سے باضابطہ خطوط لکھے گئے۔ ایف پی سی سی آئی نے اس بات کی شدید مذمت کی کہ ٹیکس کے نفاذ کے روایتی دوروں کو میڈیا میں “چھاپے” کے طور پر پیش کر کے تاجروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جس سے کاروباری اعتماد مجروح ہوتا ہے۔​کمشنر ان لینڈ ریونیو، سکھر زون: غیر قانونی طور پر روکے گئے ریکارڈ کو فوری طور پر واپس کرنے کے مطالبات پیش کیے گئے۔​4. قانونی و عدلتی تنظیمیں ​وائس چیئرمین، سندھ بار کونسل (کراچی)خط ارسال کیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی وکیل یا کاروباری شخصیت کے پروفیشنل امور کو قانونی اصولوں اور حقائق کے بغیر متنازعہ نہ بنایا جائے اور وکلاء کے وقار کا مکمل تحفظ کیا جائے۔​ اعجاز علی بلوچ اور وکلاء برادری کا مؤقف ​سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے صدر قربان علی ملانو، جنرل سیکرٹری نور حسن ملک، اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے صدر علی احمد خان و جنرل سیکرٹری ذوالفقار علی ملانو کی قیادت میں بارز نے متفقہ طور پر درج ذیل مؤقف اپنایا ہے۔​کاروباری حیثیت کا تناظر: بار رہنماؤں نے واضح کیا کہ اعجاز علی بلوچ ایک رجسٹرڈ پارٹنرشپ فرم کے مینیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، لہذا کسی بھی کارروائی کو سیاسی یا یکطرفہ رنگ دینے کی بجائے قانونی دائرہ کار میں جانچا جانا چاہئے۔​میڈیا ٹرائل کی مذمت: تمام فورمز نے اس بات پر زور دیا کہ حتمی فیصلے اور تحقیقات سے پہلے کسی بھی بزنس مین یا وکیل کا میڈیا ٹرائل کرنا سراسر ناانصافی ہے، جس سے معاشرے میں خوف اور بداعتمادی پھیلتی ہے۔​آل سکھر تاجر اتحاد کا عزم: تاجر اتحاد کے اجلاس کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سکھر کے تاجر اب ایف بی آر کی مبینہ ہراسانی کے خلاف عملی احتجاجی تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔